
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خاں نے مسلم اکثریتی ممالک سے اپیل کی ہے کہ متحد ہو کر مغربی ملکوں سے مطالبہ کریں کی پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کو جرم قراردیا جائے۔ ٹیلی ویذن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمراں خاں نے کہا کہ وہ مغربی ملکوں کو پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے معاملے پر قائل کرنے کی مسلم اکثریتی ملکوں کی مہم کی قیادت کریں گے۔ عمراں خاں نے کہا کہ ہمیں یہ وضاحت کرنے کی ضرورت ہیکہ تقریر کی آزادی کے نام پر جب رسول اسلام کی عزت و احترام کو ٹھیس پہونچائی جاتی ہے تو ہمیں کیوں تکلیف ہوتی ہے۔عمران خاں نے کہا کہ اگر پچاس ممالک متحد ہوکر یہ کہیں گے کہ اگر کسی ملک میں اس طرح کی حرکت ہوتی ہے تو ہم اس ملک کاتجارجی بائکاٹ کریں گے اسکا سامان نہیں خریدیں گے تو اسکا اثر ہوگا۔ عمران خاں نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کے معاملے کو یہودیوں کے قتل عام ہالو کاسٹ سے منسلک کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ ہالوکاٹ پر سوال اٹھانے سے یہودیوں کے جزبات کو ٹھیس پہونچتی ہے تو رسول اسلام کی شان میں گستاخی کو بھی اسی انداز میں لیا جانا چاہئے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں اس وقت فرانس کے سفیر کو نکال باہر کرنے کے حق میں مسلم مذہبی تنظیموں کی تحریک چل رہی ہے۔

فرانس کے صدر میکراں نے رسول اسلام کی شان میں نازیبا کلمات کا استعمل کیا تھا جسکے خلاف مسلمانوں میں کافی غصہ اور ناراضگی ہے۔ میکراں نے اب تک اپنے نازیبا کلمات پر معزرت بھی نہیں کی ہے۔
