qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

افغانستان میں طالبان نے Co-Educationپر لگائی پابندی۔

افغانستان میں طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے لڑکیوں کی تعلیم کے بارے میں ایک بڑے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ طالبان کی جانب سے کہا گیا ہیکہ اب ملک میں لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کا الگ الگ بندوبست ہوگا ۔ طالبان نے افغانستان میں مخلوط تعلیم یعنی Co- Education پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبہ ہرات میں اسکولوں اور کالجوں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک ساتھ کلاس میں بیٹھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

دی ویک کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ طالبان اور اساتزہ کی میٹنگ کے بعد لیا گیا۔ بیس سال بعد کابل پر قبضے کے بعد لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں طالبان کا یہ پہلا بڑا فیصلہ ہے۔ گزشتہ منگل کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلی پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ شریعت کے دائرے میں خواتین کے حقوق کا احترام کیا جائے گا۔

۔اعلیٰ تعلیم کے لئے طالبان کے سربراہ ملا فرید نے کہا ہیکہ لڑکوں اور لڑکیوں کی ملی جلی کلاسیں فوری طور سے بند ہونی چاہئیں۔ یہ اہتمام بھی کیا جائے گا کہ لڑکیوں کو خواتین اساتزہ اور لڑکوں کو مرد اساتزہ ہی پڑھائیں گے۔ ایک اندازے کے مطابق ہرات کے تعلیمی اداروں میں 40,000 طلبا اور 2,000 اساتزہ ہیں۔

Related posts

اسرائلی اڈے کا راز کھولنے والا چرواہا پر اسرار طور پر ہلاک

qaumikhabrein

غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری۔ابتک 140 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق۔

qaumikhabrein

راجناتھ کی نظر میں کیرلہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا۔پوچھا جارہا ہے کس شعبے میں پیچھے ہے کیرلہ۔

qaumikhabrein

Leave a Comment