
اردو ادب کے نمایاں شعرا میں شامل برج نارائن چکبست کی شخصیت اور ادبی خدمات پر بنارس ہندو یونیورسٹی میں دو روزہ سیمنار منعقد کیا گیا۔ سیمنار کا اہتمام یونیورسٹی کے شعبہ اردو نے کیا تھا۔یہ پہلا موقع ہیکہ جب بنارس ہندو یونیورسٹی میں چکبست کی شخصت پر کوئی سیمنار منعقد ہوا۔اس کامیاب سیمنار کے انعقاد کا سہرا اردو شعبے کے صدر اور نامور ناقد و محقق پروفیسر آفتاب احمد آفاقی کے سر ہے۔۔۔اس سیمینار کے ساتھ ا بناۓ قدیم کا جلسہ بھی منعقد ہوا۔سیمنار میں یونیورسٹی کے وائس چانسلر چانسلر پروفیسر اجیت کمار چتر ویدی بھی موجود تھے۔ انہوں نے اردو زبان کی لسانی اور ثقافتی اہمیت کا اعتراف کیا۔

برج نارائن چکبست اردو ادب کے ان نمایاں شعرا میں سے ہیں جنہوں نے انیسویں اور بیسویں صدی کے سنگم پر اردو شاعری کو ایک نئی سمت دی۔ وہ بیک وقت ایک حساس شاعر، باشعور دانشور اور سرگرم وطن پرست تھے۔
چکبست 1882 میں فیض آباد، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام برج نارائن چکبست تھا اور وہ کائستھ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ لکھنؤ ان کی علمی و ادبی تربیت کا مرکز رہا، جہاں انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور وکالت کو پیشہ بنایا۔
چکبست کی شاعری کلاسیکی اردو روایت اور جدید قومی شعور کا حسین امتزاج ہے۔ وہ میر، غالب اور انیس سے متاثر تھے، مگر ان کے کلام میں ایک انفرادی لہجہ اور گرمجوشی ہے جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتی ہے۔ ان کی شاعری میں وطن پرستی، انسان دوستی، اور ہندو مسلم اتحاد کے موضوعات بڑی خوبصورتی سے پیوست ہیں۔ انہوں نے مرثیے، نظمیں، اور غزلیں لکھیں مگر ان کی قومی نظمیں سب سے زیادہ مشہور ہوئیں۔

وہ علامہ اقبال کے ہم عصر تھے اور دونوں کے درمیان شعری مکالمہ اور خط و کتابت ادبی تاریخ کا دلچسپ باب ہے۔ اقبال نے چکبست کی شاعرانہ صلاحیت کو سراہا۔ لکھنؤ کے ادبی حلقوں میں وہ بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ چکبست صرف 44 سال کی عمر میں 1926 میں انتقال کر گئے۔ اتنی کم عمری میں جو ادبی سرمایہ وہ چھوڑ گئے وہ آج بھی اردو ادب میں ان کی جاودانی زندگی کی گواہی دیتا ہے۔ چکبست کو اردو ادب میں ایک پُل کی حیثیت حاصل ہے — وہ کلاسیکی روایت اور جدید قومی شعور کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی شاعری محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل فکری بیانیہ ہے جو آج بھی تازہ اور معنی خیز محسوس ہوتا ہے۔

