تحریر۔۔سراج نقوی

اتر پردیش حکومت خواہ کچھ بھی دعویٰ کرتی رہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ریاستی حکومت اور پولیس و انتظامیہ اتر پردیش میں مجرموں پر شکنجہ کسنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔مجرم جس انداز سے بے خوف ہو کر ریاست کے امن و امان کو تباہ کر رہے ہیں اور آئے دن قتل،گینگ ریپ و دیگر جرائم کا سلسلہ جاری ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عام آدمی غیر محفوظ ہے۔البتّہ یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ حکمراں جماعت کے حامی ہونے کا دعویٰ کرنے والے غیر سماجی عناصر چین سے ہیں، حالانکہ یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ ریاست میں بڑھتے ہوئے جرائم کے لیے یہ عناصر ہی ذمہ دار ہیں۔
گذشتہ چند ہفتوں میں ریاست میں جرائم کا گراف جس تیزی سے بڑھا ہے وہ چونکانے والا ہے،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ فکرمند کرنے والا ہے۔لیکن حکومت اور انتظامیہ اس معاملے میں کتنے فکر مند ہیں یہ کہنا مشکل ہے۔یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ ریاستی وزیر اعلیٰ کے دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں مصروف رہنے کے سبب مجرم بے لگام اور پولیس و انتظامیہ ناکام ہے۔بہرحال خواتین کے لیے غیر محفوظ تصور کی جانے والی ریاست میں تازہ معاملہ آگرہ سے متعلق ہے،جہاں ایک شادی شدہ خاتون کی نہ صرف یہ کہ اس کے شوہر کے سامنے ہی عصمت دری کی گئی بلکہ مجرموں نے اس کی ویڈیو بھی بنائی۔واقعہ اس طرح ہے کہ متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے ساتھ اپنے میکے جا رہی تھی کہ تین افراد نے اسے روک کر اس کے شوہر کے سامنے ہی اس کی اجتماعی عصمت دری کی اور اس واقعہ کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرلی۔متاثرہ خاتون نے واقعہ کی جو رپورٹ تھانہ اعتمادپور میں درج کرائی اس میں کہا گیا ہے کہ شام کووہ اوراس کا شوہر جا رہے تھے کہ اعتماد الدولہ علاقے کے پاس تین افراد نے انھیں سڑک پر ہی روک لیا اور جبراً قریب کے جنگل میں لے گئے، جہاں ان تینوں افراد نے اس کے ساتھ بالجبر زنا کیا اور اس کی ویڈیو بھی بنائی۔الزام کے مطابق اس سے پہلے مجرموں نے دونوں سے تقریباً دس ہزار روپئے اور سونے کے کنڈل سمیت دیگر سامان بھی چھین لیا۔پولیس نے متاثرہ خاتون کی شکایت پر دو افراد کے خلاف نامزد اور ایک گمنام شخص کے خلاف رپورٹ درج کر لی ہے۔لیکن تا دم تحریر ملزمین میں سے کسی کو گرفتار نہیں کیا جا سکا ہے۔اتر پردیش میں بڑھتے ہوئے جرائم کے حوالے سے ایک رپورٹ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حلقہ انتخاب گورکھپور سے متعلق ہے۔یوگی گورکھپور کے مشہور گورکھ ناتھ مندر کے مہنت بھی ہیں،اور ان کی صلاحیتوں کی داد دینے ہوگی کہ وہ یوگی اور اقتدار کے بھوگی کی ذمہ داریاں ایک ساتھ نبھا رہے ہیں۔ اب یہ الگ بات ہے کہ ریاست کے جرائم سے پاک ہونے کی بات تو درکنا ر خود یوگی کا حلقہ انتخاب بھی جرائم کی راجدھانی بننے کی راہ پر ہے۔اس کا ثبوت گذشتہ تقریباً ایک ہفتے میں گورکھپور میں ہونے والے قتل کے واقعات ہیں۔ 25مارچ گورکھپور کے بیلی پار علاقے میں ایک ڈیڑھ سال کے بچّے کو اس کی ماں نے ہی قتل کر دیا،لیکن اس معاملے میں ماں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا۔لیکن 28 مارچ کو کیمپئر گنج علاقے میں سرون یاد و نام کے شخص کا قتل کرنے والے تادم تحریر پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔اس سے اگلے ہی دن گلرہا علاقے کے بنگائی جنگل میں اجے یادو نام کے ایک شخص کی لاش بر آمد ہوئی لیکن مجرم پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے۔اسی طرح 30 مارچ کو بھی شہر کے نواحی علاقے میں ایک لاش بر آمد ہوئی اور پھر 31 مارچ کو گگہا علاقے میں دو افراد کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔۔