
قبضے کی زمین سے محبت نہیں ہوتی۔ یہ بات اسرائیل سے بڑی تعداد میں یہودیوں کا فرار ہونا بتا رہا ہے۔بارہ روز کی گزشتہ جنگ میں بھی یہودی جان بچا کراسرائل سے فرار ہوئے تھے۔دنیا بھر میں یہودیوں کا واحد ملک اسرائل ہے لیکن یہودیوں کو اسرائل سے محبت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ سر زمین انہوں نے ناجائز طریقے سے قبضائی ہوئی ہے اور ناجائز طور سے قبضہ کی ہوئی سرزمین سے محبت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہیکہ حالیہ جنگ میں روزنانہ لاکھوں یہودی وطن چھوڑ چھوڑ کر جارہے ہیں۔حالات کو دیکھتے ہوئے اسرائیلی حکام نے ایک تعداد مقرر کردی ہیکہ روزانہ اس تعداد سے زیادہ باشندوں کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔اسرائیل کے بین گوریئن ایئرپورٹ پر ملک چھوڑ کر بھاگنے والے یہودیوں کی بھاری بھیڑ ہے۔

اسرائیل میں رہنے والے تمام یہودی دراصل دوہری شہریت رکھتے ہیں۔دنیا کے مختلف ملکو ں سے آکر یہودی اسرائل میں آباد ہوئے ہیں۔ انکی وطن سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ انکے پاس اس ملک کی شہریت بھی ہے جہاں سے وہ اسرائل میں آکر بسے تھے اور اسرائل کی شہریت بھی ہے۔ انہوں نے آج تک اس ملک کی شہریت نہیں چھوڑی ہے جہاں سے وہ آئے تھے۔ان کے پاس دو پاسپورٹ ہوتے ہیں۔ زیادہ تر کے پاس اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکی پاسپورٹ بھی ہوتا ہے اور امریکی قانون انہیں دوہری شہریت رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔
اسرائیل کے قانون Law of Return (1950) کے تحت کوئی بھی یہودی اسرائیل آکر خودکار طور پر شہریت حاصل کر سکتا ہے۔ اسرائیل ڈوئل سٹیزن شپ کو واضح طور پر اجازت دیتا ہے، خاص طور پر ان یہودیوں کو جو دیگرملکوں سے آکر بسے ہیں۔
اس لیے، بہت سے امریکی یہودیوں کے پاس امریکی پاسپورٹ اور اسرائیلی پاسپورٹ دونوں ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائل کے ساتھ ساتھ جرمنی، پولینڈ، برطانیہ وغیرہ ملکوں کی شہریت بھی ان کے پاس ہوتی ہے۔

یہ دنیا میں واحد ایسی قوم ہے جس کے پاس دو پاسپورٹ اور دوہری شہریت ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ ایک جگہ خطرہ دیکھ کر دوسری جگہ بھاگ جاتے ہیں۔اسی لئے اسرائیلی یہودیوں کے دلوں میں حب الوطنی کا جزبہ نہیں پایا جاتا۔
جرمنی میں ہٹلر نے مارنا شروع کیا تو عربوں کی زمین پر قبضہ کرکے اسرائل بنا لیا۔ اور عربوں کو بے گھر کردیا۔ ۔جب کبھی حماس کے ساتھ جنگ تیز ہوتی ہے تب بھی ملک چھوڑ نے والوں کی قطاریں ہوائی اڈوں پر نظر آنے لگتی ہیں۔اس وقت ایران اسرائل کی اینٹ سے اینٹ بجا رہا ہے تو پھروہ واپس انہی ملکوں کا رخ کررہے ہیں جہاں سے آئے تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے لیے جرمنی سب سے محفوظ جگہ ہے جہاں وہ پناہ لئے ہوئے ہے۔ جرمنی سے ہی وہ ہٹلر سے جان بچا بھاگا تھا۔

دوسری طرف ایران ہے۔امریکی اور اسرائیلی وارننگز کے باوجود کوئی ملک چھوڑ کر فرار نہیں ہوا بلکہ دنیا تو یہ دیکھ رہی ہیکہ حملوں کے دوران بھی لوگ سڑکوں پر جمے ہوئے ہیں۔حال ہی میں ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے کہ تہران میں ایک معروف مقام پر بڑی تعداد میں لوگ امریکہ اور اسرائل کے حملوں کے خلاف احجاج کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے کہ عین موقع ہر ہوائی حملے شروع ہوئے اور دھماکوں کی آوازیں آنے لگیں لیکن وہاں موجود ہجوم میں سے ایک فرد بھی وہاں سے نہیں ہلا۔ بلکہ زیادہ جوش و خروش کے ساتھ حیدر حیدر کے نعرے لگانے لگا۔
یہ ہوتی ہے وطن سے محبت….اور یہ ہوتا ہے باطل کے آگے ڈٹ کر کھڑے رہنے کا جزبہ۔۔
