qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

دوبئی میں کسوٹی جدید کا پچاس واں ادبی اجلاس

کسوٹی جدید کا پچاسواں ادبی اجلاس دوبئ میں منعقد ہوا ۔اس میں عالمگیر شہرت یافتہ ڈرامہ نگار جاوید دانش نے مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی ۔جاوید دانش کینیڈا میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے ڈراموں میں ہجرت کے دکھ، تارکینِ وطن کے مسائل اور شناخت کے بحران کو نہایت مہارت سے بیان کرتے ہیں۔

اجلاس میں عالم عرب کے معروف شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق العرشی مہمان خصوصی تھے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ106  شعری مجموعات کے خالق نصف صدی سے مصروف مشق سخن  جو ابتک لاکھوں اشعار نظم کر چکے ہیں ڈاکٹر زبیر فاروق نے اجلاس میں اپنی غزل تنقید کے لئے پیش کی ۔ اپنے کلام  پر تنقید و تبصرے کو  انہوں نے نہایت تحمل ،انکسار اور خندہ پیشانی سے سماعت کیا۔اجلاس میں پیش ان کی غزل کی ردیف’ سرد ہوا ‘تھی۔ اس ردیف پر تبصرہ کرتے ہوئے شرکائے اجلاس نے کہا کہ زبیر فاروق کی اس غزل میں “سرد ہوا” محض ایک موسمی علامت نہیں بلکہ انسانی تنہائی، بے حسی اور وجودی کرب کا ایک کثیر الجہتی استعارہ ہے۔ شاعر نے اسے ایک ایسے دکھی ہم سفر کے طور پر پیش کیا ہے جو خود بھی آوارہ ہے اور منزل سے محروم بھی۔ یہ ہوا کبھی حالات کی سفاکی بن کر انسان کو تماشہ بناتی ہے اور کبھی “جسم کے ملبے” کی صورت داخلی ٹوٹ پھوٹ اور بکھرتے ہوئے خوابوں کی عکاسی کرتی ہے۔

خلیل جبران لبنان سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ فلسفی، شاعر، ادیب اور مصور تھے۔ ان کی تحریریں تصوف، رومانیت اور انسانی حقوق کے باغیانہ خیالات کا سنگم ہیں۔ وہ اپنی شاہکار کتاب “دی پرافٹ” (The Prophet) کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہوئے، جس کا ترجمہ سو سے زائد زبانوں میں ہو چکا ہے۔ اس بار خلیل جبران کے افسانے شیطان کو تجزیہ کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔

ڈاکٹر رحمینہ ظفر نے اس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خلیل جبران کا افسانہ “شیطان” ان کی باغیانہ فکر اور فلسفیانہ گہرائی کا شاہکار ہے۔ اس کہانی میں خلیل جبران نے سماجی اور مذہبی منافقت کو ایک انوکھے تمثیلی انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ کہانی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر دنیا سے بدی یا “شیطان” کا خوف ختم ہو جائے، تو ان مذہبی پیشواؤں کی اہمیت بھی ختم ہو جائے گی جو صرف خوف بیچ کر اپنی دکانیں چلاتے ہیں۔ شیطان یہاں محض ایک شرپسند کردار نہیں، بلکہ انسانی ضرورت اور مصلحت کا استعارہ بن کر ابھرتا ہے۔ جبران کا یہ شاہکار قاری کو مجبور کرتا ہے کہ وہ نیکی اور بدی کے روایتی تصورات پر نئے سرے سے غور کرے اور اپنے اندر کی منافقت کو پہچانے۔

سرفراز حسین دیرکی Energy Optimization کے سائنس دان ہیں۔ اس میدان میں ان کی ایجادات اور اختراعات کی بین الاقوامی سطح پر پزیرائ ہوتی ہے۔ وہ اطلاقی سائنس کے ساتھ ساتھ نظریاتی سائنس ، فلسفہ اور ادب میں بھی دخل رکھتے ہیں۔ اجلاس میں ان کا موضوع تھا Entropy یعنی بے ترتیبی کی پیمائش تھا۔انہوں نے چکبست کے مشہور شعر

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب

موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا

سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ انٹروپی (Entropy) کا فلسفہ کائنات کے ناگزیر پھیلاؤ، بکھراؤ اور بے ترتیبی کی کہانی ہے۔ سائنسی طور پر یہ تھرمو ڈائنامکس کا دوسرا قانون ہے، لیکن فلسفیانہ سطح پر یہ بتاتا ہے کہ وقت کا دھارا ہمیشہ نظم (Order) سے انتشار (Disorder) کی طرف بہتا ہے۔ کائنات کی ہر شے زوال پذیر ہے اور توانائی اور مادہ مسلسل ایک ایسی شکل میں بدل رہی ہے جسے دوبارہ کام میں نہیں لایا جا سکتا۔ یہ تصور ہمیں انسانی زندگی کی بے ثباتی، موت کی حقیقت اور وقت کی یک طرفہ سمت (Arrow of Time) کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ انٹروپی فکر کو یہ زاویہ دیتی ہے کہ تعمیر کے لیے شعوری کوشش درکار ہوتی ہے، جبکہ تخریب اور انتشار فطرت کا خودکار نظام ہے۔

اقبال آفتاب نے” میں نے وادئ غربت میں قدم رکھا تھا،کے عنوان کے تحت ان دنوں کے تجربات و مشاہدات بیان کئے جب وہ شہر نگاراں دوبئ میں نئے نئے وارد ہوئے تھے ۔ڈاکٹر رحمینہ ظفر کی فرمائش پر شادب الفت نے اپنا منتخب کلام پیش کیا۔اجلاس اعجاز شاہین کے ابتدائیہ سے شروع ہوکر افضل خاں کے شکریہ ہر ختم ہوا۔اجلاس کی نظامت ڈاکٹر رحمینہ ظفر نےکی

۔کسوٹی جدید کے تحت مسلسل پچاس ایسے اجلاسوں کا منعقد ہونا جن کی نوعیت خالص علمی و ادبی ہے ، اس بات کی علامت ہے کہ معاشرہ میں اب بھی ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو ادب اور ادبی سرگرمیوں کو محض تفریح طبع کا وسیلہ نہیں سمجھتے ۔( بشکریہ افضل خاں)

Related posts

آیت اللہ سعید الحکیم طباطبائی کانجف میں انتقال۔ دنیائے تشیع میں رنج و الم۔

qaumikhabrein

ایران نے تیار کیا اب تک کا سب سے مضبوط سوپر کمپیوٹر۔

qaumikhabrein

ایران پاکستان کے سرحدی علاقے میر جاوہ میں “زائر سرائے آستان قدس رضوی” کا افتتاح

qaumikhabrein

Leave a Comment