qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

پائلٹ لینے نہیں یورینیم چرانے آیا تھا مگر بری طرح  پٹ کر بھاگا امریکہ۔

 پائلٹ لینے کے لئے امریکہ کے ذریعے چھیڑے گئے آپریشن کی اصل کہانی سامنے آگئی ہے۔ یہ کہانی ایران کے ہاتھوں امریکہ کی تاریخی ہزیمت اور ذلت کی داستان  ہے۔ ایران میں امریکہ کو اپنے خفیہ مشن کی زبردست ناکامی اور رسوائی کا سامنا  دوسری مرتبہ کرنا پڑا ہے۔1980 میں جمی کارٹر کے دور میں امریکہ نےاپنے  سفارتی عملے کو ایرانی طلبا کی قید سے آزاد کرانے کا خفیہ مشن شروع کیا  تھا لیکن ایران کی ریگسان میں اسکے طیارے اور ہیلی کاپٹر تباہ ہو گئے تھے ۔کئی فوجی مارے گئے تھے۔ وہ آپریشن بری طرح ناکام ہوا تھا۔ایران میں امریکی رسوائی کا وہ باب جو 1980میں نا مکمل رہ گیا تھا وہ اب مکمل ہوا جب امریکہ نے پائلٹ کو ریسکیو کرنے کے نام پرٓآپریشن شروع کیا۔ لیکن اس بری طرح سے ناکام ہوا کہ امریکہ کی عسکری تاریخ میں اسکی  مثال نہیں ملتی۔حقیقت یہ ہیکہ امریکہ  نے طیاریوں اور ہیلی کاپٹروں کا لشکر پائلٹ کوریسکیو کرنے کے لئے نہیں بلکہ ایران کا افزودہ یورینیم حاصل کرنے کے لئے شروع کیا تھا۔لیکن سب کچھ ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا۔ بارہ طیارے تباہ ہوئے۔ متعدد کمانڈوز مارے گئے۔ یورینیم تو ہاتھ نہیں  لگا  لیکن ایران کے ہاتھوں ایک بڑی رسوائی اور ذلت ضرور اٹھانا پڑی۔جہاں امریکہ کے طیاروں کا  ملبہ ملا ہے وہ جگہ  اس مقام سے سو کلو میٹر سے زیادہ دور ہے جہاں سے پائلٹ کی موجودگی کے سگنل ملے تھے۔  اس سے ظاہر ہوتا ہیکہ امریکہ کا خفیہ مشن پائلٹ کی بازیابی نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔  جس علاقے میں اسکا فوجی لشکر تباہ ہوا وہ اصفہان کا علاقہ ہے جہاں ایران کی جوہری تنصیبات ہیں۔  امریکہ  افزودہ یورینیم لیکر تنصیبات کو اڑانے کا منصوبہ لیکر آیا تھا ۔لیکن ایرانی جانبازوں نے طیاروں سمیت امریکہ کے خفیہ مشن کو ہی اڑا دیا۔

انسانی باقیات — “کوئی جانی نقصان نہیں” کا دعویٰ کہاں گیا؟

ٹرمپ نے فخر سے اعلان کیا: “not a SINGLE American killed, or even wounded” — ایک امریکی بھی نہیں مرا، ایک بھی زخمی نہیں ہوا۔ لیکن ایران نے تباہ شدہ طیاروں کے ملبے سے انسانی باقیات کی تصاویر جاری کی ہیں۔ یہ باقیات وہاں سے ملیں جہاں امریکہ کہتا ہے کہ “تکنیکی خرابی” کی وجہ سے طیارے “خود تباہ کیے”۔ اگر طیارے خود تباہ کیے تو پہلے اپنے فوجی نکالے ہوتے، اور اگر فوجی نکال لیے تھے تو یہ انسانی باقیات کہاں سے آئیں؟ اس سوال کا امریکہ کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے — امریکہ کے 1980 کے Operation Eagle Claw میں بھی آٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے، پہلے چھپایا، پھر مانا۔

