
غزہ پراسرائیل حملوں نے فلسطینیوں کے حق میں گھڑیالی آنسو بہانے والے یوروپی ملکوں کے چہروں کو بے نقاب کردیا ہے۔ فرانس اور جرمنی سمیت کئی یوروپی ملکوں نے اسرائیل مخالف احتجاجی مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے۔ اسکے باوجود فلسطین کی حمایت میں ان ملکوں میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
فرانس میں بھی حکومت کی جانب سے اسرائیل مخالف مظاہروں پر سرکاری سطح پر پابندی کے اعلان کے باوجود پانچ ہزار کے قریب انصاف پسند لوگوں نے دارالحکومت پیرس کی سڑکوں پر مارچ کرکے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اعلان کیا۔حکومت فرانس نے ظالم صیہونیوں کے خلاف مظاہرہ کرنے کے جرم میں، تین سو ساٹھ افراد پر جرمانہ عائد کرنے، پیتالیس کو گرفتار کرنے اور چھے مظاہرین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کیا ہے۔

غزہ پر صیہونی حکومت کے حملوں میں شدت کے درمیان ہزاروں جرمن شہریوں نے حکومت کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت میں مظاہروں پر عائد پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے دارالحکومت برلن کی سڑکوں پر مارچ کیا۔
مظاہرے کے شرکاء نے فلسطینیوں کے حق میں نعرے لگائے، اسرائیل کا پرچم جلایا اور تحریک انتفاضہ کی علامت کے طور پر پتھر پھینکتے ہوئے، مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کیا۔رپورٹ کے مطابق جرمن پولیس نے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والوں پر آنسوگیس کے گولے پھینکے، مرچوں کا اسپرے کیا اور کم سے کم ساٹھ افراد کو گرفتار کرلیا۔اسی طرح کے مظاہرے دیگر یورپی ملکوں میں بھی کئے گئے ہیں ۔
