qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

منفرد طرز کی فکشن نگار صادقہ نواب سحر

بر صغیر میں اردو ادب کا منظر نامہ فکشن نگاروں سے بھرا پڑا ہے۔ فکشن نگاروں کی بھیڑ میں اگر کوئی قلمکار اپنی شناخت قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ کوئی معمولی  کارنامہ نہیں ہے اور اگر اسکی کسی تخلیق کو ملک کے باوقار ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازہ جائے تو اسے سونے پہ سھاگہ ہی کہا جائےگا۔ جی  ہاں صادقہ نواب سحر کے ناول ‘راجدیو کی امرائی’ کو سال2023  کےساہتیہ اکادمی  ایوارڈ سے نوازہ گیا۔صادقہ نواب سحر ان فکشن نگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے بر صغیر ہند و پاک میں فکشن نگاری کے میدان میں اپنے طرز تحریر کے ذریعے اپنی الگ شناخت بنائی۔صادقہ نواب فکشن نگار کے ساتھ ساتھ شاعرہ بھی ہیں۔اردو میں  ابتک انکے تین ناول،افسانوں کے دو، شاعری کے پانچ مجموعے اور ڈراموں اور مضامین کا  ایک ایک مجموعہ منظر عام پر آچکے ہیں۔صادقہ نواب ہندی میں بھی قلم کے جوہر دکھاتی ہیں۔ہندی میں انکے دو ناول،افسانوں کاایک مجموعہ اور ڈٓرامے اور شاعری کے دو دو مجموعے ہندی داں حلقوں میں مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ انکے قلم سے برامد ہوا ایک ناول ‘کہانی کوئی سناؤ متاشا’ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اس ناول کی مقبولیت کا یہ عالم ہیکہ اسے پاکستان  میں بھی شائع کیا  گیا اور اسکا ہندی، تیلگو اور مراٹھی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا ۔ صادقہ نواب سحر  کے ادبی قد کا اندازہ لگانے کے لئے یہ امر کافی ہیکہ انکی کئی قلمی نگارشات نصاب میں شامل ہیں۔ ان کی شخصیت اور ادبی مرتبے پر متعدد کتابیں تحریر کی جا چکی ہیں۔انکی  ادبی خدمات پر کئی اردو اسکالرز نے ایم فل کے مقالے تحریر کئے ہیں۔ پہلو دار شخصیت کی مالکہ صادقہ نواب سحر کی ادبی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈٓالنے سے پہلے ذرا انکے خاندانی پس منظر اور تعلیمی سفرکا جائزہ لیتے ہیں۔۔

ایک طالب علم کی حیثیت سے صادقہ نواب

صادقہ  نواب کا اصل نام صادقہ آرا ہے۔وہ آندھرا پردیش کے گنٹور میں 8 اپریل 1957 کو پیدا ہوئیں۔ والد خواجہ میاں شیخ بزنس مین تھے۔صاد قہ آرا کو بھرا پورا ادبی ماحول بچپن سے میسر ہوا۔ والد کے ماموں تیلگو قمکار تھے اور ‘فرسا’ کے زیر تخلص شاعری کرتے تھے۔ صادقہ نواب کے نانا ‘عاشق’ کے تخلص سے  اردو میں  شاعری کرتے تھے۔ گھر میں  ادبی اور نیم ادبی رسائل کا ذخیرہ رہتا تھا۔ یہ ماحول صادقہ کی ادبی نشو نما میں معاون ثابت ہوا۔۔حصول تعلیم کے ذوق و شوق کا یہ عالم رہا  کہ انہوں نے اردو ، ہندی اور انگریزی میں ایم اے کیا۔ ابتدا میں انہوں نے ممبئی کے برہانی کالج میں اردو لیکچرر کی حیثیت سے  درسی خدمات انجام دیں ۔ وہ کے ایم سی کالج کھپولی( مہارشٹر ضلع رائے گڑھ) سے  ہندی کی ایسو سی ایٹ پروفیسر کے عہدے سے سبکدوش ہوئیں۔ فی الوقت وہ ممبئی یونیورسٹی  کے شعبہ ہندی  سے ریسرچ گائڈ کے طور پر وابستہ ہیں۔

