qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

جنگ کے  دوران ٹرمپ پر اپنے دوستوں کو مالی فائدہ پہونچانے کا الزام

کوئی اتنا نیچے کیسے گر سکتا ہے ۔ ایران کے خلاف جنگ کے سبب دنیا کے ہزاروں افراد دولت سے محروم ہو رہے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  پر اپنے ٹویٹ کے ذریعے اپنے دوستوں کو بھاری مالی فائدہ پہونچانے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

ایران اور امریکہ کی جنگ نے جہاں ہزاروں انسانی جانیں لی ہیں اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں ایک اور انتہائی سنگین معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ انہوں نے جنگ سے جڑی اندرونی معلومات اپنے قریبی لوگوں کو پہلے سے فراہم کیں تاکہ وہ سٹاک مارکیٹ میں کروڑوں ڈالر کما سکیں۔

معاملے کا مرکزی نکتہ وہ پندرہ منٹ ہیں جو ٹرمپ کی Truth Social پوسٹ سے ٹھیک پہلے گزرے۔ پیر کو جب ٹرمپ نے اعلان کیا کہ  وہ ایرانی تنصیبات پر حملہ پانچ روز کے لئے ٹال رہے ہیں اورامریکہ اور ایران کے درمیان “بہت اچھی اور نتیجہ خیز گفتگو” ہو رہی ہے، اس پوسٹ سے محض پانچ سے پندرہ منٹ پہلے تیل فیوچرز اور S&P 500 میں اربوں ڈالر کی غیر معمولی خرید و فروخت ہوئی۔ ٹرمپ کی پوسٹ سامنے آتے ہی تیل کی قیمتیں دس فیصد گر گئیں اور سٹاک مارکیٹ میں ہزار سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا — جن لوگوں نے پہلے سے صحیح پوزیشن لے رکھی تھی، وہ ایک ہی جھٹکے میں سینکڑوں ملین ڈالر کما گئے۔

یہ معاملہ برطانوی پارلیمنٹ تک جا پہنچا جب لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی نے ہاؤس آف کامنز میں آواز اٹھائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایسا لگتا ہے جیسے ٹرمپ نے اپنے دوستوں کو اندرونی معلومات فراہم کر کے انہیں امیر بنایا جبکہ ایران کی جنگ نے باقی سب کو مزید غریب کر دیا۔ انہوں نے اسے “بدترین قسم کی کرپشن” قرار دیتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے بھی پوچھا کہ کیا وہ بھی یہ خدشہ رکھتے ہیں کہ ٹرمپ امن کی بجائے ذاتی مالی فائدے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ ڈیوی نے برطانیہ کے مالیاتی نگران ادارے سے بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

امریکی سینیٹ میں بھی ہنگامہ برپا ہوا اور سینیٹر کرس مرفی نے سوال اٹھایا کہ یہ ڈیڑھ ارب ڈالر کی شرط آخر کس نے لگائی — ٹرمپ خود، ان کے خاندان کے کسی فرد، یا وائٹ ہاؤس کے کسی ملازم نے؟ نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات پال کروگمین نے اس سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ جب کوئی شخص قومی سلامتی کی خفیہ معلومات کو ذاتی مالی فائدے کے لیے استعمال کرے تو اس کا نام “غداری” ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر نے بھی ٹرمپ کے مذاکرات کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے “فیک نیوز” کہا جو مالی منڈیوں کو متاثر کرنے کے لیے پھیلائی گئی۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جو ادارے اس قسم کی کرپشن پکڑتے تھے انہیں پہلے ہی کمزور کیا جا چکا ہے۔ واٹرگیٹ کے بعد بنائے گئے محکمۂ انصاف کے خصوصی سیکشن کی افرادی قوت چھتیس سے گھٹا کر صرف دو کر دی گئی ہے، اور SEC کے انفورسمنٹ سربراہ نے استعفیٰ دے دیا۔

یہ معاملہ ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے اور کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ تاہم وقت کا اتفاق اور رقوم کی ہوشربا مقدار نے ایسے سوالات اٹھا دیے ہیں جن کا جواب دینا مشکل ہے — کیا دنیا کے سب سے طاقتور ملک کا صدر جنگ اور امن کے فیصلے قومی مفاد کی بجائے ذاتی منافع کی بنیاد پر کر رہا ہے؟

Related posts

حماس لیڈر اسمعیل ہنیہ کی نماز جنازہ ادا

qaumikhabrein

شوگر اور بلڈ پریشر جانچ اور کاؤنسلنگ سینٹر’ کی پہلی سالگرہ

qaumikhabrein

مرحوم کلب صادق پر لکھی کتاب اکھلیش یادو کو پیش

qaumikhabrein

Leave a Comment