qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

غزہ جنگ کی ہولناکی بیان کرنے والی صحافی فاطمہ  شہید

غزہ جنگ کی ہولناکیوں کو تصویروں  کے ذریعے بیان کرنے والی فوٹو صحافی فاطمہ حسونہ اسرائیلی  بمباری میں شہید ہو گئیں۔ پچیس سالہ فاطمہ  کے ساتھ انکے خاندان کے دس افراد بھی شہید ہو گئے۔ ان میں انکی ایک حاملہ بہن بھی شامل ہے۔ فاطمہ حسونیہ کو جب شہادت نصیب ہوئی اس سے چند گھنٹوں قبل فرانس کے کان فلم فیسٹیول میں انکی زندگی پر بنی ڈاکیو مینٹری فلم کو نمائش کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔فاطمہ حسونہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران نہ صرف بمباری اور تباہی کے مناظر کو کیمرے میں قید کر رہی تھیں بلکہ وہاں کے لوگوں کی امید، جدوجہد اور زندگی کے لمحات کو بھی دنیا کے سامنے لا رہی تھیں۔

وہ کہا کرتی تھیں  کہ ”اگر میں مروں، تو میری موت بلند ہونی چاہیے، میں صرف ایک فوری خبر نہیں بننا چاہتی، میں چاہتی ہوں کہ میرا کام زندہ رہے، میری تصویریں وقت کو مات دے دیں”۔فاطمہ کو “غزہ کی آنکھ” کہا جاتا تھا، وہ زخمیوں کے قریب رہتی تھیں۔ان کے کیمرے سے نکلنے والی ہر تصویر غزہ کی بقا کی گواہی بن جاتی تھی۔

فاطمہ کے کام کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ ان کی تصاویر “گارڈین” جیسے معروف اخبار شائع کرتے تھے”غزہ، میری عزیز” جیسے عالمی نمائشوں میں  بھی انکی تصویریں پیش کی  جا چکی ہی۔

فلسطین کی وزارت ثقافت نے ان کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “ایک سچا فنکار، لکھاری اور فوٹوگرافر” قرار دیا اور کہا کہ وہ آخری لمحے تک میدان میں رہیں، اور اپنی تصویروں کے ذریعے دنیا کو غزہ کے عوام کی چیخیں اور تکلیف دکھاتی رہیں۔

‘اپنی جان ہتھیلی پر لیکر چلو’ کے عنوان سے فاطمہ حسونہ کی  جد و جہد بھری زندگی پر ایران کے جلا وطن فلم ساز سفیدہ  فارسی نے  ڈاکیو مینٹری فلم بنائی اور کان فلم فیسٹی ول   میں نمائش کے لئے اسے منتخب کیا گیا۔انٹر نیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ آئی ایف جے کے مطابق غزہ پر اسرائلی حملے شروع ہونے کے بعد سے اب تک 157 صحافی اور میڈیا ورکر ہلاک ہو چکے ہیں۔ دیگر آزاد ذرائع کے ہلاک شدہ صحافیوں کی تعداد دو سو بتائی گئی ہے۔

Related posts

ذات برادری پر سمٹی ہوئی سیاست۔۔تحریر سراج نقوی

qaumikhabrein

کرناٹک میں مسلمان اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔

qaumikhabrein

فلسطینیوں نے منایا قیدیوں کا دن۔ہزاروں فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں ہیں قید۔

qaumikhabrein

Leave a Comment