qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

یوگی حکومت کرتی ہےایک خاص فرقے کے خلاف این ایس اےکا ناجائز استعمال۔

فائل فوٹو

اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں بی جے پی سرکار مسلمانوں کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ کا نہایت بے ایمانی، بےشرمی اور ڈھیٹائی کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔ یہ بات الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے سے ثابت ہوتی ہے۔ ہائی کورٹ نے ملزمین پر قومی سلامتی ایکٹ یعنی این ایس اے لگائے جانے کے 120 میں سے94 کیسوں کو خارج کردیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں یو پی میں گو کشی کے الزام میں مسلمانوں کے خلاف این ایس اے کا دھڑلے سے استعمال کیا گیا۔ این ایس اے کے کیسوں کو خارج کرتے ہوئے عدالت نے کچھ اہم تبصرے بھی کئے جو یوگی حکومت کی من مانی اورمسلمانوں کے تئیں اسکی نفرت انگیز ذہنیت پر طمانچہ ہے۔

ہائی کورٹ کا کہنا ہیکہ کچھ کیسوں میں محض پولیس رپورٹ کی بنیاد پر ضلع مجسٹریٹ نے مشینی انداز میں حکم جاری کیا۔ حراست میں لئے گئے افراد کی پیروی کرنے کے حق کی خلاف ورزی کی گئی۔ دماغ کا استعمال کئے بغیر کسی فرد کی اس آزادی کو چھینا نہیں جا سسکتا جسکی آئین نے اسے ضمانت دی ہے۔انگریزی اخبار دی انڈین ایکسپریس نے کچھ کیسوں کا پوسٹ مارٹم کیا جن میں ایک خاص فرقے کے لوگوں کے خلاف ناجائز طریقے سے این ایس اے لگا کر انہیں جیلوں میں سڑایا گیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق گو کشی کے کئی معاملوں میں پولیس نے بغیر مناسب اور ٹھوس شواہد کے لوگوں کو گرفتار کیا اور این ایس اے کی دفعات لگائیں اور ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کردیا۔ ضلع مجسٹریٹ نے بھی محض خانہ پوری کرتے ہوئے پولیس کی رپورٹ کی بنیاد پر ملزم کے خلاف این ایس اے لگانے کا حکم دیکر ملزم کو جیل بھیج دیا۔ گو کشی کے کئی کیس پولیس نے بی جے پی ، ہندو یووا واہنی اور دیگر سخت گیر ہندو تنظیموں کے مقامی لیڈروں کی شکایت پر درج کئے۔ متعدد کیسسوں سے ملزم کے خلاف این ایس اے لگانے کے معاملے میں ضلع مجسٹریٹس کی عجلت اور بے تابی ظاہر ہوتی ہے۔

آئیے جانتے ہیں کہ کیا ہے این ایس اے۔
این ایس اے 1980 ملک کی سلامتی کے لئے سرکار کو حاصل زیادہ اختیارات سے متعلق قانون ہے۔ یہ قانون مرکزی اور ریاستی سرکاروں کو کسی بھی مشتبہ فرد کو حراست میں لینے کا اختیار دیتا ہے۔ اگر حکومت کو لگتا ہیکہ کوئی فرد اسے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے والے کاموں سے روک رہا ہے تو اسکو حراست میں لیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کا استعمال ضلع مجسسٹریٹ، پولیس کمشنر، ریاستی سرکار اپنے محدود دائرے میں بھی کرسکتی ہے۔ این ایس اے کے تحت کسی بھی مشتبہ فرد کو بغیر کسی الزام کے بارہ ماہ تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ این ایس اے کے تحت حراست میں لئے گئے فرد کو بغیر فرد جرم عائد کئے دس روز تک جیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ حراست میں لیا گیا شخص ہائی کورٹٹ کے صلاح کار بورڈ کے سامنے اپیل کرسکتا ہے لیکن اسے مقدمہ کے دوران وکیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

Related posts

کینیڈا ۔ مسلح افراد کا مسلمان شخص پر حملہ۔ داڑھی کاٹ ڈالی۔

qaumikhabrein

ایران کے تیل ٹینکر لبنان پہونچ گئے۔امریکہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔

qaumikhabrein

اے ایم یو میں کیسے پھیلا کورونا۔ اسٹاف ویکسین لگوانے سے ہچکچا تا رہا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment