qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

جزبہ شہادت سے بھری قوم کو کون شکست دے سکتا ہے

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے پلوں، بجلی گھروں اور تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دی تو دنیا نے سوچا کہ شاید یہ دھمکی ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایران کے ہر شہر، ہر قصبے اور ہر گاؤں میں لوگ گھروں سے نکل آئے اور اپنے ملک کے پلوں اور بجلی گھروں پر انسانی زنجیریں بنا کر کھڑے ہو گئے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں امریکی طیاروں کی بمباری کا خوف نہیں تھا بلکہ انہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کو بتایا کہ ایرانی قوم مرنے سے نہیں ڈرتی۔

ایرانی عوام کا یہ جذبہ کسی ایک دن یا کسی ایک واقعے کی پیداوار نہیں ہے۔ اس کی جڑیں ہزاروں سال کی تاریخ میں پیوست ہیں۔ یہ وہ قوم ہے جس نے یونانیوں، منگولوں، عربوں اور برطانویوں کے طوفانوں کو جھیلا اور پھر بھی اپنی تہذیب، اپنی زبان اور اپنی پہچان کو زندہ رکھا۔ ایران کو کوئی فتح نہ کر سکا کیونکہ اس قوم نے اپنی روح کو کبھی مفتوح نہیں ہونے دیا۔

ایرانی قوم کے اس جذبے کی سب سے گہری جڑیں کربلا  کی سرزمین میں پیوست ہیں۔ کربل سے ملا سبق صدیوں سے ان کے خون میں شامل ہے۔ امام حسین نے یزید کے سامنے سر نہ جھکایا حالانکہ ان کے ساتھ مٹھی بھر ساتھی تھے اور دشمن کا لشکر لاکھوں کا تھا۔ یہی سبق ایرانی قوم نے اپنے دلوں میں محفوظ کر لیا ہے کہ ظالم کے سامنے جھکنا موت سے بھی بدتر ہے۔ جو قوم کربلا کو اپنا نصب العین بنا لے اسے کوئی میزائل، کوئی پابندی اور کوئی دھمکی نہیں توڑ سکتی۔

پلوں پر کھڑے ان لوگوں نے دنیا کو صرف مزاحمت کا نظارہ نہیں دکھایا بلکہ انہوں نے ایک اخلاقی پیغام دیا۔ وہ پیغام یہ تھا کہ اگر تم ہمارے پلوں کو اڑانا چاہتے ہو تو پہلے ہمیں اڑاؤ، اگر تم ہماری تہذیب کو مٹانا چاہتے ہو تو پہلے ہمارے سینوں کو روندو۔ یہ وہ اخلاقی برتری ہے جو کسی طاقتور ملک کے پاس نہیں ہوتی۔ طاقت بموں میں ہوتی ہے لیکن اخلاقی فتح ان لوگوں کی ہوتی ہے جو اپنی جان دے کر اپنی زمین اپنے وقار اور اپنی خود داری کی حفاظت کرتے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ جس قوم میں جینے کی نہیں مرنے کی تمنا ہو اسے فوجی طاقت سے نہیں ہرایا جا سکتا۔ امریکہ نے ویتنام میں لاکھوں بم گرائے لیکن ویتنامی قوم کے جذبے کو نہ توڑ سکا۔ ۔ فلسطینی دہائیوں سے ظلم سہہ رہے ہیں لیکن انہوں نے اپنا مقصد نہیں چھوڑا۔ یہی ایران کی کہانی ہے۔ ایران پر دہائیوں سے سخت ترین پابندیاں عائد ہیں، اس کے سائنسدانوں کو قتل کیا گیا، اس کے مذہبی پیشوا کو شہید کیا گیا۔ اسکے فوجی  افسروں اور سیاستدانوں کو  قتل کیا گیا۔اسکے ایٹمی پروگرام کو سبوتاژ کیا گیا لیکن ایرانی قوم نے ہر بار اپنے زخم خود سیئے اور دوبارہ کھڑی ہو گئی۔

ٹرمپ کی دھمکی دراصل ایک غلط فہمی پر مبنی تھی۔ یہ غلط فہمی یہ تھی کہ جو قوم معاشی تکلیف میں ہو وہ ڈر جاتی ہے۔ لیکن ایرانی عوام نے ثابت کیا کہ جب بیرونی دشمن دھمکیاں دیتا ہے تو اندرونی اختلافات پس پشت چلے جاتے ہیں اور پوری قوم ایک مٹھی بن جاتی ہے۔ پلوں پر کھڑے ایرانی صرف حکومت کا دفاع نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ اپنی سرزمین، اپنی تہذیب اور اپنی آنے والی نسلوں کا دفاع کر رہے تھے۔

آج کی دنیا میں جہاں بہت سی قومیں دولت اور آرام کے لیے اپنی غیرت بیچ دیتی ہیں وہاں ایرانی قوم کا یہ جذبہ ایک روشن مثال ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس نے ثابت کیا کہ انسان کی سب سے بڑی طاقت اس کا ایمان اور اس کا حوصلہ ہے نہ کہ اس کے پاس موجود ہتھیار۔ جس قوم کے اندر شہادت کا جذبہ بھرا ہو اسے نہ میزائل مٹا سکتے ہیں نہ پابندیاں توڑ سکتی ہیں اور نہ دھمکیاں جھکا سکتی ہیں۔ ایرانی قوم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ مرنے کا حوصلہ رکھنے والوں کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

Related posts

آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای اپنے شہید والد کے جانشین منتخب

qaumikhabrein

مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کے سی ای او انیس شیخ مستعفی۔مفاد پرست ٹولے سے تھے پریشان۔

qaumikhabrein

ہالینڈ اور سویڈن کے سامان کا بائکاٹ کیا جائے۔جامعۃ الازہر کی مسلمانوں سے اپیل

qaumikhabrein

Leave a Comment