
جی ہاں یہ حقیقت ہیکہ شام کے سابق صدر بشار الاسد نے اسرائل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس حقیقت کا انکشاف اسرائل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرت نے کیا ہے۔ اولمرٹ نے ایک مقامی اسرائیلی ریڈیو سٹیشن کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اگر بشار الاسد نے 2008 میں امن معاہدے پر دستخط کیے ہوتے تو شام 14 سال کی جنگ اور تباہی سے بچ سکتا تھا۔اولمرٹ نے کہا اسد نے ہمارے ساتھ 2008 میں امن معاہدے پر دستخط نہ کرکے سب سے بڑی غلطی کی۔اولمرٹ نے بتایا کہ اس کا طیارہ روانگی کے لیے تیار تھا اور ترکی کی ثالثی عروج پر تھی لیکن وہ آخری لمحے میں پیچھے ہٹ گیا۔ اگر وہ مان جاتا تو شام 14 سال کی تباہی میں نہ ڈوبتا۔

اسرائیلی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے اعتراف کیا کہ مغربی کنارے میں آباد کار اور حکومت کی کابینہ روزانہ کی بنیاد پر جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ اسرائیلی آبادکار روزانہ کی بنیاد پر مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ “اسرائیلی روزانہ کی بنیاد پر مغربی کنارے میں جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور میں اس کے سامنے خاموش نہیں رہوں گا۔

گزشتہ جولائی میں اولمرٹ نے اسرائیلی فوج اور پولیس کو اس انتہا پسند گروپ کے جرائم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس ان کے جرائم پر آنکھیں بند کر رہی ہے۔اولمرٹ 2006 سے 2009 تک اسرائیل کے 12ویں وزیر اعظم رہے۔
