
کچھ زندگیاں محض سوانح نہیں ہوتیں، وہ پورے معاشرے کے لیے ایک جواب بن جاتی ہیں۔ پروفیسر بشریٰ عتیق کی کہانی ایسی ہی ایک مثال ہے۔ آج وہ ہندوستان کے ممتاز ترین ماہرینِ کینسر بائیولوجی اور مالیکیولر میڈیسن میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کا تعلق اتر پردیش کے شہر بریلی سے ہے، جو کوئی بڑا سائنسی مرکز نہیں، بلکہ ایک عام درمیانے درجے کا شہر ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بریلی ہی کے گرلز انٹر کالج اور سینٹ ماریا گوریٹی ہائی اسکول میں ہوئی۔ یعنی اس سفر کا آغاز انھی عام اسکولوں کی کلاسوں سے ہوا جہاں ملک کی لاکھوں بچیاں پڑھتی ہیں۔
بریلی کے بعد انھوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا، جہاں زولوجی میں بی ایس سی اور ایم ایس سی مکمل کی۔ یہ برس ان کے لیے صرف ڈگریوں کے حصول کا زمانہ نہیں تھے۔ انھوں نے یہیں سیکھا کہ تحقیق اور علم کا رشتہ سماج کی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ سر سید احمد خان کا یہی تصور انھوں نے آج تک اپنے ساتھ رکھا ہے۔ اس طرح ایک چھوٹے شہر کی بچی کو پہلے اسکول نے بنیاد دی اور پھر علی گڑھ نے سمت اور وسعت عطا کی۔

علی گڑھ سے آئی آئی ٹی کانپور تک کا فاصلہ محض جغرافیائی نہیں، یہ اعتماد، محنت اور مسلسل جدوجہد کا فاصلہ ہے۔ آج وہ آئی آئی ٹی کانپور میں پروفیسر ہیں اور کینسر بائیولوجی لیب کی سربراہی کرتی ہیں۔ ان کا کام اس سوال کے گرد گھومتا ہے کہ رسولیاں کیسے بڑھتی ہیں اور علاج کو ہر مریض کی ضرورت کے مطابق کیسے ڈھالا جائے۔ ان کی تحقیق دنیا کے معتبر سائنسی جرائد میں شائع ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر اس کا اعتراف کیا گیا ہے۔ 2020 میں انھیں طبی علوم کے شعبے میں شانتی سروپ بھٹناگر انعام ملا، جو ہندوستان میں سائنس کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک ہے۔ مگر انعامات سے آگے ان کی شناخت ایک ایسی استاد کی ہے جو نئی نسل کے محققین کو صبر اور لگن کے ساتھ تیار کرتی ہیں۔

اس کہانی کو مسلم لڑکیوں کی بدلتی ہوئی حالت کے پس منظر میں دیکھنا اس لیے ضروری ہے کہ ایک طویل عرصے تک ہمارے سماج میں لڑکیوں کی تعلیم کو یا تو غیر ضروری سمجھا گیا یا اسے محض شادی کی تیاری تک محدود رکھا گیا۔ غربت، روایتی سوچ، تحفظ کے خدشات اور وسائل کی کمی نے بہت سی ذہین بچیوں کے خواب راستے ہی میں دم توڑنے پر مجبور کر دیے۔ بہت سے گھروں میں آج بھی یہ سوال اٹھتا ہے کہ لڑکی کو اتنا پڑھا کر کیا کرنا ہے۔ ایسے ماحول میں بشریٰ عتیق کی مثال خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ وہ کسی بڑے میٹروپولیس سے نہیں، بریلی جیسے شہر سے اٹھیں۔ ان کی زندگی بتاتی ہے کہ بڑی کامیابی کے لیے بڑے شہر کا ہونا ضروری نہیں، ضروری یہ ہے کہ بیٹی کو پڑھنے کا موقع ملے اور اس کے خواب کو سنجیدگی سے لیا جائے۔

حالات بدل رہے ہیں، اگرچہ رفتار ابھی ہموار نہیں۔ آج مسلم لڑکیاں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر پہلے سے زیادہ نظر آتی ہیں۔ وہ میڈیکل، انجینئرنگ، قانون، سائنس اور سول سروسز جیسے میدانوں کا رخ کر رہی ہیں۔ بہت سے خاندانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ بیٹی کی تعلیم پورے گھر کی تعلیم ہے۔ لیکن یہ تبدیلی ابھی ہر جگہ نہیں پہنچی۔ چھوٹے قصبوں، دیہات اور کم آمدنی والے خاندانوں میں آج بھی بہت سی بچیاں کم عمری کی شادی، گھریلو ذمہ داریوں اور مالی مجبوریوں کی وجہ سے پڑھائی چھوڑ دیتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ کامیاب خواتین کی کہانیاں صرف تعریف کے لیے نہیں، بلکہ رہنمائی اور حوصلے کے لیے عام کی جائیں۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا کردار اس سلسلے میں غیر معمولی رہا ہے۔ سر سید نے جدید تعلیم کا جو خواب دیکھا تھا، اس میں آگے چل کر لڑکیوں کی تعلیم کو بھی جگہ ملی، اور آج اس ادارے سے نکلنے والی خواتین ملک اور بیرونِ ملک اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ بشریٰ عتیق کا تجربہ یہ بھی دکھاتا ہے کہ بریلی کے اسکولوں اور علی گڑھ جیسے ادارے کا ساتھ مل کر کیا نتیجہ دے سکتا ہے۔ اگر ابتدائی تعلیم مضبوط ہو اور آگے کے لیے کوئی معتبر ادارہ دستیاب ہو تو چھوٹے شہروں کی بچیاں بھی بلند ترین علمی مقام تک پہنچ سکتی ہیں۔
یہ حقیقت یاد رکھنی چاہئے کہ کسی ایک کامیاب خاتون کی مثال کافی نہیں، اسے ایک مسلسل روایت بننا چاہیے۔ والدین کو چاہیے کہ بیٹیوں کی صلاحیتوں پر اعتماد کریں، تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ لڑکیوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کریں، اور معاشرے کو چاہیے کہ کامیابی کے راستے میں آنے والی رکاوٹیں دور کرے۔ جب ایک بیٹی کو پڑھنے، سوچنے اور تحقیق کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں بدلتی، پورے سماج کو بدل دیتی ہے۔ بریلی کی گلیوں سے نکل کر آئی آئی ٹی کانپور کی تجربہ گاہ تک پہنچنے والی پروفیسر بشریٰ عتیق کی زندگی اسی حقیقت کی روشن گواہی ہے۔