انکا پہلا افسانہ  ‘بے نام سی خلش’  ماہنامہ ‘بیسویں صدی’ میں1980 میں شائع ہوا۔محمد اسلم نواب سے شادی کے بعد صادقہ آرا سحر، صادقہ نواب سحر ہو گئیں۔ شاعری میں نظم انکی پسندیدہ اور محبوب ترین صنف سخن ہے۔ 1996 میں انکا پہلا شعری مجموعہ ‘انگاروں کے پھول’ شائع ہوا تھا۔اس مجموعے کو ساحر لدھیانوی اور پروین شاکر ایوارڈ سے نوازہ گیا۔انکے شعری مجموعات’ ست رنگی’، ‘باوجود’،’چھوٹی سی یہ دھرتی’ اور ‘دریا کوئی سویا سا’    کو بھی شعری ذوق رکھنے والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ صادقہ نواب نے فکشن  کی دنیا میں تہلکہ کہانی کوئی سناؤ متاشا’ ناول تحریر  کر کے مچایا۔اس ناول کی فکشن  لکھنے اور فکشن پڑھنے والوں نے دل کھول کر پزیرائی کی۔اس ناول کو  پاکستان  میں بھی شائع  کیا گیا۔ اس ناول کا انگریزی  تیلگو  اور مراٹھی  میں بھی ترجمہ  ہو چکا ہے۔

صادقہ  نے دو اور ناول’ جس دن سے’ اور ‘راجدیو کی امرائی’ بھی تحریر کئے۔ ‘خلش بے نام سی’ اور’ بیچ ندی کا مچھیرا’ انکے افسانوں کے مجموعے ہیں۔’مکھوٹوں کے درمیان’ انکے تحریر کردہ اردو ڈراموں کا مجموعہ ہے۔’کہانی کوئی سناؤ متاشا’ اور ‘جس دن سے’  ناول ہندی میں بھی شائع ہوئے۔ہندی افسانوں کے مجموعے ‘منت’ اور شیشے کا دروازہ’ شعری مجموعے’پتھروں کا شہر’ اور پھر کھلے پھول’ ڈراموں  کے مجموعے ‘با ادب با ملاحظہ ہوشیار’ اور’اور گھنگھرو بجتے رہے’ کو ہندی قارئین نے کافی پسند کیا ۔انہوں نے مجروح سلطان پوری کے کلام  کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔

