
آسام میں اسملی انتخابات مرحلے وار طریقے سے جاری ہیں۔ بی جے پی کی اعلیٰ لیڈر شپ آسام میں اپنی سرکار بچانےکے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے۔ این آر سی معاملے پر بی جے پی کی حکومت کو عوام کے غصے کا سامنا ہے۔ کانگریس اور بدر الدین اجمل کے اتحاد کے حق میں ہوا بنتی دیکھ کر بی جے پی لیڈروں کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بی جے پی لیڈروں نے بدرالدین اجمل کو نشانے پر لے رکھا ہے تاکہ ہندو ووٹروں کو مذہب کے نام پر یکجا ککیا جاسکے۔ میں نے یہ سب تمہید اس لئے باندھی ہیکہ تاکہ چناؤ کے تعلق سے بد عنوانی کے جو دو واقعات رونما ہوئے ہیں انکا پس منظر سمھا جاسکے۔ اقتدار بچانے کے لئے بی جے پی آسام میں کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے۔

دوسرے مرحلے کی پولنگ کے کچھ گھنٹوں بعد کا وہ واقعہ تو لوگوں کے ذہن میں تازہ ہوگا جب بی جے پی کے ایک رکن اسمبلی کی کار سے ایک الیکٹرانک ووٹنگ مشین ای وی ایم ملی تھی۔ لوگوں نے کار کو گھیر لیا تھا۔ کار میں ای وی ایم ہونے کا ویڈیو سوشل پلیٹ فارموں پر خوب وائرل ہوا تھا۔ چناؤ کمیشن اور بی جے پی نے شروع میں معاملے کو دبانے کی بہت کوشش کی تھی۔ کہا گیا تھا کہ نجی کار کے ذریعے ای وی ایم مقررہ مقام تک پہونچائی جارہی تھی لیکن بعد میں حقیقت کھل گئی کہ ای وی ایم کو ایم ایل اے کی کار میں کسی خفیہ منصوبے کے تحت کہیں لےجایا جارہا تھا۔ آج ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ وہ بھی بڑا دلچسپ اور سنانی خیز ہے۔ ایک بوتھ پر صرف 90 ووٹر تھے لیکن آپکو معلوم ہیکہ اس بوتھ پر وووٹ کتنے پڑے۔ جناب اس بوتھ پر 171 ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔ اب کیسے پڑے ۔ اس میں کس کا کھیل تھا۔ یہ تو بعد میں پتہ چلےگا لیکن فی الحال تو چناؤ کمیشن نے اس بوتھ کے ذمہ دار پانچ چناؤ اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔ یعنی دھاندھلی کی کوششیں زور و شور کے ساتھ جاری ہیں۔ دھاندھلی کرنے کے مواقع تو بر سر اقتدار طبقے کو ہی زیادہ دستیاب ہوتے ہیں۔

