
دبستان امروہا اور لکھنؤ سمیت دیگر دبستانوں کی مرثیہ نگاری میں سب سے بڑا فرق یہ ہیکہ امروہا کے مرثیہ نگاران کسی بھی دور میں سلاطین اور نوابین کی سرپرستی کے محتاج نہیں رہے۔ دبستان امروہا کی مرثیہ نگاری کی ترقی اور فروغ میں نہ سلاطین کا ہاتھ ہے نہ نوابین کا بلکہ اسے آئمہ اطہار کی سرپرستی اور نگرانی حاصل رہی ہے۔۔ یہاں کے مرثیہ گو شعرا رئیسوں کے احسانات اور سرپرستی کے مرہون منت کبھی نہیں رہے۔ ان خیالات کا اظہار بر صغیر کے معروف اردو ادیب، شاعر، محقق، مرثیہ نگار اور نثر نگار ڈاکٹر ناشر نقوی نے اپنی نئی تصنیف ‘مرثیہ اور مرثیے’ کی رسم اجرا کے موقع پر کیا۔ رسم اجرا کی اس تقریب کا اہتمام امروہا میں ‘کاروان خلوص’ نے محلہ مجاپوتا میں نواب منزل میں کیا تھا۔

رسم اجرا کی تقریب میں علما، ادیبوں، اردو قلمکاروں ،صحافیوں اور سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔ مسند پر اشرف المساجد کے امام جمعہ و جماعت مولانا ڈاکٹر محمد سیادت فہمی، نائب امام مولانا ڈاکٹر احسن اختر سروش، محقق ،مصنف اور مرتب ڈاکٹر مصباح صدیقی، کاروان خلوص کے صدر محبوب زیدی اور ادبی سنگم کے صدر بھونیش کمار بھون امروہوی موجود تھے۔ ڈاکٹر مصباح صدیقی نے اپنے مقالے میں ناشر نقوی کی مرثیہ نگاری کے حوالے سے مشاہر ادب کے تاثرات اور تبصرے پیش کئے۔ مولانا ڈاکٹر احسن اختر سروش نے کہا کہ مرثیہ اردو کی مشکل ترین صنف سخن ہے اور ناشر نقوی نے اسی مشکل صنف میں جدید مراثی نظم کرکے دنیائے ادب سے اپنی قادر الکلامی کا لوہا منوایا ہے۔ مولانا محمد سیادت فہمی، بھون شرما اور محبوب زیدی نے بھی ناشر نقوی سے اپنے تعلقات خاطر اور انکی مرثیہ نگاری پر خیالات ظاہر کئے۔رسم اجرا کی نظامت نوجوان شاعر تاجدار مجتبیٰ نے کی۔

‘مرثیہ اور مرثیے’ کی رسم اجرا حال ہی میں دہلی کے انڈیا اسلامی کلچرل سینٹر میں بھی منعقد ہو چکی ہے جسکا اہتمام ‘عالمی مرثیہ سینٹر’ کی جانب سے ‘پیام زینب’ کے عنوان کے تحت کیا گیا تھا۔
ناشر نقوی کی اب تک 30 تخلیقات منظر عام پر آچکی ہیں جن میں 20 ان کی طبع زاد تخلیقات ہیں اور 10 کتابوں کے وہ مرتب ہیں۔ وہ ابتک چودہ مراثی نظم کر چکے ہیں۔ ‘مرثیہ اور مرثیے’کتاب میں انکے نظم کردہ 12 مراثی شامل ہیں۔ 300 سے زیادہ غزلیں، درجنوں قطعات اور متعدد نظمیں اور نغمے بھی انکے شعری سرمایہ میں شامل ہیں۔ ناشر نقوی اس وقت بین الاقوامی پلیٹ فارم پر امروہہ کی نمائندگی کرنے والوں میں ایک نمایاں نام ہے۔