 اگر کسی قلکار کی تخلیقات نصابی کتابوں میں شامل ہوں تو یہ  انکےمعیاری ہونے ثبوت ہے ۔صادقہ نواب سحر کی نظم’آؤ دعا مانگیں’ بال بھارتی کی اردو کی پانچویں درجے کی کتاب ‘تعارف اردو’ میں شامل ہے۔مغربی بنگال بورڈ آف سکینڈری ایجو کیشن کی اردو کی دسویں درجے کی نصابی کتاب’ ‘منتخبات اردو’ میں  انکا تحریر کردہ ڈرامہ’ سلطان محمود’ شامل ہے۔ آندھرا پردیش کی  سری ویکٹیشور یونیورسٹی کے بورڈ آف انٹر میڈیت کی سال دوم کی کتاب ‘جوہر ادب’ میں انکا افسانہ’میٹر گرتا ہے اور کرناٹک کی اگماہ دیوی ویمن یونیورسٹی کی بی اے کی کتاب ‘ادب شناسی’ میں صادقہ نواب کا افسانہ ‘ستوانسہ’ شامل ہے۔ اسکے علاوہ بھارتی گیان پیٹھ کے ذریعے شائع منتخب افسانوں کی کتاب’آج کی اردو کہانی’ میں انکا افسانہ ‘منت’ شامل ہے۔’صادقہ نواب سحر شخصیت اور فن۔ فکشن کے تناظر میں’ صادقہ نواب سحر کی شخصیت اور فن فکشن کے آئینے میں’ اور ‘صادقہ نواب سحر شاعری کے تناظر میں’ جیسی کتابیں دائرہ تحریر میں لاکر مرتبین نے فکشن کی اس تخلیق کار کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔جموں و کشمیر یونورسٹی کے شعبہ اردو کے اسکالر نسیم اختر نے اپنے ایم فل کے مقالے کے لئے صادقہ نواب کے ناول ‘کہانی کوئی سناؤ متاشا ‘کو منتخب کیا۔  پاکستان کی سرگودھا یونیورسٹی، جموں و کشمیر یونیورسٹی،حیدر آباد سینٹرل یو یونیورسٹی، آندھرا پردیش کی سری ویکٹیشور یونیورسٹی،فقیر موہن یونیورسٹی اڈیشہ  اور بنگلور کی  دکشن بھارت ہندی پرچار سبھا میں صادقہ نواب سحر کی ادبی خدمات، شخصیت اور تخلیقات کے حوالے سے اردو اسکا لرز نے مقالے تحریر کئے ہیں۔راولپنڈی پاکستان کا ادبی جریدہ ‘چہار سو’ ادبی ماہنامہ ‘شاعر’ اور سہ ماہی ‘اسباق’ صادقہ نواب سحر کی شخصیت اور قلمی خدمات پر خصوصی شمارے شائع کر چکا ہے۔صادقہ نواب کو ساہتیہ اکادمی ایوارڈ کے علاوہ مختلف سماجی ، ادبی اور ثقافتی تنظینموں کی جانب سے کم و بیش اکتیس اعزازات اور انعامات سے نوازہ جا چکا ہے۔

ایک ادیب کے طور پرصادقہ نواب سحر کے پہلو میں بھی ایک درد مند اور حساس دل دھڑکتا ہے۔وہ سماج میں عورت پر ہونے والے مظالم  اوراسکا جنسی استحصال دیکھ کر تڑپ اٹھتی ہیں۔انکا ناول ۔’کہانی کوئی سناؤ متاشا’ جنسی استحصال کی شکار ایک عورت کی اذیت ناک زندگی کا بیان ہے۔اس عورت کو کم عمری میں اسکے ایک قریبی رشتےدار نے ہوس کا شکار بنایا تھا۔ زندگی بھر وہ عورت اپنے ماضی کی اذیت ناکی کی قید سے باہر نہیں آسکی۔ یہ کہانی ملک کی لاکھوں کروڑوں ستم رسیدہ استحصال شدہ عورتوں کی کربناک داستان ہے۔ صادقہ نواب کے اس معرکت الارا ناول کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے اور صادقہ نواب کے انداز تحریر  کا لوہا مانئے۔

”آپکو کیسے معلوم؟ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ میں نے انہیں یووراج،بھرت،سمیر اور پربھاکر کے بارے میں بلکہ چٹھی والے سردار کے لڑکے تک کے بارے میں بتا دیا تھا۔ مگر موریشور کاکا کی یاد کو تو جیسے میں نے یادوں کے کولڈ اسٹوریج میں ڈال دیا تھا۔’بتاؤ’ انہوں نے دہاڑ کر کہا۔میرا دل دکھی ہو گیا، بتاؤں ،کیوں کہ ہم آپکے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔ میرے دل نے کہا۔ میں نے سب کچھ بتا دیا۔پہلی بار اس بارے میں بات کرتے ہوئے میرا دل جانے کس کس طرح سے تڑپا تھا۔ میں جیسے دوبارہ پندرہ سولہ سال کی عمر میں اپنے ہوئے بلاتکار سے تڑپنے لگی تھی۔یہی تو میں نہیں چاہتی تھی۔”  معروف  فکشن نگار اسلم جمشید پوری کے بقول۔ ”صادقہ نواب سحر کا شمار اردو کی ایسی شاعرہ اور فکشن نگار کے طور پر ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تخلیق سے اردو ادب کے قارئین کو چونکایا ہے۔آپکی تحریر میں دبے کچلے اور پسمنادہ طبقات کے مسائل کے علاوہ خواتین پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند ہوتی ہوئی سنائی پڑتی ہے۔

