کو وڈ نائنٹین یعنی کورونا وائرس کے علاج کے لئے متعارف کرائی گئی دوا آکسفورڈ آسٹرا زینیکا کے منفی اثرات مرتب ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
لگ بھگ سولہ ملکوں نے اسکا استعمال فوری طور پر روک دیا ہے۔ دوا کے استعمال کے بعد کچھ افراد میں خون کے تھکے جمنے کے واقعات کے بعد ڈنمارک پہلا ملک تھا جس نے آکسفورڈ آسٹرا زینیکا کے استعمال پر پاندی لگائی۔ اسکے بعد تو اس دوا کے استعمال پر روک لگانے والے ملکوں کی فہرست طویل ہوتی چلی گئی۔
اب تک اسپین، فرانس، جرمنی، اٹلی، ناروے،آئیس لینڈ، بلغاریہ، آئر لینڈ، نیدر لینڈ، انڈو نیشیا اور سلو وینیا دوا پر پابندی لگانے والے ملکوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ جبکہ آسٹریا، ایسٹونیا ،لتھوانیا ، لاتیویا اور لکزمبرگ نے مذکورہ دوا کی ایک خاص کھیپ کے استعمال پر روک لگا دی ہے۔ اہم بات یہ ہیکہ یہی دوا ہمارے ملک میں کووی شیلڈ کے نام سے فروخت ہو رہی ہے ۔
سولہ ملکوں میں اس دوا کے استعمال پر پابندی لگنے کے بعد ابھی تک اس سلسلے میں ہمارے ملک کی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ اس دوا کے استعمال کے بعد لوگوں میں بلڈ پلیلیٹس کی کمی اور خون کے تھکے جمنے کی شکایتیں ملیں۔ مختلف ملکوں میں اس دوا کے استعمال کے بعد متعدد افراد فوت بھی ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دوا لینے والے کا خون کے تھکے جمنے کے سبب ہارٹ فیل بھی ہو سکتا ہے۔پھیپھڑوں میں بلاکیج بھی ہوسکتا ہے۔
لیکن عالمی صحت تنظٰم ڈبلو ایچ او اور یوروپی میڈیسنس ایجنسی کا کہنا ہیکہ دوا محفوظ ہے اور خون کے تھکے جمنے کے مبینہ واقعات کا دوا کے استعمال سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ڈبلو ایچ او کی چیف سائینس داں سومیا سوامی ناتھن کا کہنا ہیکہ ہم لوگوں میں ہراس نہیں پھیلانا چاہتے اور دوا کا استعمال جاری رکھے جانے کی سفارش کرتے ہیں۔

