qaumikhabrein
Image default
uncategorized

فلسطین کے لئے اپنا سنہرا کیرئر قربان کرنے کو تیار ہیں۔بلی ایلیش۔۔

موسیقی کی دنیا میں کچھ فنکار ایسے ہوتے ہیں جو صرف گانوں سے نہیں بلکہ اپنے موقف سے بھی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ بلی ایلیش انہی چند نڈر آوازوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے شہرت اور دولت کو ضمیر کی قیمت پر قبول کرنے سے انکار کر دیا۔انکا کہنا ہیکہ وہ فلسطین کے حق میں  آواز اٹھاتی رہیں گی خواہ انکو اسکی کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

ایک مہنگا موقف

حال ہی میں بلی ایلیش نے اپنے کیریئر کا شاید سب سے بڑا اور ذاتی طور پر مہنگا سیاسی اعلان کیا۔ انہوں نے عوامی طور پر کہا کہ اسرائیل نواز امریکی ارب پتی افراد ان کے پیشہ ورانہ مقام کو سرگرمی سے تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ دباؤ فلسطین کے بارے میں ان کے موقف کو ذرہ برابر بھی نہیں بدلے گا۔

یہ کوئی معمولی بیان نہیں تھا۔ جب کوئی فنکار یہ کہے کہ طاقتور اور دولت مند لوگ اس کی صنعت میں اس کے خلاف منظم طریقے سے کام کر رہے ہیں، تو اس کے لیے بے پناہ جرأت درکار ہوتی ہے۔ ایلیش نے نہ صرف یہ الزام لگایا بلکہ اس کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹی رہنے کا اعلان بھی کیا۔

آسکر تقریب میں بلی ایلش اور رامی یوسف نے فلسطین سے اظہسر یکجہتی کیا

بلی ایلیش کون ہیں؟

بلی ایلیش 18 دسمبر 2001 کو لاس اینجلس، امریکہ میں پیدا ہوئیں۔ محض 13 سال کی عمر میں انہوں نے اپنا پہلا گانا “Ocean Eyes” ریلیز کیا جو راتوں رات وائرل ہو گیا۔ 2020 میں صرف 18 سال کی عمر میں انہوں نے گریمی ایوارڈز کے 4 بڑے ایوارڈ — بہترین البم، بہترین گانا، بہترین نئی آرٹسٹ اور ریکارڈ آف دی ایئر — ایک ساتھ جیت کر تاریخ رقم کی۔ یہ کارنامہ اس سے پہلے موسیقی کی تاریخ میں کسی نے انجام نہیں دیا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جیمز بانڈ فلم “No Time to Die” کا تھیم گانا گایا اور اس پر آسکر ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ آج وہ اپنی نسل کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی اور تنقیدی طور پر سراہی جانے والی فنکاروں میں شمار ہوتی ہیں۔

دباؤ کا منظم نمونہ

کئی فنکاروں نے حالیہ برسوں میں ایک ایسے حالات کا ذکر کیا ہے جس میں فلسطین پر کھل کر بولنے والوں کو صنعتی تعلقات، اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، برانڈ پارٹنرشپس اور میڈیا کوریج کے ذریعے مالی اور شہرتی نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ یہ دباؤ خاموشی سے کام کرتا ہے لیکن اس کے اثرات بہت حقیقی ہوتے ہیں۔

ہالی وڈ اداکار مارک رفیلو اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ انہیں پرواہ نہیں اگر فلسطین کی وجہ سے ان کا کیریئر ختم ہو جائے۔ لیکن بلی ایلیش کا معاملہ اس لیے مختلف اور زیادہ اہم ہے کیونکہ وہ موسیقی کی صنعت کے سب سے بڑے تجارتی پلیٹ فارم سے یہ بات کہہ رہی ہیں۔ جتنا بڑا فنکار، اتنا بڑا خطرہ اور اتنی بڑی قربانی۔

ضمیر بمقابلہ کیریئر

بلی ایلیش کی یہ جرأت اس لیے بھی قابل توجہ ہے کیونکہ وہ اپنے مخالفین کی طاقت سے بخوبی واقف ہیں۔ جن لوگوں کو وہ اپنا مخالف بتا رہی ہیں، ان کے پاس واقعی اس قیمت کو بہت حقیقی بنانے کے وسائل موجود ہیں۔ اس کے باوجود انہوں نے خاموشی کا راستہ نہیں چنا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو آوازیں طاقت کے سامنے سچ بولتی ہیں، انہیں وقتی نقصان ضرور اٹھانا پڑتا ہے لیکن وہی آوازیں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنتی ہیں۔ بلی ایلیش نے اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا کر یہ ثابت کیا ہے کہ موسیقی صرف تفریح نہیں، بلکہ یہ ضمیر کی آواز بھی ہو سکتی ہے۔

Related posts

Maryland Blackjack: A Practical Overview

cradmin

Minimum Deposit Casinos Online: A Comprehensive Guide

cradmin

Spinz kokemuksia: Asiantuntijan opas online-rulettipeliin

cradmin

Leave a Comment