خود تباہ کیے” — سب سے بڑا جھوٹ

امریکہ کا موقف ہے کہ دو C-130 اور چار MH-6 ہیلی کاپٹر “تکنیکی خرابی” کی وجہ سے پھنس گئے اور فوجیوں نے انہیں خود تباہ کیا تاکہ دشمن کے ہاتھ نہ لگیں۔ لیکن یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گیا ہے۔دنیا کی سب سے جدید فوج کے دو بھاری ٹرانسپورٹ طیارے بیک وقت تکنیکی خرابی کا شکار ہو جائیں — یہ اتفاق ہے یا بیانیہ؟ ایران نے وہ ویڈیو جاری کی جس میں طیاروں پر میزائل گرتے دکھائے گئے ہیں اور امریکہ نے آج تک اس ویڈیو کو جھوٹا ثابت نہیں کیا۔ FlightGlobal نے لکھا کہ اصفہان کے جنوب میں تباہ طیاروں کا ملبہ بالکل 1980 کےٓآپریشن جیسا دکھتا ہے — وہی شکست، وہی جھوٹ، وہی شرمندگی۔ یہ وہی امریکہ ہے جو اپنے ہر نقصان کو چھپاتا آیا ہے۔ ایران نے ایک مہینے کی جنگ کے دوران جتنے بھی امریکی طیارے مار گرائے انکے بارے میں امریکہ نے مختلف وجوہات بیان کیں۔ کبھی کہا حادثہ ہو گیا۔  کبھی کہا تکینیکی خرابی تھی کبھی کہا آپس میں ٹکرا گئے۔

اصل مقصد — پائلٹ یا یورینیم؟

تباہ شدہ C-130 کا ملبہ جہاں ملا، وہ اصفہان کے جوہری مقام سے صرف پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے پہلے ہی رپورٹ کی تھی کہ امریکی فوج نے ٹرمپ کو تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ افزودہ یورینیم نکالنے کا منصوبہ پیش کیا — جس میں کھدائی کے آلات بھیجنا، عارضی رن وے بنانا اور کارگو طیاروں میں یورینیم لے جانا شامل تھا۔ اور اس آپریشن میں بھی بالکل یہی ہوا ۔اصفہان کے قریب ایک متروک ہوائی پٹی پر C-130 اتارے گئے، سیکڑوں سپیشل فورسز اتریں، عارضی اڈہ بنایا گیا۔ ایران کی وزارت خارجہ نے صراحت سے کہا کہ پائلٹ کے مبینہ مقام اور جہاں امریکی فوجیں اتریں — یہ دونوں جگہیں ایک دوسرے سے بہت دور ہیں۔

ایران کی سرکاری ٹی وی نے اصفہان کے جنوب میں تباہ شدہ C-130 کے ملبے سے ملنے والی دستاویزات نشر کیں۔ ان میں ایک نام سامنے آیا — Amanda M. Ryder — جو امریکی فضائیہ کی میجر بتائی جاتی ہیں۔ ملبے سے تین چیزیں ملیں: ان کا فوجی ID کارڈ، ایک کریڈٹ کارڈ، اور سب سے چونکا دینے والی چیز — اسرائیل کے بارڈر کنٹرول کا جاری کردہ B2 پرمٹ جو مارچ2026 میں جاری ہوا تھا۔ ایک امریکی فوجی افسر جو مبینہ طور پر ایک پائلٹ کو بچانے کے مشن میں تھیں — ان کے پاس اسرائیل کا سویلین ٹورسٹ ویزا کیوں تھا؟ B2 پرمٹ فوجی آپریشنز کے لیے نہیں، سیاحت اور مختصر دوروں کے لیے جاری ہوتا ہے۔ یہ ایک معمولی سوال نہیں — یہ اس پوری کہانی کا وہ دھاگہ ہے جسے کھینچنے سے بُنی ہوئی جھوٹ کی پوری قمیض ادھڑ جاتی ہے۔

امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے اندر ایک “معجزاتی ریسکیو آپریشن” کامیابی سے مکمل کیا، دنیا نے اسے سرخی بنایا۔ ٹرمپ نے Truth Social پر “WE GOT HIM!” لکھا۔ پینٹاگون نے تعریفی بیانات جاری کیے۔ لیکن اب ایران کی طرف سے ملبے سے اٹھائی گئی دستاویزات، تصاویر اور انسانی باقیات نے اس پوری کہانی کو اُلٹ کر رکھ دیا ہے۔

وہ “بچایا گیا کرنل” کہاں ہے؟

ٹرمپ نے پائلٹ کو “seriously wounded colonel” کہا — زندہ بچایا گیا، ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن آج تک نہ کوئی تصویر، نہ ویڈیو، نہ بیان، نہ پریس کانفرنس۔ جب Osama bin Laden مارا گیا تو اوباما نے پریس کانفرنس کی۔ جب Jessica Lynch کو بچایا گیا تو امریکہ نے فوری ویڈیو جاری کی تو یہ “زندہ بچایا گیا کرنل” آج تک دنیا کے سامنے کیوں نہیں آیا؟ امکان یہ بھی ہے کہ امریکی طیاروں کی وہ بمباری جو “ایرانی قافلوں کو روکنے” کے لیے کی گئی، اس میں وہ کرنل خود بھی نشانہ بن گیا — اور یہ “ریسکیو آپریشن” دراصل ایک خاموش قتل تھا۔


ٹرمپ کا غصہ — فاتح کی زبان نہیں یہ

  ایرانی یورینیم حاصل کرنے کا مشن بری طرح فلاپ ہوا تو ٹرمپ حواس باخطہ ہو گیا۔ اس نے غصے میں گالیوں بھرا ٹویٹ کیا۔کامیاب آپریشن کے بعد کوئی صدر “48 گھنٹوں میں ہرمز کھولو ورنہ تباہی آئے گی” کی دھمکیاں نہیں دیتا۔ سویلین انفراسٹرکچر تباہ کرنے کی باتیں نہیں کرتا۔ اگر یورینیم مل جاتی تو ٹرمپ اسے “تاریخ کی سب سے بڑی فتح” کہہ کر جنگ ختم کر سکتا تھا — اسے وہ بہانہ مل جاتا جس کی وہ تلاش میں تھا۔ وہ نہ ملا — اور یہی غصہ اس کے ہر ٹویٹ میں چھلکتا ہے۔

امریکی دبدبے اور غرور کا ملبہ

ایران نے دستاویزات دکھائے، ملبہ دکھایا، انسانی باقیات دکھائیں۔ امریکہ نے بچایا گیا پائلٹ نہیں دکھایا۔ ایران نے ویڈیو دکھائی جس میں طیارے گرتے دکھے۔ امریکہ نے “تکنیکی خرابی” کا بیان دیا — کوئی ثبوت نہیں۔ ایران نے کہا یہ آپریشن ناکام ہوا، امریکہ نے کہا یہ “تاریخ کا سب سے جرأت مند آپریشن” تھا — اور اگلے ہی لمحے جنگ بندی کی التجا کرنے لگا۔ Amanda Ryder کی دستاویزات، انسانی باقیات، اور وہ پینتیس کلومیٹر کا فاصلہ جو جوہری تنصیبات کو ملبے سے جدا کرتا ہے — یہ سب مل کر ایک ہی کہانی سناتے ہیں: امریکہ جھوٹ بول رہا ہے، اور اس جھوٹ کا ملبہ اصفہان کی زمین پر بکھرا پڑا ہے۔ اسی ملبے میں امریکہ کا عسکری دبدبہ، طاقت کا غرور، دنیا کی چودھراہٹ سب کچھ ملا ہوا ہے۔

Related posts

آپ ہنس نہیں سکتے کیونکہ آپ شمالی کوریا میں ہیں۔

qaumikhabrein

سکورٹی جوانوں کی شہادت اور کورونا مریضوں کی تعداد میں اضافے کا مرکزی حکومت پر کوئی اثر ہے۔؟

qaumikhabrein

بین مذہبی مکالمہ عصر حاضر کی اہم ترین ضرورت۔۔تحریر آیت الله اعرافی۔ سربراہ حوزہ ہائے علمیہ ایران

qaumikhabrein

Leave a Comment