
دنیا کی تاریخ میں بہت سے عجیب لیڈر گزرے ہیں۔ کچھ نے جنگیں لڑیں، کچھ نے ہاریں، کچھ نے جیتیں — مگر ایک لیڈر ایسا بھی ہوا جس نے خود آگ لگائی، پھر پڑوسیوں کو للکارا کہ “بالٹی کیوں نہیں اٹھاتے؟ بزدلو!” یہ کہانی ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی — امریکہ کے 47ویں صدر، Truth Social کے سب سے سرگرم صارف، اور دنیا کے واحد لیڈر جنہوں نے ایک غیر قانونی جنگ چھیڑی، عالمی توانائی بحران پیدا کیا، اور پھر اتحادیوں کو بزدل قرار دے کر اپنا تیل بیچنے کی کوشش کی۔
جنگ کا آغاز — “یہ تو بہت آسان ہوگا”
ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ اس یقین کے ساتھ کیا کہ یہ ایک “decapitation” ہوگی — یعنی سر قلم، کام ختم، گھر واپس۔ منصوبہ سادہ تھا، جیسا کہ ٹرمپ کے تمام منصوبے ہوتے ہیں — بہت سادہ، بہت جلد بازی میں بنے، اور حقیقت سے بالکل بے خبر۔ انہوں نے سوچا کہ ایران گھٹنے ٹیک دے گا، آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، تیل بہتا رہے گا، اور وہ Mar-a-Lago میں گولف کھیلتے ہوئے فتح کا جشن منائیں گے۔ مگر ایران نے وہ کیا جو کوئی بھی کرتا — اس نے جواب دیا۔ آبنائے ہرمز بند ہوئی۔ دنیا کے تیل کی سب سے اہم گزرگاہ رک گئی۔ یورپ میں جیٹ ایندھن کی قلت شروع ہوگئی۔ اور عالمی توانائی بحران شروع ہو گیا۔
Truth Social پر “خارجہ پالیسی”
جب برطانیہ اور یورپی ممالک نے ایندھن کی کمی کا رونا رویا تو ٹرمپ نے وہ کیا جو وہ بہترین کرتے ہیں — Truth Social کھولا اور ٹائپ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے لکھا کہ جن ممالک کو جیٹ ایندھن نہیں مل رہا، ان کے لیے میرے پاس دو مشورے ہیں۔ پہلا یہ کہ امریکہ سے خریدو، ہمارے پاس بہت ہے۔ دوسرا یہ کہ تھوڑی ہمت جمع کرو، آبنائے ہرمز پر جاؤ اور خود لے آؤ۔ یہ ہے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی — ایک ٹویٹ میں سمائی ہوئی، دو نکاتی، اور کمال بے شرمی سے بھری ہوئی۔ پہلا نکتہ تجارتی ہے — یعنی میری جنگ نے بحران پیدا کیا، اب میرا تیل خریدو۔ دوسرا نکتہ اور بھی شاندار ہے — جاؤ، اس آبنائے پر جاؤ جہاں ایران کی میزائلیں تعینات ہیں، وہی جنگ جو میں نے شروع کی، اس میں کود جاؤ، اور تیل چھین لاؤ۔ البتہ میں نہیں آؤں گا — میں نے پہلے ہی بہت کر دیا۔

ہم جیت گئے” — بند آبنائے کے ساتھ
ٹرمپ نے یہ بھی اعلان فرمایا کہ ایران “essentially decimated” ہو چکا ہے اور “the hard part is done۔” یعنی مشکل کام ہو گیا، اب بس جاؤ اور اپنا تیل لے آؤ۔ یہ سن کر ذہن میں ایک تصویر ابھرتی ہے — کوئی شخص کسی کی دکان جلا کر کہے کہ “کام ہو گیا، اب تم جا کر سامان اٹھا لو۔” راکھ میں سے سامان ڈھونڈنا؟ وہ آپ کا کام ہے۔ آگ لگانا؟ وہ میں نے کر دیا۔
برطانیہ کو سبق
برطانیہ نے اس جنگ میں شامل ہونے سے انکار کیا تھا۔ یہ ایک سمجھ دار فیصلہ تھا۔ مگر ٹرمپ کو سمجھ دار فیصلے پسند نہیں آتے۔ انہوں نے برطانیہ کو طعنہ دیا کہ جیسے تم ہمارے کام نہ آئے، ویسے ہم تمہارے کام نہیں آئیں گے۔ ٹرمپ نے تاریخ کا یہ چھوٹا سا حصہ نظرانداز کر دیا کہ دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ اکیلا لڑتا رہا جب امریکہ خاموش بیٹھا تھا۔ مگر تاریخ سے ٹرمپ کی اتنی ہی واقفیت ہے جتنی گولف کے میدان سے جغرافیے کی۔

اصل چہرہ
اس پورے قصے میں ٹرمپ کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ انہوں نے ایک ایسی جنگ شروع کی جس کے نتائج کا انہیں اندازہ نہ تھا یا پروا نہ تھی۔ جب نتائج سامنے آئے تو ذمہ داری لینے کے بجائے اتحادیوں کو کوسنے لگے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اس بحران سے منافع کمانے کی کوشش بھی کی — امریکی تیل بیچ کر۔ یعنی آگ لگانا، لوگوں کو جلتا چھوڑنا، اور پھر بالٹی بیچنا — یہ ہے ٹرمپ کی “America First” پالیسی۔
آخری بات
دنیا کے لیڈروں سے غلطیاں ہوتی ہیں — یہ فطری ہے۔ مگر ایک لیڈر کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ غلطی کے بعد کیا کرتا ہے۔ کیا وہ ذمہ داری قبول کرتا ہے؟ کیا وہ نقصان کم کرنے کی کوشش کرتا ہے؟ کیا وہ اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے؟ ٹرمپ نے یہ سب کرنے کے بجائے Truth Social کھولا اور برطانیہ کو “بزدل” کہا۔ شاید یہی وہ “courage” ہے جس کا ذکر انہوں نے اپنے پیغام میں کیا — مگر وہ courage دوسروں کے لیے مانگی، خود کے لیے نہیں۔
