qaumikhabrein
Image default
uncategorized

ایران نے یو این سیکریٹری جنرل کو سنائیں کھری کھری

اقوام متحدہ  میں ایران کے نمائندے سعید اراوانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل  اٹونیو گتریس کو  ایران پر مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے کھری کھری سنائی ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے عالمی ادارے کے دوہرے معیار پر سخت تنقید کی ہے۔ تہران نے اپنے تازہ ترین بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران پر عائد بین الاقوامی دباؤ صریح ناانصافی کے مترادف ہے۔

ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ اور مغربی طاقتیں ایران کے ان دفاعی اقدامات پر مسلسل اسے کٹہرے میں کھڑا کرتی ہیں جو اس نے بیرونی جارحیت کے جواب میں اٹھائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب امریکہ اور اسرائیل ایران کی خودمختاری کے خلاف اشتعال انگیز حملے کرتے ہیں تو دنیا آنکھیں بند کر لیتی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرمیں خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر سعید ایراوانی نے کہا:

ہم پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ جوابی کارروائی نہ کریں، لیکن جب امریکہ ااور اسرائیل ہم پر پہلے حملہ کرتے ہیں تو دنیا اندھی ہو جاتی ہے۔ یہ سفارتی منافقت ہے جسے اب برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی کوئی بھی فوجی کارروائی اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں درج حقِ دفاع کے تحت ہوتی ہے۔ تاہم تہران کا یہ بھی کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ محض چند ممالک کے ہاتھ میں ایک سیاسی ہتھیار بن چکا ہے، جسے مزاحمت کرنے والی اقوام کو مجرم ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ صورتحال عالمی سیاست کی ایک پرانی اور گہری کشمکش کو اجاگر کرتی ہے — یعنی طاقتور ممالک کے لیے الگ اور کمزور ممالک کے لیے الگ اصول۔ ایران کی یہ شکایت نئی نہیں، بلکہ کئی ترقی پذیر اور مسلم ممالک اس دوہرے معیار کا شکوہ کرتے آئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ جیسے عالمی اداروں کی ساکھ اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب انصاف سب کے لیے یکساں ہو — چاہے وہ امریکہ ہو، اسرائیل ہو، ایران ہو، یا کوئی اور ملک۔

Related posts

The Ultimate Guide to 1 Dollar Deposit Casinos

cradmin

Teho Kasino kokemuksia – Asiantuntijan opas

cradmin

cradmin

Leave a Comment