
طالبان نے تصدیق کی ھے کہ 26 اگست کو افغانستان میں داعش کے سربراہ ابو عمر خراسانی کو جیل سے فرار ہوتے ہوئے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اس سے قبل ملی میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی اشیا کے لئے داعش کا سابق سرغنہ عمر خراسانی مارا جا چکا ہے۔ اسے مولوی ضیا الحق ک نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ عمر خراسانی کو افغانستان کی سرکاری جیل سے نکال کر مار ڈٖالا گیا۔ عمر خراسانی کو 2020 مئی میں ایک آپریشن کے دوران افغانستان کے سلامتی دستوں نے گرفتار کیا تھا۔ خراسانی جنوبی ایشیا میں داعش کا سرغنہ تھا لیکن اسکی گرفتاری کے بعد اسکی جگہ مولوی اسلم فاروقی کو جنوبی ایشیا میں داعش کا سرغنہ مقرر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہیکہ ابو عمر خراسانی کو کابل کی پل چرخی جیل میں ہی طالبان نے ہلاک کرڈالا۔

