
اردن کے سابق ولی عہد اور شہزادہ حمزہ بن حسین ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے غیر ملکی فریقوں کے ساتھ مل کر کینہ پرور منصوبہ بنا رہے تھے۔ یہ الزام اردن کے نائب وزیر اعظم ایمن صفادی نے عائد کیا ہے۔سنیچر کو فوج نے شاہ عبداللہ کے سوتیلے بھائی حمزہ بن حسین کو گھر میں نظر بند کردیا تھا۔۔

فوج کا الزام ہیکہ حمزہ حکومت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ فوج کا کہنا ہیکہ حمزہ کو ان سرگرمیوں سے باز رہنے کی وارننگ دی گئی ہے جبکہ حمزہ کا کہنا ہیکہ انہیں گھر میں نظر بند کیا گیا ہے انہیں لوگوں سے ملنے جلنے نہیں دیا جارہا ہے۔ فوج نے شاہی خاندان کی کچھ شخصیات سمیت متعدد افراد کی گرفتاری کا اعتراف کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق جانچ پڑتال سے معلوم ہوا ہیکہ حمزہ کی اہلیہ کچھ غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ رابطے میں تھیں اور حمزہ اور انبکی اہلیہ ملک چھوڑنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ اردن کو مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ مستحکم ملک تصور کیا جاتا ہے۔ اردن کے ہمسایہ اور ااتحادیوں نے شاہ عبداللہ کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ہے۔