یہ تمام معاملے صرف مارچ کے آخری ہفتے سے متعلق ہیں۔ گذشتہ برس بھی کئی دوہرے قتل کے معاملوں نے ریاست میں امن و امان کے سرکاری دعووں کی پول کھول دی تھی۔گزشتہ برس کے شروع میں منظر عام پر آنے والی نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کی رپورٹ میں اتر پردیش کو خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے معاملے میں پہلے نمبر پر رکھا گیا تھا۔جبکہ حکومت مسلسل دعویٰ کررہی ہے کہ ریاست میں خواتین کی عزت و آبرو محفوظ ہے۔مجرموں کے حوصلے کس قدر بڑھے ہوئے ہیں اس کا اندازہ چند روز قبل ہی ریاستی راجدھانی لکھنؤ میں ایک وکیل کے اغوا سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔اس وکیل کو اغوا کرنے کے بعد انّاؤ میں لے جا کر قتل کر دیا گیا۔مذکورہ وکیل کئی روز سے لاپتہ تھا اور پولیس تفتیش کے دعوے کر رہی تھی،لیکن گذشتہ ہفتے وکیل کی لاش انّاؤ میں سڑک کے کنارے ملنے کے بعد پتہ چلا کہ اسے قتل کیا جا چکا ہے۔حالانکہ اس معاملے میں وکیل کے پڑوسی کو قتل کے الزام میں گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے،لیکن یہ بات تو بہرحال واضح ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔عجیب بات یہ ہے کہ ایک طرف جرائم کم ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں دوسری طرف پولیس اور انتظامیہ مجرموں کو سبق سکھانے کے نام پر زیر حراست قیدیوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا رہی ہے جس کے سبب ریاست میں زیر حراست قیدیوں کی اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔اپوزیشن پارٹیوں نے اس معاملے میں حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ حراست میں مرنے والے قیدیوں کی تعدا دمیں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔سی پی ایم کے ریاستی سکریٹری جنرل سدھاکر یادو کہتے ہیں کہ اتر پردیش حقوق انسانی کی قبر گاہ بن گیا ہے اور ریاست کے تھانے بد عنوانی کے اڈّے بن گئے ہیں۔سی پی ایم لیڈر نے اقلیتی طبقات کے خلاف پولیس کے رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اس سلسلے کا ایک حالیہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے۔ریاست کے ضلع اعظم گڑھ کے پوائی تھانہ علاقے میں 6 مارچ کو پولیس نے ضیاالدین نام کے ایک شخص کو چوری کے الزام میں گرفتار کیا تھا،لیکن 25-26 مارچ کی درمیانی شب میں ضیا الدین کی پولیس حراست میں ہی موت ہو گئی۔پولیس کا دعوی ٰ ہے کہ ملزم کی موت حرکت قلب بند ہو جانے کے سبب ہوئی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے طویل عرصے تک ملزم کو پولیس کی حراست میں کیوں رکھا گیا۔ضیا الدین کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ موت پولیس کی پٹائی کے نتیجے میں ہوئی ہے۔اہل خانہ کا یہ بھی الزام ہے کہ چوری کے معاملے سے ضیاالدین کانام نکالنے کے لیے پولیس موٹی رشوت طلب کر رہی تھی اور ایسا نہ ہونے پر اسے مار ڈالا گیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی حقوق انسانی کمیشن نے بھی پولیس حراست میں ہونے والی اموات پر اتر پردیش پولیس کی سرزنش کی ہے۔پولیس انکاؤنٹر کے معاملوں پر تو ریاستی حکومت یوگی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے مسلسل تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ریاست میں جرائم کا گراف کم نہیں ہو پارہا ہے۔اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ پولیس حراست میں ہونے والی اموات سے لیکر پولیس انکاؤنٹر تک کے بیشتر معاملوں میں مقصد جرائم میں کمی سے زیادہ کچھ خاص طبقات میں دہشت پیدا کرنا یا ان طبقات کے خلاف انتقامی کارروائی کرنا رہا ہے،جبکہ حقیقی مجرم آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں اور پولیس و انتظامیہ کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
sirajnaqvi082gmail.com Mobile:09811602330
