
شیعہ قوم کی شناخت امام حسین کی عزاداری کو بری طرح سےمسخ کیا جارہا ہے۔عزاداری اورعقیدت کے نام پر جسکے جو جی میں آرہا ہے کررہا ہے۔بزرگوں نے جو عزاداری ورثہ میں ہمیں سونپی تھی۔ہم نے اس میں اپنی مرضی کے حساب سے ترمیم و تنسیخ کرنا شروع کردی ہے.

جسکا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ امام حسین کی سواری کی شبیہ کے طور پر گھوڑا برا مد کیا جاتا رہا ہے۔لوگ اس کو مقدس سمجھ کر اسے ہاتھوں سے مس کرکے دلی سکون محسوس کرتے تھے ۔ لیکن ایک شہر میں لوگوں نے یہ جسارت کی کہ گھوڑے کی جگہ گائے کو سجا سنوار کر اسے ذولجناح کے طور پر ماتم داروں کے درمیان لے آئے۔ وہ بھی ایک نہیں دو دو گایوں کو ذولجناح کی شبیہ کو طور پر برامد کیا گیا۔

حد تو یہ ہوئی کہ عزاداروں نے ان گایوں کو امام حسین کے ذولجناح کے طور پر قبول بھی کرلیا اور انکو مقدس جان کر ہاتھوں سے مس کرکے اپنے چہروں پر ملا۔ حال ہی میں گایوں کو ذولجناح بنا کر برامد کرنے سے متعلق ایک ویڈیو گردش کرہا ہے یہ معلوم نہیں ہوسکا ہیکہ کہ عزاداری کے ساتھ کھلواڑ کی یہ کوشش ملک کے کس علاقے میں کی گئی۔

رسومات عزا کے نام پر بہت کچھ نا زیبا حرکات کی جارہی ہیں۔ کہیں ذولجناح کو کیک کھلایا جارہا ہے تو کہیں اسکے پاؤوں کو ہندو عقیدت مندوں می طرح دودھ سے دھلایا جارہا ہے تو کہیں شیر خوار بچوں کو گھوڑے کے سموں سے مس کرایا جارہا ہے۔گھوڑے کا جھوٹا دودھ اور چنے وغیرہ عزادار عقیدت کے نام پر کھا پی رہے ہیں۔ اور یہ سب امام حسین اور انکے متعلقات سے عقیدت کے نام پر کیا جارہا ہے۔


اگر امام حسین کی عزاداری میں لوگ اپنی مرضی کے حساب سے نئی نئی رسومات کو شامل کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں کہ ہم امام حسین کی حقیقی عزاداری سے محروم ہو کر ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ علما، ذاکرین۔ اور شیعہ معاشرے کے ذمہ دار لوگوں کو اس جانب خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ایسا نہ ہو کہ ہم بی بی زہرا کی ناراضگی کا سبب بن کر رہ جائیں۔
