
جنگ کے دوران دشمن کوتیل بیچنے کی اجازت دیکر امریکہ نے ایک طرح سے اپنی شکست کو قبول کرلیا ہے۔ اسکوامریکی حکمت عملی کا تضاد بھی کہا جاسکتا ہے۔
تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے جب کوئی طاقت کسی ملک پر بم برسائے اور ساتھ ہی اس کے تیل پر سے پابندی بھی اٹھا لے۔ لیکن آج یہی ہو رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی کے عین دوران، واشنگٹن نے ایران کے سمندر میں موجود تیل پر سے 30روز کے لئے پابندی ہٹانے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی خزانے کے وزیر اسکاٹ بیسنٹ نے اس اقدام کو “ایرانی تیل کو ایران کے خلاف استعمال کرنے” کی حکمتِ عملی قرار دیا ہے.یہ جملہ بظاہر چالاک سوچ لگتا ہے، مگر اس کے پیچھے جو حقیقت چھپی ہے وہ کچھ اور ہی کہتی ہے

دنیا کا بیس فیصد تیل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ جب سے خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، ایران نے تیل کی اس گزرگاہ عملاً بند کررکھا ہے اور توانائی کی قیمتیں پوری دنیا میں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت جنگ سے پہلے کی سطح سے تقریباً ساٹھ فیصد تک بڑھ چکی ہے۔
یہ صورتحال صرف معاشی نہیں بلکہ جیو پولیٹیکل بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عراق سمیت کئی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث غیر ملکی کمپنیوں کے کنوؤں پر فورس میجر کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ ایک قانونی اصطلاح ہے جو کسی معاہدے یا کنٹریکٹ میں اس وقت استعمال ہوتی ہے جب کوئی فریق کسی غیر متوقع اور ناقابلِ کنٹرول واقعے کی وجہ سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہو جائے۔

بیس مارچ کو ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے سمندری تیل کی خریدوفروخت کے لیے تیس روزہ عارضی چھوٹ دینے کا اعلان کیا، جو انیس اپریل تک نافذ العمل رہے گی۔ اس اقدام کے ذریعے تقریباًسولہ کروڑ بیرل تیل عالمی منڈی میں آنے کی توقع ہے، جو دنیا کی دس سے چودہ دن کی ضرورت کے برابر ہے۔امریکی وزیر بیسنٹ نے اس اقدام کی ایک اور وجہ بھی بیان کی۔ جب تک پابندیاں نافذ تھیں، چین ایران کا نوے فیصد سے زیادہ تیل سستے داموں خرید رہا تھا اور اس سے بھاری فائدہ اٹھا رہا تھا۔ پابندیاں ہٹنے کے بعد یہ تیل بازار کی قیمت پر ملائیشیا، سنگاپور، جاپان اور ہندستان جیسے ملکوں تک پہنچے گا۔
یعنی امریکہ ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتا ہے — تیل کی قیمتیں بھی کم کرو اور چین کا فائدہ بھی روکو۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی اصل میں کارگر ہے؟امریکی موقف یہ ہے کہ ایران کے مالیاتی نظام پر پابندیاں برقرار رہیں گی، اس لیے ایران اس تیل کی فروخت سے حاصل آمدنی تک فوری رسائی نہیں پا سکے گا۔ تاہم، تجزیہ کار اس دعوے پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ تیل فروخت ہونے کے بعد اس کی آمدنی کو روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ ایران کے پاس دہائیوں کا تجربہ ہے کہ کس طرح بین الاقوامی پابندیوں کو مختلف ذریعوں سے نظرانداز کیا جائے۔

امریکہ اس جنگ میں ایسا پھنسا ہیکہ کہ اسکو جنگ کے دوران ایران کو وہ رعایت دینی پڑ رہی ہے جو اس نے امن کے وقت بھی دینے سے انکار کیا تھا۔ یہ بات خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس جنگ کی معاشی قیمت توقع سے کہیں زیادہ نکل رہی ہے۔
حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ اقدام بنیادی مسئلے کا حل نہیں۔ جب تک آبنائے ہرمز بند ہے، چند ہفتوں کی عارضی چھوٹ توانائی بحران کو ختم نہیں کر سکتی۔ تیل کی قیمتیں عارضی طور پر کچھ کم ہو سکتی ہیں، مگر جیسے ہی یہ عارضی مدت ختم ہوگی، صورتحال پھر وہی ہو جائےگی۔
ماہرین کے مطابق اب صرف دو راستے ہیں — یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوشش کی جائے، یا پھر معاشی بحران کے لیے تیار رہا جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام امریکہ کی کمزوری کی علامت بھی ہےاور اپنی ناکامی کا اعتراف بھی
جب آپ اپنے دشمن کا تیل خود بیچنے پر مجبور ہو جائیں، تو یہ سوچنا ضروری ہو جاتا ہے کہ جنگ کا اصل خمیازہ کون بھگت رہا ہے — ایران کی حکومت،امریکہ یا دنیا کے عام شہری؟

