qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

عراق امریکہ کا دوسرا افغانستان بنتا جارہا ہے۔

ایران کے خلاف جاری جنگ میں جہاں امریکہ کوجانی اور مالی نقصانات کے ساتھ دنیا بھر میں اپنی ساکھ کو گنوانا پڑرہا ہے وہیں عراق بھی اسکے اثر و رسوخ سے نکلتا دکھائی دے رہا ہے۔

امریکہ نے وہاں اپنا بہت بڑا سفارتخانہ بنایا جو بغداد کے قلب میں 104 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ جسکے اندر اسکول، اسپتال، بجلی گھر اور سیکیورٹی حصار بھی ہے۔ ۔ اسے بناتے وقت امریکہ نے یہ سوچا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ کے لیے اپنا قدم جما رہا ہے۔ آج اسی عمارت کی دیواروں کے باہر راکٹ گر رہے ہیں، اندر کا غیر ضروری عملہ نکالا جا چکا ہے، اور عراق میں موجود ہر امریکی شہری کو فوری طور پر ملک چھوڑ دینے کا حکم ہے۔ جو لوگ ہوائی سفر کی امید لگائے بیٹھے ہیں انہیں مایوسی ہے — فضا بند ہے۔ سڑکوں کے راستے اردن، کویت یا ترکیہ کی طرف نکلنا ہی واحد راستہ ہے، اور وہ بھی خطرے سے خالی نہیں۔

عراقی وزیر اعظم السودانی ٹرمپ کے ساتھ

یہ منظر اچانک نہیں آیا۔ اس کی جڑیں بیس سال پرانی ہیں اور اس کا تازہ محرک وہ جنگ ہے جو فروری 2026 کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملوں سے بھڑکی۔ اس جنگ کی چنگاریاں عراق میں امریکی مفادات کو جلانے لگیں عراق کی زمین پر ایران نواز ملیشیائیں امریکی مفادات کی سخت دشمن ہیں۔

امریکہ نے 2003 میں عراق کو صدام رجیم سے “آزاد” کرایا، ہزاروں فوجی اڈے بنائے، اربوں ڈالر ڈالے اور اپنی فوج کی آخری ٹکڑی رکھی۔ دوسری طرف ایران ہے جو عراق کا ہمسایہ بھی ہے، ہم مذہب بھی۔ایران نے کمال ہوشیاری سے عراق کے ساتھ مرعاملات رکھے۔ اس نے کبھی فوج نہیں بھیجی بلکہ خیالات، پیسہ اور ہتھیار بھیجے — اور عراق کے اندر ایسی قوتیں کھڑی کیں جو آج عراقی فوج کا حصہ بھی ہیں اور ایران کا ہتھیار بھی۔

ہشد الشعبی، جسے Popular Mobilization Forces بھی کہتے ہیں، اسی سوچ کا نتیجہ ہے۔ 2014 میں ISIS کے خلاف عوامی جوش میں بنائی گئی یہ ملیشیا 2018 تک باقاعدہ سرکاری تنخواہ پانے لگی۔ لیکن سرکاری ہونے کے باوجود اس کی وفاداری کا دھاگہ تہران سے جڑا رہا۔وہ عراق کی سرزمین پر یہ کھلے عام کام کرتی  ہے، اسکے دفتر ہیں، اپنے پرچم ہیں اور اپنی شرائط پر چلتی ہے۔

جیسے ہی ایران پر حملے ہوئے، ان گروہوں نے ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی لاجسٹکس مرکز پر دھماکے کئے۔ کردستانی علاقے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ۔ بغداد کے سب سے محفوظ علاقے میں راکٹ گرائے جہاں سفارتخانہ واقع ہے۔ غیر ملکیوں کے زیر استعمال ہوٹلوں تک کو نہیں بخشا گیا۔ امریکہ نے جوابی کارروائی کی۔

اس پوری صورتحال میں سب سے بڑا نقصان امریکہ کا وہ اثر و رسوخ ہے جو اس نے دو دہائیوں میں خریدا تھا۔ درجنوں فوجی اڈے، قیمتی دفاعی سازوسامان، ہزاروں فوجی اور سویلین اہلکار — یہ سب اب ایک ایسے ملک میں پھنسے ہوئے ہیں جو نہ کھلا دوست ہے، نہ کھلا دشمن۔ سفارتی زبان میں کہیں تو عراق اب امریکہ کا “اتحادی” نہیں، بلکہ ایک “پیچیدہ شراکت دار” ہے — اور عملی زبان میں کہیں تو امریکہ کے لیے ایک بڑھتا ہوا درد سر۔

2003 میں جب امریکی ٹینک بغداد میں داخل ہوئے تھے تو کہا گیا تھا کہ عراق مشرق وسطیٰ کی جمہوریت کا نمونہ بنے گا۔ کہا گیا تھا کہ یہاں سے تبدیلی کی لہر پورے خطے کو بدل دے گی۔ آج اسی بغداد کی سڑکوں پر امریکہ مخالف ہجوم جمع ہوتا ہے، اسی سفارتخانے کے باہر جوتے پھینکے جاتے ہیں، اور اسی ملک میں امریکی شہری خوف کے مارے زمینی راستوں سے بھاگ رہے ہیں۔

تاریخ میں یہ لمحہ درج ہوگا کہ امریکہ نے عراق کو فتح تو کیا مگر جیت نہ سکا۔ ہزاروں جانیں، ہزاروں ارب ڈالر، اور بیس سال — یہ سب لگا کر جو ملا وہ ایک ایسا ملک ہے جو آج اس کی سب سے بڑی پریشانیوں میں شامل ہو چکا ہے۔ عراق امریکہ کا دوسرا افغانستان بن رہا ہے ۔یہاں بھی امریکہ کو اپنے تمام  ہتھیار اور عسکری ساز سامان چھوڑ کر بھاگنا پڑرہا ہے۔

Related posts

اکھیلیش نئے اتحاد بنانے کے لیے کوشاں۔۔۔سراج نقوی

qaumikhabrein

مصنوعی ذہانت کی مدد سے7 معروف شیعہ علما کی تصاویر تیار

qaumikhabrein

اپنے مطالبات کے حق میں اساتذہ کی 8 اگست کو ریاست گیر تحریک۔

qaumikhabrein

Leave a Comment