qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

اے ایم یو میں کیسے پھیلا کورونا۔ اسٹاف ویکسین لگوانے سے ہچکچا تا رہا۔

علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اے ایم یو کے کم از کم اٹھارہ پروفیسر گزشتہ ایک ماہ میں کورونا کی وجہ سے فوت ہوئے۔ ان میں کسی بھی پروفیسر نے ویکسین کی مکمل خوراک نہیں لی تھی۔ ہلاک ہونے والے صرف دو پروفیسرو ں نے ویکسین کی پہلی خوراک لی تھی۔ دی پرنٹ نے سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا ہیکہ تازہ ہلاکت ٹیچنگ فیکلٹی ممبر پچپن سالہ محمد ناصر الدین کی ہوئی جو فاماکولاجی شعبہ سے وابستہ تھے۔ ریکارڈ میں انکی موت کی وجہ نمونیا بتائی گئی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق ہلاک شدہ اٹھارہ پروفیسروں میں سے صرف دو نے ویکسین کی پہلی خوراک لی تھی وہ بھی کورونا متاثر ہونے سے ایک ہفتے پہلے۔ جبکہ اے ایم یو کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں بھارت بائیو ٹیک کی کوویکسین کی نومبر میں سیفٹی ٹرائلس شروع ہوئی تھی جو اب بھی جاری ہے۔

یہ تمام پروفیسر رمضان کےمہینے میں کورونا سے متاثر ہوئے اور فوت ہوئے۔ ویکسین نہیں لگوانے کی وجوہات جو سامنے آئی ہیں وہ ہیں لاپرواہی، ویکسین پر بھروسا نہ ہونا اور رمضان کے روزے۔ کورونا سے ہلاک ہونے والے پروفیسروں میں تین پچاس برس سے کم عمر کے تھے۔
یہ پروفیسر ایک سے زائد بیماریوں میں مبتلا تھے۔ ٹی بی شعبہ کے ڈاکٹر محمد شمیم کے مطابق یہ پروفیسر ہائپر ٹینشن اور شوگر کے بھی مریض تھے۔ اپنا علاج خود کرنا بھی ان پروفیسروں کی موت کی ایک وجہ رہا۔ وہ کسی ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر گھر پر پیرا سیٹ مول لیتے رہے۔ حالت بگڑنے پر اسپتال میں داخل ہوئے۔ ان میں کچھ پروفیسر کورونا ٹیسٹ بھی نہیں کرانا چاہتے تھے۔پروفیسروں سمیت اے ایم یو اسٹاف نے صرف اس لئے ویکسن نہں لگوائی کیونکہ کوویکسن کے تجربات ابھی مکمل نہیں ہوئے ہیں۔ اے ایم یو وی سی طارق منصور سمیت انتظایہ نے بار بار اسٹاف سے ویکسین لگوانے کی اپیل کی لیکن ویکسین لگوانے میں ہچکچاہٹ پروفیسروں کی موت اور کیمپس میں کورونا پھیلنے کا سبب بنی۔

Related posts

جرمنی میں فلسطین کی زبر دست حمایت

qaumikhabrein

سوشل میڈیا پر وزیر اعظم مودی مزاح کا موضوع

qaumikhabrein

کسانوں کا بارہ گھنٹے کا بند۔ حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش

qaumikhabrein

Leave a Comment