
ایران ۔لیبیا، شام یا عراق نہیں ہے جہاں سربراہ کے منظر سے ہٹنے کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہو جاتا ہو اور امریکہ بہادر فتح کے نشے میں چور ہو کر سینہ پھلائے دنیا بھر کو خوف ودہشت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔امریکہ اور اسرائل کو ایران میں کسی ایک فوجی سربراہ یا کمانڈ کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے بلکہ انکا مقابلہ ایران کے 31 صوبائی فوجی کمانڈروں سے ہے جو اپنے آپ میں فیصلہ کرنے کے لئے خود مختار بھی ہیں اور انکے پاس دشمن سے نمٹنے کے لئے بڑی مقدار میں ڈرون اور میزائل بھی ہیں۔عراق میں صدام کے خاتمے سے ایران کے اعلیٰ فوجی حکام نے بہت کچھ سبق سیکھا تھا ۔2003 میں امریکہ نے صرف تین ہفتوں میں عراق کے صدر صدام حسین کا پورا مرکزی فوجی نظام تباہ کر دیاتھا۔کیونکہ عراقی فوج کا پورا نظام ایک مرکزی ہیڈکوارٹر پر منحصر تھا ۔اسکے ذوال کے ساتھ ہی پورا فوجی نظام بھر بھرا کر منہدم ہو گیا تھا۔

ایران کے اعلیٰ فوجی حکام نے ایک ایسی مستحکم فوجی حکمت عملی تیار کی جسکا سامناکرنے میں آج امریکہ اور اسرائل کو پسینے آرہے ہیں۔اس فوجی حکمت عملی کو تیار کرنے کا سہرا میجر جنرل محمد علی جعفری کے سر ہے۔ جنہوں نےایک ایسا فوجی نظام تیار کیا جسے ایک ہی حملے سے ختم نہ کیا جا سکے۔
2007 میں جب وہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے کمانڈر بنے تو انہوں نے پورے فوجی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا۔
ایران کو 31 صوبائی فوجی کمانڈز میں تقسیم کر دیا گیا۔
یعنی ہر صوبہ ایک الگ دفاعی یونٹ۔
ہر کمانڈ کے پاس:
* اپنا ہیڈکوارٹر
* اپنا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم
* میزائل اور ڈرون ہتھیار
* تیز رفتار کشتیوں کے یونٹس
* بسیج ملیشیا
* اسلحے کے ذخیرے
* ہنگامی حالات میں خفیہ احکامات

اس فوجی حکمت علملی کااصل مقصد ایران کو مکمل طور پر ناقابل شکست بنا نا ہے۔یعنی اگر مرکزی کمان ختم بھی ہو جائے تو نظام ختم نہ ہو۔ ایران کے 1979 کے آئین کے آرٹیکل 110 کے مطابق مسلح افواج کا سپریم کمانڈر صرف سپریم لیڈر ہوتا ہے۔فوجی قیادت کی تقرری، برطرفی اور اہم احکامات اسی عہدے کے پاس ہوتے ہیں۔صدر، پارلیمنٹ، گارڈین کونسل یا عدلیہ کو براہ راست فوج کو حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔ ایران کا دفاعی نظام اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ اگر مرکزی کمان کا خاتمہ ہو جائے یا اس تک رسائی ختم بھی ہو جائے تو بھی مقامی سطح پر فوجی کمانڈرز اپنے وسائل کے ساتھ دفاع جاری رکھ سکتے ہیں۔ ایران میں اس وقت یہی ہورہا ہے۔ رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کے دفاع کی کمان ملک کے 31 صوبائی فوجی کمانڈروں نے سنبھال رکھی ہے۔ ان صوبائی کمانڈروں کو ایک حملے میں ختم کرنا امریکہ اور اسرائل کیا کسی بھی طاقتور سے طاقتوار ملک کے بس کی بات نہیں ہے۔یہی اس وقت ہورہا ہے۔نہ ڈوران حملے رک رہے ہیں نہ میزائل حملے۔ جسکو آبنائے ہرمز بند کرنا تھا اس نے اسکو بند کردیا جس کو عرب ملکوں میں امریکی فوجی اڈوں کو برباد کرنا تھا وہ اپنا کام کر رہے ہیں۔اسرائل کے اندر اور عرب ملکوں میں امریکہ کے فوجی اور تجارتی مفادات پر تابڑ توڑ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اور حملوں کا یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہےگا جب تک شہید خامنہ ای کا جانشین روکنے کا حکم نہ دیدے

ایران کا یہ فوجی دفاعی ماڈل ایک ایسی مشین ہے جو ایک بار چل پڑے تو اسے مکمل طور پر روکنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اسے صرف رہبر اعلیٰ کی ہدایت ہی روک سکتی ہے۔امریکہ بار بار یہ دعوے کرتا ہے کہ اس نے ایران کے میزائل لانچرز تباہ کردئے۔ ڈرون تیار کرنے والی فیکٹریوں کو تباہ کردیا ۔ ہوسکتا ہیکہ اس نے کسی ایک مقام پر ایسا کیا ہو لیکن ایران میں اس وقت 31 صوبائی کمانڈر امریکہ اور اسرائل سے لوہا لے رہے ہیں۔ رہبر اعلیٰ ان صوبائی کمانڈز کو حملے روکنے کا حکم اس وقت تک نہیں دیں گے جب تک امریکہ اور اسرائل ایران کی شرطیں تسلیم نہ کرلیں۔

