
کراچی میں آج پاکستان کے بانی محمدعلی جناح کا جو مزار موجود ہے اسکی تعمیر میں ہندستان کے وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بات تو حیرت انگیز ہے لیکن حقیقت یہی ہے۔ بات ستمبر 1960 کی ہے۔ جب ہندستان اور پاکستان کے درمیان انڈس واٹر ٹریٹٰی( اندس آبی معاہدہ) پر دستخط کرنے کے لئے پنڈت نہرو کراچی گئے تھے۔ اس وقت جنرل ایوب خاں پاکستان کے صدر تھے۔ یہ آبی معاہدہ ورلڈ بینک کی ثالثی میں ہوا تھا۔ ورلڈ بینک کے صدر یوجین بلیک کی موجودگی میں معاہدے پر پنڈت نہرو اور ایوب خاں نے دستخط کئے تھے۔

معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد پنڈت نہرو نے محمد علی جناح کی قبر پر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت جناح کی قبر مٹی کے ایک ٹیلے پر شامیانے کے نیچے تھی۔ قبر تک پہونچنے والا راستہ بھی کچا اور دھول بھرا تھا۔ اس وقت وہ علاقہ قائد آباد کہلاتا تھا۔ پنڈت نہرو جناح کی قبر پر کچھ تک خاموش کھڑے رہے۔ جناح کی قبر سے لوٹنے کے بعد جب پنڈت نہرو نے صدر ایوب سے ملاقات کی تو انہوں نے کہا کہ محمد علی جناح کی قبر کی حالت دیکھ کر انہیں بہت افسوس ہوا ہے۔ جناح وہ شخص تھے کہ اپنے سوٹ پر گرد کاایک ذرہ بھی گوارا نہیں کرتے تھے اور اہل پاکستان نے انہیں کس حال میں رکھا ہوا ہے۔ پنڈت نہرو کے پاکستان سے رخصت ہونے کے بعد صدر ایوب نے کابینہ کی میٹنگ طلب کی اور کہا کہ ایک بنیا مجھے شرمندہ کرکے چلا گیا۔ ہمیں فوری طور پر بانی پاکستان کا شاندار مزار تعمیر کرنا ہے۔

اسکا مطلب یہ ہوا کہ اگر پنڈت نہرو پاکستانی صدر ایوب خاں کو غیرت نہ دلاتے تو محمد علی جناح کی قبر آج بھی اسی حالت میں ہوتی جیسی 1960 میں تھی۔ پاکستانیوں کو پنڈت نہرو کا شکر گزار ہونا چاپئے کہ انکی وجہ سے آج انکے قائد اعظم محمد علی جناح کا شاندار مزار موجود ہے۔
