
‘اک کلی راز ہستی کو سمجھا گئی’ کہنہ مشق اور استاد شاعر عزیز الرحمان عزیز نہٹوری کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی رسم اجرا کی تقریب عظیم الشان طریقے سے ضلع نہٹور کے قصبہ منڈاور کے ایک بینکویٹ ہال میں منعقد ہوئی۔رسم اجرا کی اس تقریب میں اردو ادب کی کئی نامور ہستیوں نے شرکت کی۔منڈاور کے سابق چیئرمین نگر پنچایت محمد ہاشم ایڈووکیٹ کی صدارت میں منعقدہ اس تقریب میں پروفیسر شہپر رسول، اسد رضا ،اے نصیب خاں ،ڈاکٹر شمع افروز زیدی، امیر نہٹو ری اور شیخ نگینوی نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز حافظ ندیم نے کلام الہیٰ کی تلاوت سے کیا۔ جبکہ ڈاکٹر نیر وپما چودھری نے شمع روشن کی۔مسند نشین تمام اہل قلم حضرات نے عزیز نہٹوری کی شخصیت اور شاعری پر اظہار خیال کیا۔

پروفیسر شہپر رسول نے اس بات پر حیرت ظاہر کی کہ86 سالہ عزیز نہٹوری ایک طویل عرصے سے گیسوئے سخن سنوارنے میں لگے ہیں لیکن اب جا کر انکا پہلا شعری مجموعہ شائع ہوا ہے جبکہ انکے کئی شاگردوں کے بھی کئی کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ پروفیسر شہپر رسول نے توقع ظاہر کی کہ انکا اگلا شعری مجموعہ بھی جلد منظر عام پر آئےگا۔ ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے عزیز نہٹوری کے ساتھ اپنے قریبی تعلق کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عزیز نہٹوری مزاج کے اعتبار سے انکساری اور سادگی کا نمونہ ہیں انکی شاعری کی زبان بھی نہایت ساد ہ ہے لیکن اس میں غضب کی پرکاری ہے۔
اسد رضا اور ماہر مترجم اے نصیب خاں نے عزیز نہٹوری کی شاعری کے محاسن بیان کئے۔انہوں نے عزیز نہٹوری کے اپنے پسندیدہ اشعار پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزیز نہٹوری کے یہاں غم ذات کے ساتھ ساتھ غم کائنات بھی ہے۔عزیز نہتوری نے اس موقع پر اپنا کلام بھی پیش کیا۔
ساز کہنہ ہے نیا ساز کہاں سے لاؤں
غالب و میر کا انداز کہاں سے لاؤں
کیا ہوا کیسے ہواسوچتے رہ جاؤ گے
میں چلا جاؤں گا تم دیکھتے رہ جاؤگے
نام لو اسکا تو ہو جائے دہن خوشبو کا
پھر جو نکلے گا تو نکلے گا سخن خوشبو کا
دھیان جاتا نہیں آلودگی دل کی طرف
صرف ہے تن کے لباسوں میں چلن خوشبو کا
علامہ انور صابری کے شاگرد عزیز نہٹوری کے مجموعہ کی اشاعت اور شاندار پیمانے پر رسم اجراء کی تقریب ان کے بھانجے اور صنعت کار محمد زہیب، اور عزیز صاحب کے شاگرد غزال مہدی کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ مجموعہ کی طباعت ڈاکٹر شمع افروز زیدی کی نگرانی میں عمل میں آئی۔ رسم اجراء اور محفل مشاعرہ کے اہتمام میں غزال مہدی کے علاوہ اطاعت حسین اور سکندر اقبال معاون رہے۔

رسم اجراکی تقریب کے بعد مشاعرے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ جس میں حسن کاظمی، پروفیسر شہپر رسول، اسد رضا،جمال فہمی، خورشید مظفر نگری ،ندیم شاد، ،ابو ذر نوید، حیدر کرتپوری،احتشام اعظمی،بدر الدین ضیا،شاد فریدی،اقیم الدین اقیم ،نکہت امروہوی اور ڈاکٹر نیر وپما چودھری نے کلام پیش کیا۔ مشاعرے کی نظامت فاخر ادیب نے کی۔

