
جرمنی کے معروف مصنف ٹوڈن ہوفِر کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے۔ انکا قصور یہ ہیکہ انہوں نے ٹویٹ کرکے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے یہ سوال کرلیا تھا کہ فلسطنیوں کے ساتھ جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر انکا ضمیر کیا احتجاج نہیں کرتا۔ انہوں نے لکھا: “مسٹر نیتن یاہو، کیا آپ کی ضمیر کبھی احتجاج نہیں کرتا جب آپ فلسطینیوں کے ساتھ وہی کر رہے ہوتے ہیں جو ملعون نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا؟”

18 اکتوبر 2025 کو میونخ پولیس نے ٹوڈن ہوفِر کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا، فون اور کمپیوٹر ضبط کر لیے، اور مقدمہ درج کیا۔ ٹوڈن ہوفِر نے گرفتاری کے بعد کہا: “کیا جرمنی میں دوبارہ ‘تفصیل کی پولیس’ واپس آ گئی ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ اگر قید کی سزا آئی تو یہ ان کے لیے اعزاز ہوگا، کیونکہ “فلسطین میں امن اور آزادی کی حمایت ہماری ذمہ داری ہے۔” یہ واقعہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کی طرف سے نیتن یاہو کے خلاف جاری وارنٹ کے پس منظر میں ہوا، جو غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات پر مبنی ہے۔

84 سالہ یورگن ٹوڈن ہوفِر، ایک ایسے جرمن مصنف، صحافی اور سیاستدان ہیں جو جرمن ادب اور سیاست کی دنیا میں ایک متنازعہ ستون ہیں۔ 12 نومبر 1940 کو آفیبورگ شہر میں پیدا ہونے والے ٹوڈن ہوفِر نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1972 سے 1990 تک کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یو) کی طرف سے جرمن پارلیمنٹ کے رکن رہے۔ وہ ترقیاتی پالیسیوں اور ہتھیاروں کے کنٹرول کے ماہر سمجھے جاتے تھے، مگر ان کی اصل شہرت صحافتی مہم جوئیوں سے ملی۔ تنازعات والے علاقوں جیسے افغانستان، عراق اور شام کا دورہ کر کے انہوں نے جنگی حقیقتوں کو قلم بند کیا.

2014 میں وہ پہلے مغربی صحافی تھے جو آئی ایس آئی ایس کے زیرِ قبضہ علاقوں میں گئے، جہاں انہوں نے دہشت گردوں سے انٹرویوز لیے اور اپنی کتاب Inside IS میں ان کی نفسیات کو کھوجا۔ ان کی دیگر کتابیں جیسے Why Do You Kill? اور Du sollst nicht töten جنگ کی بے رحمی، امن کی اہمیت اور انسانی حقوق پر مبنی ہیں، جو انہیں ایک پرامن پسند (پیسیفسٹ) اور فلسطین کی حمایت کرنے والے کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ 2020 میں سی ڈی یو چھوڑ کر انہوں نے ‘دی جسٹس پارٹی’ قائم کی، جو فلسطینی حقوق اور انصاف کی آواز بن گئی۔
