
امروہا میں شاہ ولایت کے مزار کے احاطے میں ایک قبرستان کے پاس ایک ضعیف خاتون کئی روز سے بیٹھی ہوئی ہے۔ ضعیفہ بس یہی دعا کرتی رہتی ہے۔ یا اللہ مجھے سنگوالے۔ یا اللہ میرا جیسا نصیب کسی کو مت دینا۔ یا اللہ میرا ایمان پر خاتمہ فرمانا۔ اس ضعیفہ کا تعلق امروہا کے نواح میں واقع بستی نوگانواں سادات سے ہے۔ اسکا بھرا پورا خاندان ہے ۔ اسکے دو سگے بیٹے اور ایک سوتیلا بیٹا ہے۔ بہوئیں ہیں۔ پوتی پوتا ہیں لیکن اس ضعیفہ کے لئے گھر کے کسی کونے میں بھی جگہ نہیں ہے۔

ضعیفہ نے اپنا نام تو نہیں بتایا لیکن یہ ضرور بتایا کہ نوگانواں میں اسکا گھر جامع مسجد کے سامنے ہے۔ اسکے شوہر امام الدین سانپ کے کاٹے کا علاج اور جھاڑ پھونک کرتے تھے۔ شوہر کے انتقال کے بعد وہ سلائی کڑھائی کرکے اپنا گزارہ کرلیا کرتی تھی لیکن آننکھوں کی روشنی بہت کم ہونے سبب وہ سینے ہرونے سے محروم ہو گئی ۔ اولاد نے اسے بوجھ سجھ کر گھر سے باہر نکال دیا۔ ضعیفہ نے یہ بھی بتایا کہ اسکے بھائی نے اسے باپ کی جائداد میں جو تہائی دی تھی وہ بھی بیٹوں نے چھین لی۔


