
امروہہ کی گیارہ سالہ زارا رضا نے اپنی پہلی کتاب “The Nightmares… Or Is It?” (ڈراؤنے خواب… یا شاید کچھ اور؟) لکھ کر کے اس عمر میں مصنفہ بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے جب بیشتر بچے کہانیاں پڑھنے اور سننے میں مگن رہتے ہیں۔ خوف اور پراسراریت کی کہانیوں پر مشتمل یہ کتاب اس سرزمین کی نئی نسل کی طرف سے علم و ادب کی روایت میں ایک خوب صورت اضافہ ہے جو صدیوں سے شاعروں، ادیبوں اور علما کا مسکن رہی ہے۔
زارا کا تعلق امروہہ کے تاریخی محلہ دانشمندان کے ایک دیندار اور باوقار گھرانے سے ہے۔ اسی محلے میں “بڑا امام باڑہ” کے نام سے مشہور عزا خانہ وزیر النسا زارا کے والد جواد رضا کے دادا نے تعمیر کرایا تھا، جو آج بھی اس خاندان کی دینی خدمات کی یاد دلاتا ہے۔ ان کے والد رضا جواد پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں اور بنگلورو میں ریلائنس کے کیمپا کولا پلانٹ سے وابستہ ہیں۔ والد کی ملازمت کے سلسلے میں زارا بنگلورو میں رہتی ہیں، جہاں وہ Chrysalis High اسکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ ہیں۔ وطن سے دوری کے باوجود ان کی شخصیت میں امرہا کی علمی و ادبی چاشنی بسی ہوئی ہے۔
زارا کا ننھیال لکھنؤ کے ایک اعلیٰ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتا ہے۔ معروف عالمِ دین آیت اللہ مولانا سید حمید الحسن ان کی والدہ کے سگے ماموں ہیں۔ یوں زارا کی شخصیت میں امروہہ اور لکھنؤ کی دو عظیم علمی و تہذیبی روایتیں یکجا ہو گئی ہیں۔

کتاب کا تفصیلی تعارف
کتاب کے عنوان میں سوالیہ نشان اور تین نقطے قاری کے ذہن میں فوراً تجسس جگا دیتے ہیں۔ کیا یہ واقعی خواب ہیں یا حقیقت کا کوئی پردہ نشین روپ؟ یہی ابہام کتاب کی اصل کشش معلوم ہوتا ہے۔
کتاب کےابواب کے نام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ زارا نے اپنی کہانیوں کی بنیاد مختلف نفسیاتی خوفوں پر رکھی ہے۔ پہلے باب کا عنوان Demonophobia ہے، یعنی بھوت پریت اور بدروحوں کا خوف۔ دوسرا باب Coulrophobia کے نام سے ہے، جس کا مطلب مسخروں یا جوکروں کا خوف ہے۔ تیسرے باب کا عنوان Eipostrophobia ہے۔ چوتھا باب Hemophobia، یعنی خون کے خوف پر ہے، اور پانچواں Claustrophobia، یعنی تنگ اور بند جگہوں کے خوف پر۔ ایک گیارہ سالہ بچی کا انسانی نفسیات کے ایسے پیچیدہ موضوعات کو کہانی کا روپ دینا غیر معمولی بات ہے، اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زارا کا مطالعہ اور مشاہدہ اپنی عمر سے کہیں آگے ہے۔
بچوں کا تخیل بے لگام اور بے خوف ہوتا ہے۔ وہ بڑوں کی طرح حقیقت اور امکان کی حدوں میں بندھا نہیں ہوتا، اسی لیے ان کی لکھی ہوئی کہانیوں میں ایک ایسی تازگی ملتی ہے جو کبھی کبھی پختہ قلم کاروں کے یہاں بھی نایاب ہوتی ہے۔ لکھنا محض الفاظ جوڑنے کا نام نہیں، اس کے لیے مشاہدہ، حوصلہ اور مسلسل محنت درکار ہے، اور ایک کم سن بچی کا یہ سب سمیٹ کر کتاب کی شکل دے دینا یقیناً قابلِ تحسین ہے۔

BriBooks: بچوں کے لیے اشاعت کا پلیٹ فارم
زارا کی کتاب BriBooks نے شائع کی ہے، جو بچوں کی تصنیفات کے لیے مخصوص ایک پلیٹ فارم ہے۔ ادارے کا اپنے بارے میں کہنا ہے کہ اس کا یقین ہے کہ ایک ایسی دنیا میں جہاں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہے، ہمارے بچوں کو سرگرم لکھاری اور شوقین قاری بننا چاہیے۔ اس کی طاقت ور ٹیکنالوجی بچوں کو مکمل تخلیقی آزادی کے ساتھ اپنی خوب صورت کتابیں آسانی سے شائع کرنے کا موقع دیتی ہے۔ زارا کی کامیابی اسی سوچ کی ایک عمدہ مثال ہے۔

امروہہ کی علمی حیثیت
امروہہ کی سرزمین کو علم و ادب سے ہمیشہ خاص نسبت رہی ہے۔ اس شہر نے اردو، فارسی اور دینی علوم کے ایسے اہلِ کمال پیدا کیے جن کی شہرت سرحدوں سے باہر تک پہنچی۔ جون ایلیا اور رئیس امروہوی جیسے شاعر، سید محمد تقی جیسے مفکر و صحافی، کمال امروہوی جیسے فلم ساز اور صادقین جیسے عظیم مصور و خطاط اسی مٹی کے فرزند ہیں۔ شعر و سخن کی محفلوں، مجالس اور مرثیہ گوئی کی روایت نے بھی یہاں کی تہذیب کو نکھارا ہے۔ محلہ دانشمندان کا نام خود اس علمی ماحول کی گواہی دیتا ہے۔ ایسے ماحول سے ایک ننھی لکھاری کا ابھرنا اس بات کی علامت ہے کہ علم و ادب کی شمع اب بھی روشن ہے اور نئی نسل اسے تھامنے کو تیار ہے۔ اس کامیابی میں گھر والوں کی حوصلہ افزائی کا بھی بڑا حصہ ہے، کیونکہ بچوں کے خواب اسی وقت پروان چڑھتے ہیں جب انھیں سننے والے اور سراہنے والے میسر ہوں۔
زارا کی یہ کتاب آن لائن اس ویب سائٹ پر دستیاب ہے:
www.bribooks.com/bookstore/the-nightmares-or-is-it-by-zaara-raza
بچوں کی حوصلہ افزائی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کی کاوشوں کو پڑھا جائے اور سراہا جائے۔ اہلِ ذوق سے گزارش ہے کہ کتاب منگوائیں، خود پڑھیں اور اپنے گھر کے بچوں کو بھی پڑھائیں۔ یہ کتاب محض ایک اشاعت نہیں، ایک طویل ادبی سفر کا آغاز ہے۔ امید ہے کہ یہ پہلا ستارہ آگے چل کر ادبی آسمان پر ستاروں کی ایک پوری کہکشاں کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
