qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

امروہا میں  دو روزہ محفل نور کا شاندار اہتمام

شہر ولا امروہا میں محفل نور کے  اہتمام کے ساتھ نورانی محفلوں کا سلسلہ اختتام پزیر ہوا۔ اس سے قبل شہر میں پیغمبر آخر الزماں، فخر موجودات، باعث تخلیق کائنات، بی بی زہرا کے  پدر بزرگوار اور حسنین کریمین کے نانا رسول خدا ﷺ کی ولادت کے سلسلے میں بارہ روزہ  نعتیہ محفلوں اور سیرت کے جلسوں کا اہتمام کیا گیا  تھا۔ مسلم مجلس کے زیر اہتمام یکم ربیع الاول  سے بارہ ربیع الاول تک یہ سلسلہ جاری رہا۔

محلہ شفاعت پوتا کے حسینی ہال میں  دو روزہ محفل نور  نے محبان رسول کے دلوں کو منور کردیا۔  دو روزہ محفل نور میں  ہر سال بڑی تعداد میں مہمان شعرا کی شرکت ہوتی ہے لیکن یہ پہلا موقع ہیکہ   متعدد مہمان علما  نے بھی اس  محفل نور میں شرکت کی۔ دو روزہ نورانی محفل کے دوران  جن  مقامی اور بیرونی علما نے شرکت کی ان میں  آیت اللہ سیستانی کے ہندستان میں وکیل مولانا اشرف علی غروی  اہم ہیں۔اشرف المساجد کے امام جمعہ مولانا محمد سیادت فہمی، نائب امام   مولانا ڈاکٹر احسن اختر سروش، مولانا شہوار نقوی،مولانا منظور علی، مولانا کوثر مجتبیٰ،مولانا  رضا کاظم  تقوی، مولانا صفدر امامی، مولانا شاداب حیدر اور مولانا مظہر علی جیسے علما سے مسند   سجی  رہی۔ شہر کے استاد شعرا اور مہمان شعرا بھی مسند پر موجود تھے.

افتتاحی تقریر نائب امام سید احسن اختر سروش نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں واحد  ذات رسول اکرم کی ہیکہ جنکی زندگی کا ہر پہلو لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔   دوسرے روز نورانی محفل سے مولانا ڈاکٹر شہوارنقوی نے خطاب کیا۔ انہوں نے  عید میلاد النبی کے جلسوں۔ نعتیہ محفلوں اور جلوس محمدی کو بدعت بتانے والوں  کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ  رسول اللہ کی شان میں منعقد  ان پروگراموں کی مخالفت  کوئی غیر نہیں بلکہ خود  نبی کا کلمہ پڑھنے والے  مسلمان ہی کرتے ہیں۔دو روزہ محفل نور کی نظامت مشترکہ طور پر عرشی واسطی،جمشید کمال، پیمبر نقوی، تاجدار مجتبیٰ اور حیدر امروہوی نے کی۔  

جن  بیرونی اور مقامی شعرا نے بارگاہ رسالت مآب میں منظوم نزرانہ عقیدت پیش کیا  ان میں شہزادہ گلریز ،نظیر باقری،طاہر فراز، مولانا اصغر اعجاز قائمی،عرشی واسطی، بصیر الحسن وفا علی گڑھ، کیفی سنبھلی، خورشید مظفر نگری، پنڈت رنویر پرساد، شکیل حسن طالب، کامل وارثی،انتخاب صابر،منیر چھولسی، نوشہ امروہوی، واحد امروہوی، ڈاکٹر لاڈلے رہبر،  ناشر نقوی،حسن امام، جمشید کمال، زبیر ابن سیفی، سعد امروہوی، شیبان قادری،ناصر امروہوی،شہاب انور، جمال عباس فہمی،مبارک امروہوی، فرقان امروہوی،تاجدار امروہوی، شاندار امروہوی،علمدار امروہوی،بھون شرما، قاری مرزا انس، ضیا کاظمی، ناظم امروہوی، شاہنواز تقی، کوکب امروہوی، ارمان ساحل،لیاقت فیضی عسکری رضا، سجاد نزر، شوذب امروہوی، مہربان امروہوی، شوق امروہوی  اور ڈاکٹر شاہی امروہی  شامل ہیں۔محفل نور کے عنوان سے یہ محفل ایک سو  تیرہ  برس سے منعقد کی جارہی ہے۔ اب اسکا اہتمام اپو ٹینٹ ہاؤس کے مالک اختر عباس اور انکے برادران  کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

اس دو روزہ محفل نور میں مدعو مقامی شعرا ایک بڑی اور اہم شکایت کرتے سننے کو ملے۔ انکا کہنا تھا کہ مقامی شعرا کو پانچ اشعار پڑھنےکا پابند کیا گیا تھا لیکن نظامت کرنے والے افراد دوسروں کے اشعار اور کئی کئی بند پیش کرنے سے باز نہیں آرہے تھے۔ سوائے جمشید کمال کے ہر ناظمین کسی شاعر کو دعوت کلام دینے سےپہلے دیگر شعرا کا کلام جی بھر کر پڑھ رہے تھے اور شعرا کی تعداد زیادہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے مقامی شعرا سے بار بار اصرار کررہے تھے کہ پانچ اشعار سے زیادہ نہ پڑھیں۔ جب مقامی اور بیرونی شعرا کی تعداد زیادہ تھی تو ناظمین محفل کو بھی شعرا کو دعوت کلام دینے سے قبل خود کے اوپر بھی کوئی قدغن لگانا تھا۔

Related posts

AFTI   میں پڑھائی 9 دسمبر سے شروع ہوگی ۔

qaumikhabrein

  مہاراشٹر ۔۔اقتدار کی رسہ کشی میں  نام بدلنے کی سیاست۔۔

qaumikhabrein

”وہ جس کو پڑھتا نہیں کوئی بولتے سب ہیں“۔تحریر سراج نقوی

qaumikhabrein

Leave a Comment