
بہت کم ایسے ادیب ہیں جنکی زندگی میں انکی شخصیت اور ادبی خدمات پر کوئی اردو اسکالر تحقیقی مقالہ تحریر کرے۔یہ عزاز حاصل ہوا ہے امروہا کےفرزند پروفیسرضیاء الرحمن صدیقی کو۔ بھگونت یونیورسٹی اجمیر کےشعبۂ اردوکی اسکالررفینہ چودھری نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ محقق، نقّاد، مترجم اور صحافی ، پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی کی علمی و ادبی خدمات پرتحقیقی مقالہ تحریر کیا ہے۔ رفینہ چودھری نے یہ تحقیقی مقالہ ڈاکٹر سنجیدہ بی بی کی نگرانی میں لکھا جس پربھگونت یونیورسٹی اجمیر کےشعبۂ اردوکی جانب سے رفیفہ چودھری کو یکم دسمبر 2025 کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی گئی.

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے وابستہ محقق، نقّاد، مترجم اور صحافی پروفیسر ضیاء الرحمٰن صدیقی اب تک تقریبا’ تین درجن سے بھی زیادہ اردو اور انگریزی میں ادبی تحقیقی کتابیں تصنیف کرچکے ہیں ۔ پروفیسر صدیقی نہ صرف ایک ماہراستاذِ ہیں بلکہ اردو تحقیق و تنقید کا ایک معتبر حوالہ بھی ہیں جن کی تحریریں، فکری بصیرت، علمی جہتیں اور تحقیقی وقار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کا درجہ رکھتا ہے۔ایک بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹی میں پروفیسرصدیقی کی شخصیت اور علمی خدمات پرتحقیق ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو دنیا میں ان کی علمی حیثیت بہت بلند اورمسلم ہے۔

اہل امروہہ اورضلع کی ادبی سماجی تنظیموں نے پروفیسرضیاء الرحمن صدیقی ،ڈاکٹر سنجیدہ بی بی اور رفینہ چودھری کومبارکباد پیش کی ہے۔