صادقہ نواب کے متعدد افسانوں میں مراٹھی جملوں کا  کافی استعمال ملتا ہے۔  مہاراشٹر کے ساحلی علاقوں کے پس منظر  والی کہانیوں میں  مراٹھی بولنے والے کرداروں کے مزاج اور انکے اطوار کی  عکاسی  کرنے کے لئےانہوں نےمراٹھی  زبان اردو ترجمے کے ساتھ  استعمال کی ہے۔ لیکن  یہ مراٹھی سے  نابلد اردو قاری  کی طبیعت پر قدرے گراں گزرتا ہے۔اردو میں مراٹھی پڑھ کر قاری کے پڑھنے کا ریدم متاثر ہوتا ہے۔ انکے افسانے ‘پیج ندی کامچھیرا’  کا یہ اقتباس پڑھئے۔

”آج ماجھیا گھری بکریا چا مٹن شِجیل!“(آج میرے گھر میں بکرے کا مانس پکے گا!) بارود پھینکتے ہوئے وہ بڑبڑا رہا تھا۔

پانی کی لہروں میں پَھٹ پَھٹ کی آواز کے ساتھ ڈھیر ساری مچھلیاں اچھلیں اور پانی کی سطح پرمَری ہوئی مچھلیاں دکھائی دینے لگیں۔اس نے جُھک کر کچھ مچھلیوں کو ہاتھ میں پکڑ لیااور چلّایا۔”ایکلا تُمہی ماشیان نو! آج ماجھیا گھری بکریا چا مٹن شِجیل!“ (سنا مچھلیو! آج میرے گھر میں بکرے کا مانس پکے گا!)

چلتے چلتے صادقہ نواب کی ایک نظم ‘ باوجود’ کو پڑھ کر انکی فکر کی جولانیوں کا اندازہ لگائیے۔

          مرا سوال دوسرا تھا تم نے کیا سمجھ لیا

          میں آرزو کے محل کی مسحور اک پری سی تھی،

          جس کی چال میں لچک تھی جس کے ہونٹ پہ ہنسی…

          تم آرزو کے محل کی دیوار سے لگے ہوئے،

          کھڑے تھے میری  زندگی کی ڈور سے جُڑے ہوئے

          میں آنکھ بھر کے دیکھتی تمہیں،

          تو پوچھتی کہ تم نے ڈور کیوں ہے تھام لی۔

          مگر نظر جو آئے تم  تو آنکھ کب اُٹھی مِری…؟

          جھکی نظر سے میں نے یہ کہا کہ میں وجود ہوں

          تمہاری زندگی کی اُلجھنوں کے باوجود ہوں

          میں آرزو کے محل کی مسحوراک پری سی تھی

          تمہارے لوہے کے محل کی زنگ سے بھری ہوئی،

          رنگ کا غلاف اوڑھے شان سے تنی ہوئی

          گلی میں مجھ کو چھوڑ کر

          وجود کی تلاش میں نکل نہ جاؤ تم کہیں….!

مضمون نگار۔ جمال عباس فہمی

(شاعر،صحافی اور ادبی کالم نگار)

Related posts

امریکی فوج کےفغانستان سے مکمل انخلا سے قبل حکومت کی تشکیل نہیں ۔ طالبان

qaumikhabrein

اسرائیلی صدر کی متحدہ عرب امارات کے نئے صدر سے ملاقات

qaumikhabrein

اسرائیل سے دوستی نہ کرنا شامی صدر کو مہنگا پڑا

qaumikhabrein

Leave a Comment