qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

اجداد کے کارنامے بیان کرنے سے بہتر خود کارنامے انجام دینا  ہے۔

مسلمانوں کی بہتری تعلیم اور مالی خو شحالی کے علاوہ کسی اور چیز میں نہیں ہے۔سر سید نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ قوم کی تعلیمی اور مالی پسماندگی دور کرنےکی کوشش میں صرف کردیا۔ ان خیا لات کا اظہار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی( اے ایم یو) کے بانی،مصنف،صحافی اور مسلح قوم سر سید احمد خاں کے209 ویں یوم پیدائش کے سلسلے میں منعقدہ سر سید ڈے کے موقع پر مقررین نے کیا۔مقررین نے کہا کہ  وقت آگیا ہیکہ ہم اپنے اجداد کے گن گانا بند کرکے خود کارنامے انجام دیں۔

 دنیا بھر کی طرح امروہا میں بھی  یوم سرسید منایا گیا۔گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی سر سید ڈے کی تقریب امروہا سے تعلق رکھنے والے اے ایم یو کے ابنائے قدیم کی تنظٰمALUMNI ASSOCIATION   AMU کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ ابنائے قدیم کی  ایسوسی ایشن کا یہ چھٹا پروگرام تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی سابق اے ڈی جی ،آر ڈی ایس او(ریلویز) سید اسد مصطفیٰ رضوی تھے جبکہ مہمانان اعزازی  کی حیثیت سے شکیل  نرسنگ ہوم کے مالک اور صاحب خیر سینئر سرجن ڈاکٹر شکیل فاروق اور ڈائریکٹر کانٹریکٹس ایم ای ایس (وزارت دفاع)امجد خاں تھے۔تقریب  ایسو سی ایشن کے سابق صدر اور موجودہ سر پرست اور  اے کے کے انٹر کالج  کے پرنسپل محمد عادل عباسی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔

امجد خاں  نے کہا کہ  قوم کے نوجوانوں کی ترقی میں نام نہاد تعصب بہت بڑی وجہ نہیں ہے ۔اپنے پیشے میں مہارت  ہی ترقی اور عزت کا سبب ہے۔ ابنہوں نے  اے ایم یو کے فارغین سے کہا کہ انہیں سر سید کی Legacy  پر عمل کرنا چاہئے۔مہمان خصوصی سید اسد مصطفیٰ رضوی نے کہا کہ اے ایم یو میں آج بھی پیشہ ورانہ کورسس کی فیس دیگر تعلیمی اداروں  سے بہت کم ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کمزور طبقے کے مسلم طلبا  آج اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر ملک و قوم کی خدمت نہیں کر سکتے تھے۔ اسد مصطفی رضوی نے کہا کہ جو کچھ ہمیں سرسید نے دیا ہے ہمیں اسے اپنی  قوم کو واپس کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ   ہمیں اپنے اجداد کے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے بجائے یہ دیکھنا چاہئے کہ ہم آنے والی نسلوں کے لئے کیا چھوڑ کر جانے والے ہیں۔تقریب کے صدر عادل عباسی نے اعلان کیا کہ ایسوسی ایشن کے ارکان قوم کے کم از کم دو غریب اور ہونہار بچوں کو گود لیں گے اور انکی زندگی کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں گے۔

امروہا سے تعلق رکھنے والی علی گڑھ کے ابنائے قدیم کی ایسو سی ایشن کے نئے نائب صدر خرم رضوی نے ایسو سی ایشن کی کارگزاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ متعدد نادار طلبا کی   تعلیم کے اخراجات برداشت کئے جاتے ہیں۔     جن طلبا کی مالی مدد کی گئی ان میں بہار سے تعلق رکھنے والا ایک طالب علم بھی ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ایسو سی ایشن کو اپنا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے   ہونہار طلبا کی کیرئر پلاننگ، کیرئر  کونسلنگ اور رہنمائی کرنی چاہئے۔مہمانوں کو پیش مو مینٹو کے مطابق دنیا کے 30 ملکوں میں یوم سر سید منایا جاتا ہے۔ پروگرام میں تائیوان میں قائم اے ایم یو ابنائے قدیم کی تنظیم کے صدر ڈاکٹر رہبر حسن بھی موجود تھے۔

ایسوسی ایشن کی نئی کابینہ کا یہ پہلا پروگرام تھا۔  ڈاکٹر امین الحق  عادل عباسی کی جگہ نئے صدر بنے ہیں۔یوم سر سید کی اس تقریب میں نئی کابینہ کے طریقہ کار کی  جھلک   مہمانان  اعزازی کے انتخاب میں نظر آئی۔ ماضی کے پروگراموں میں یہ اہتمام ہوتا تھا کہ اسٹیج پر علیگ برادری کے ہی کسی قابل اور لائق فرد کو جلوہ افروز ہونے کا موقع دیا جاتا تھا لیکن اس بار ایک غیر علیگ سیاسی لیڈر کو مہمان اعزازی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ پروگرام میں موجود کئی افراد کا یہ احساس تھا کہ اگر کسی غیر علیگ کو  مہمان اعزازی کے طور اسٹیج پر جگہ دیا جانا نا گزیر تھا تو اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے تھا کہ وہ ماہر تعلیم ہو، یا بیوروکریٹ یا ٹیکنو کریٹ ہو۔ پروگرام کی انفرادیت اس لحاظ سے بھی نظر آئی کہ ہونہار طلبا و طالبات سے لیکر صحافیوں تک اور صحافیوں سے لیکرساؤنڈ سسٹم کے مالک اور باورچی تک کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے پھولوں کی کلیاں پیش  کی گئیں۔

پروگرام کے اہتمام میں  اہم کردار ادا کرنے والے پیراڈائز بینکویٹ  ہال کے مالکان اور علیگ  برادری سے تعلق رکھنے والے مجتبیٰ برادران کو انکی خدمات  کے اعتراف میں  مومینٹو پیش کیا گیا۔ پروگرام کی نظامت اسو سی ایشن کےجنرل سیکریٹری اور وکیل و ماہر براڈ کاسٹر علی محتشم  رضا نے کی۔پروگرام کا اختتام یونیورسٹی کے ترانے اور راشٹر گان پر ہوا۔

Related posts

عراق۔۔۔ مقتدیٰ الصدر سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔۔

qaumikhabrein

شاعرجمشید کمال کی ‘پرواز’ کی رسم رونمائی۔

qaumikhabrein

قندھار۔ ہندستانی قونصل خانے پر طالبان کے قبضے کی خبر۔

qaumikhabrein

Leave a Comment