qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

فلسطین۔۔ تباہی و بربادی کے درمیان کامیابی

دنیا کے نقشے پر کچھ خطے ایسے ہیں جن کا ذکر آتے ہی ذہن میں ملبے، آہوں اور بے گھری کی تصویریں ابھر آتی ہیں۔ فلسطین انہی خطوں میں سے ایک ہے۔ وہاں کی نئی نسل نے آنکھ کھولی تو اسے کھیل کے میدان کم اور محاصرے، بندشیں اور بے یقینی زیادہ ملی۔مگر تاریخ بارہا یہ ثابت کرتی آئی ہے کہ جہاں حالات سب سے زیادہ تنگ ہوتے ہیں، وہیں سے کبھی کبھی ایسی روشنی پھوٹتی ہے جو پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔

مریم بشارات کی کہانی ایسی ہی ایک روشنی ہے۔ سترہ سالہ فلسطینی کھلاڑی مریم بشارات نے پولینڈ کے شہر بیلسکو بیالا میں ہونے والی کیڈٹ، جونیئر اور انڈر 21 کراٹے عالمی چیمپئن شپ میں جونیئر خواتین کے انڈر 66 کلوگرام کے مقابلے کا فائنل جیت لیا۔ 17 اکتوبر 2026 کو کھیلے گئے اس فائنل میں انھوں نے ہسپانوی حریف نوا لوپیز گونزالیز کو 3 کے مقابلے میں 1 پوائنٹ سے شکست دی۔ بتایا گیا ہے کہ فائنل تک پہنچنے کے راستے میں انھوں نے ایک جاپانی حریف کو بھی ہرایا۔ یہ جیت اس لیے اور بھی نمایاں ہے کہ انھوں نے اپنے اس عالمی اعزاز کا کامیاب دفاع کیا جو پہلی بار 2024 میں ان کے حصے میں آیا تھا، جب انھوں نے وینس میں کیڈٹ خواتین کے 61 کلوگرام سے اوپر کے فائنل میں مصر کی رؤعہ محمد کو 2 کے مقابلے میں 0 سے مات دی تھی۔ یوں وہ مسلسل دوسری بار عالمی چیمپئن بن گئی ہیں۔

یہ کامیابی کسی ایک دن کی کارکردگی کا نتیجہ نہیں۔ پہلے عالمی اعزاز کے بعد بھی مریم کا سفر رکا نہیں۔ وہ براعظمی چیمپئن ہیں، کراٹے 1 یوتھ لیگ کے متعدد خطاب جیت چکی ہیں اور اپنی کیٹیگری میں دنیا کی صفِ اول کی کھلاڑیوں میں شمار ہوتی ہیں۔ کراٹے ایسا کھیل ہے جس میں جسمانی طاقت کے ساتھ ذہنی ارتکاز، نظم و ضبط اور صبر بنیادی شرط ہیں۔ جو لڑکی بین الاقوامی مقابلوں میں بار بار سرخرو ہوتی ہے، اس کے پیچھے برسوں کی مشقت، سفر کی دشواریاں اور وسائل کی کمی سے لڑنے کا حوصلہ بھی ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ ایسی سرزمین سے تعلق رکھتی ہو جہاں تربیت کے لیے سازگار ماحول میسر آنا خود ایک چیلنج ہے۔

اس خبر کا ایک پہلو علامتی بھی ہے۔ فلسطین کا ذکر عموماً سیاست، جنگ اور انسانی بحران کے حوالے سے ہوتا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ یہ مسائل حقیقی اور سنگین ہیں۔ لیکن کسی قوم کی پہچان صرف اس کے زخموں سے نہیں بنتی۔ اس کی پہچان اس کے نوجوانوں کے خوابوں، ان کی محنت اور ان کی کامیابیوں سے بھی بنتی ہے۔ جب ایک فلسطینی لڑکی عالمی پوڈیم پر کھڑی ہوتی ہے تو وہ دنیا کو یاد دلاتی ہے کہ یہاں کے لوگ محض متاثرین نہیں، صلاحیت اور عزم رکھنے والے انسان بھی ہیں۔

مریم کی فتح دنیا بھر کے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی ہے کہ لگن، نظم و ضبط اور استقامت حالات کی تنگی سے بڑی قوتیں ہیں۔ ایک طرف تباہی کے مناظر ہیں اور دوسری طرف ایک نوجوان کھلاڑی کا بلند ہوتا پرچم۔ یہ دونوں تصویریں مل کر فلسطین کی مکمل کہانی سناتی ہیں، ایسی کہانی جس میں دکھ بھی ہے اور ہار نہ ماننے کی ضد بھی۔ مریم بشارات کا گولڈ میڈل اسی ضد کا اعلان ہے، اور اس کے حامیوں کے لیے جشن منانے کا ایک جائز موقع بھی۔

Related posts

رمضان المبارک۔ مختلف ملکوں میں روزے کا دورانیہ ساڑھے 11 سے 17 گھنٹے کے قریب ہوگا۔

qaumikhabrein

فلسطین حامیوں نےسویڈن کی وزیر خارجہ پر ٹماٹر پھینکے

qaumikhabrein

اورنگ آباد میں مہاراشٹر اسٹیٹ وقف بورڈ کی میٹنگ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment