
چوبیس گھنٹوں سے بھی کم عرصے میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوا جنگ بندی معاہدہ کھٹائی میں پڑتا نظر آرہا ہے۔ اسرائل نے لبنان پر بھیانک حملے کئے ہیں اس نے ایران کی ایک جوہری تنصیب کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایران نے دھمکی دی ہیکہ اگر اسرائل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری رکھی تو وہ جنگ بندی معاہدے سے الگ ہو جائےگا۔ اس درمیان ایران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کردیا ہے۔معاملہ جنگ بندی معاہدے کی تشریح کا ہے۔ ایران کا کہنا ہیکہ معاہدے میں لبنان کا حزب اللہ بھی شامل ہے جبکہ اسرائل کہتا ہیکہ حزب اللہ اس معاہدے سے الگ ہے۔ اسرائل کی ہاں میں ہاں ٹرمپ نے بھی ملائی ہے۔
اسرائل نے بیروت پر محض 10 منٹ کے اندر 100 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا ۔اس دوران لبنان میں 254 افراد ہلاک اور 890 سے زائد زخمی ہوئے۔ لبنان کے شہر Sidon میں اسرائیلی حملے میں معروف عالمِ دین شیخ صادق النابلسی شہید ہو گئے ہیں۔

اصل تنازعہ معاہدے کی تشریح پر ہے۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، جن کی حکومت نے ثالثی کا کردار ادا کیا، نے اعلان کیا کہ جنگ بندی لبنان سمیت “ہر جگہ” فوری طور پر نافذ ہوگی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسی روز ٹیلی وژن پر آ کر صاف کہا کہ “جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔” ٹرمپ نے بھی اسرائیلی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ “حزب اللہ معاہدے میں شامل نہیں تھی، اسے بھی نپٹا لیا جائے گا۔”
ایران نے اسرائلی کاروائی کو کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایرانی پارلیمانی اسپیکر غالی باف نے کہا کہ ایران کی 10 نکاتی شرائط میں سے 3 کی خلاف ورزی پہلے ہی روز ہو گئی: لبنان پر اسرائیلی حملے، ایرانی فضائی حدود میں ڈرون کا داخلہ، اور یورینیم افزودگی کے حق سے انکار۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت روک دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا کہ “گیند امریکہ کے پالے میں ہے اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ آیا وہ اپنے وعدوں پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔”

نیتن یاہو نے خود کہا کہ جنگ بندی “جنگ کا خاتمہ نہیں، بلکہ ایک پڑاؤ ہے۔” اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کیے اور نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کا افزودہ یورینیم “مذاکرات سے یا طاقت سے” ہٹوایا جائے گا۔
ٹرمپ کا کردار بھی پیچیدہ ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے جنگ بندی سے پہلے اسرائیل سے مشورہ نہیں کیا، لیکن جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی لبنان پالیسی کی بھرپور حمایت کی۔ ۔یہ شک کیا جاسکتا ہیکہ ایک طرف ٹرمپ نے عالمی دباؤ اور مواخزے کے خطرے کو دیکھتے ہوئے ایران کی شرطوں کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ بندی معاہدہ کرلیا لیکن دوسری طرف اسرائل کو اپنے حساب سے کام کرتے رہنے کا اشارہ دےدیا ہے۔

رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت نے لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اور حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کو دہشت گردانہ فضائی حملے میں شہید کرنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔
ایران نے جنگ بندی اور مذاکرات کے لئے جو شرائط پیش کی ہیں اور جنہیں امریکی صدر ٹرمپ نے قبول کیا ، ان میں مزاحمتی گروہوں پر حملوں کی بندش بھی شامل ہے۔ لیکن گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہیکہ لبنان جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں۔
ادھر امریکہ کے انسداد دہشت گردی کےنیشنل سینٹرکے سابق ڈائریکٹر جو کینٹ نے امریکی انتظامیہ کو متنبہ کیا تھا کہ اسرائل جنگ بندی معاہدے کو کامیاب نہیں ہونے دیگا۔ کینٹ نے اسرائل کو ہر قسم کی مدد بند کردینے کی سفارش کی ہے۔
اگر اسرائیل نے لبنان پر حملے نہ روکے اور ایران نے آبنائے ہرمز بند رکھی تو یہ 2 ہفتے کی جنگ بندی بھی غزہ جنگ بندی کی طرح ایک کاغذی معاہدہ بن کر رہ جائے گی۔ ایران نے جنگ بندی میں ثالثی کرنے والے ملکوں پر واضح کردیا ہیکہ اگر اسرائیل کے حملے جاری رہے تو وہ جنگ بندی معاہدے سے الگ ہو جائےگا۔
10 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان پاکستانی ثالثی میں مذاکرات ہونا طے ہےلیکن حالات جس اندز سے کروٹ لے رہے ہیں ان میں اس بات کا امکان کم ہی ہیکہ یہ مذاکرات ہو پائیں گے۔
