qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا۔ شبیہ تابوت  گرفتار بھی ہو چکی ہے

 امروہا کے ماتمی جلوسوں اور دیگر مواقع پر برامد ہونے والا تابوت بھی اپنی نوعیت کے اعتبار سے  دیگر شہروں میں برامد ہونے والے تابوتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ جانکاری یقیناً دلچسپی سے خالی نہیں ہیکہ چھ محرم کو  عزاخانہ مسماۃ نورن سے برامد ہونے والے جلوس کے تابوت کا سائز باقاعدہ سرکاری ریکارڈ میں درج ہے۔  اس معاملے میں بزرگوں سے سینہ بہ سینہ آنے  والی روایت بھی  کم دلچسپ نہیں ہے۔ 

قصہ برطانوی دور کا بتایا جاتا ہے۔ کچھ غیر شیعہ برادران نے ایک غلط فہمی کا شکار ہو کر تابوت کے خلاف مقامی انتظامیہ سے شکایت کی تھی۔  موصولہ شکایت  پر کاروائی کرتے ہوئے مقامی  پولیس اور سول حکام نے تابوت کو تحویل میں لے لیا تھا۔  تابوت کے ساتھ ساتھ  شیعہ قوم کی متعدد مقتدر شخصیات بھی پولیس  کی حراست میں رہیں۔  معاملہ کی سماعت کے دوران تابوت اور زیر حراست افراد کو  جج کے سامنے پیش کیا گیا۔  شیعہ فریق کے بیانات ریکارڈ ہوئے اور جج نے  فریق  ثانی کی شکایت کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خارج کردیا۔ اسی دوران جج کے حکم  پر تابوت کی پیمائش ہوئی اور اسکے سائز کو سارکاری  ریکارڈ میں درج   کیا گیا ۔ مسماۃ نورن کے عزا خانے   سے برامد ہونے والے چھ تاریخ کےجلوس میں  شامل موجودہ تابوت  میں  زیر حراست رہے تابوت کی  کچھ لکڑیاں استعمال کی گئی ہیں ۔ بقیہ عزاخانوں سے برامد ہونے والے جلوسوں کے تابوت اس سے چھوٹے اور مختلف سائز  کے ہوتے ہیں۔

تابوت،   ذولجناح اور بعض علموں کے پرچم  خاص طور سے تیار نہایت سرخ محلول سے رنگے جاتے ہیں۔ تابوت اور ذلجناح کی چادر  کو رنگنے کا کام بھی کچھ مخصوص افراد ہی انجام دیتے ہیں۔ چھ جلوسوں کے تابوت اور ذولجناح تیار کرنے کی ذمہ داری دو خاندانوں میں تقسیم رہی ہے۔ محلہ پچدرہ، سدو اور قاضی زادہ کے عزاخانوں سے برامد ہونے والے تابوت اور ذوولجناح مرحوم سیادت مدد  تیار کرتے تھے۔انکے انتقال کے بعد انکے فرزند عبادت مدد اور انکے انتقال کے بعد اب  عبادت مدد کے فرزند دانش مدد اور انکے برادران یہ ذمہ داری نبھاتے ہیں جبکہ  چار محرم، چھ محرم اور سات محرم کے جلوسوں کے تابوت اور ذولجناح تیار کرنے کی ذمہ داری  مرحوم نقی رضا اور کاظم رضا کا خانوادہ انجام دیتا تھا۔  اس خانوادے سے تعلق رکھنے والے حسن رضا مرحوم  نے طویل عرصے تک یہ ذمہ داری ادا کی۔ مرحوم حسن رضا کے چھوٹے فرزند اور شاعر اہل بیت حسنین رضا اور انکے چچا زاد بھائی مظفر محسن اب یہ کام انجام دیتے ہیں۔ حسنین رضا بچپن سے ہی اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ حسنین  نے اپنے والد کی حیات میں ہی یہ ذمہ داری  پوری طرح سنبھال لی تھی۔ انکے انتقال کو سترہ برس ہو گئے۔ اس طرح لگ بھگ باون برس سے حسنین رضا اور  مظفر محسن تابوت اور ذولجناح کی چادر کو گلگوں کرنے  کا کام انجام دے رہے ہیں۔

Related posts

امروہا.۔کانگریس امیدوار عین موقع پر پارٹی چھوڑ گیا۔ کیا ہے اصل کہانی۔؟

qaumikhabrein

طالبان نے کہا شیعہ سنی اتحاد دشمنوں کو پسند نہیں

qaumikhabrein

امروہا کے لئے اعزاز کا باعث بنے حکیم صباحت اللہ

qaumikhabrein

Leave a Comment