qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

عبدالفتاح السیسی  اس دور کا یزید پلید

غزہ کے مجرموں میں اسرائل کے ساتھ ساتھ مصری صدر عبدالفتاح السیسی برابر سے شامل ہے۔ اسرائل نے اٹھارہ برس سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ حالیہ دو برسوں میں اسرائل نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ اس وقت غزہ بھیانک انسانی بحران سے گزر رہا ہے۔ غزہ کے بچے، خواتین اور بوڑھے خوراک اور دوائیں نا ملنے سے دم توڑ رہے ہیں۔ ایک طرف اسرائل غزہ تک خوراک اور دوائیں نہیں پہونچنے دے رہا ہے تو دوسری طرف السیسی رفح بارڈر کھولنے کو تیار نہیں ہے۔ ناکہ بندی کے دوران رفح بارڈر ہی غزہ تک امدادی اشیا پہونچانے کا واحد راستہ ہے۔ السیسی اس دور کا یزید پلید بن چکا ہے جو  غزہ کے محصورین تک دانا پانی تک نہیں پہونچنے دے رہا ہے۔ تب ہی تو اسرائلی اخبار نے السیسی  کو اسرائل کے لئے تحفہ  قرار دیا ہے۔اسرائیل  کے مشہور اخبار ‘دی یروشلم پوسٹ’ کے مطابق ”عبدالفتاح السیسی مصری عوام کی طرف سے ریاستِ اسرائیل کے لیے ایک خاص تحفہ ہے۔” کیونکہ اس نے مصر اور غـ۔ـــزہ کا بارڈر مستقل طور پر بند کررکھا ھے اور ھر طرح کی امداد غذائی و دوائی غــــزہ جانے پر پاپندی لگا رکھی ہے۔۔۔ ادھر اسرائل اور امریکہ  کے ساتھ ساتھ مصر بھی یمن کے انصار اللہ کے نشانے پر آگیا ہے۔انصار اللہ نے اعلان کردیا ہیکہجب تک مصر، غزہ جانے والے امدادی سامان کے لئے رفح بارڈر نہیں کھولے گا  اس وقت تک باب المندب سے کسی مصری جہاز کونہیں گزرنے دیا جائےگا۔

غزہ کی پٹی، جو 23 لاکھ انسانوں کا گھر ہے، ایک کھلی جیل بن چکی ہے۔ اسرائیل کی 18 سالہ ناکہ بندی اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی طرف سے رفح بارڈر کی بندش نے غزہ کے بچوں، خواتین، اور بزرگوں کو خوراک، دوائیں، اور پانی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے۔ دونوں فریقین—اسرائیل اور السیسی—غزہ کے انسانی بحران کے برابر کے مجرم ہیں، کیونکہ ان کی پالیسیاں فلسطینیوں کو بھوک اور بیماریوں کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں۔

اسرائیل کی تباہ کاریاں

7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی دو سالہ جنگ میں اسرائیل نے غزہ کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 59,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 142,000 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسپتال، اسکول، کالج، پانی کی سپلائی لائنیں، امدادی مراکز، اور رہائشی عمارتیں کھنڈر بن چکی ہیں۔ اسرائیل کی ناکہ بندی نے امدادی سامان کی ترسیل کو روک رکھا ہے، جس سے 80 فیصد آبادی انسانی امداد پر انحصار کرتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا: “غزہ میں بچے بھوک سے گر رہے ہیں، ذیابیطس کے مریض بغیر دوائیوں کے مر رہے ہیں۔” یہ ناکہ بندی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، جسے ہیومن رائٹس واچ “اجتماعی سزا” قرار دیتی ہے۔

السیسی: اس دور کا یزید ملعون

مصر کا رفح بارڈر غزہ کے لیے امداد کا واحد اہم راستہ ہے، مگر السیسی نے اسے مستقل طور پر بند کر رکھا ہے۔ مصری حکام قومی سلامتی کا بہانہ پیش کرتے ہیں، لیکن یہ پابندیاں فلسطینیوں کے لیے موت کا پروانہ ہیں۔ اگر رفح بارڈر کھول دیا جائے تو خوراک، دوائیں، اور ایندھن غزہ تک پہنچ سکتا ہے، لیکن السیسی کا انکار غزہ کو کربلا بنا رہا ہے۔ تاریخی حوالے سے، کربلا میں یزید کے سپہ سالاروں شمر اور عمر سعد نے امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں پر پانی اور خوراک بند کر دی تھی۔ آج اسرائل کے ساتھ السیسی غزہ کے ساتھ وہی سلوک کر رہا ہے، جس کی وجہ سے اسے “اس دور کا یزید” کہا جا ئے تو غلط نہیں ہے۔

انسانی بحران کی شدت

غزہ کی 75 فیصد آبادی بے گھر ہے۔ بھوک اور بیماریاں لوگوں کو نگل رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کو روزانہ 100 ٹرک امداد درکار ہیں، لیکن اسرائیل اور مصر کی پابندیوں کی وجہ سے صرف چند ٹرک داخل ہو پاتے ہیں۔ آخری باراکتوبر 2023 میں مصر سے 34 ٹرکوں کا ایک امدادی  قافلہ بھیجا گیا تھا۔

رفح بارڈر کھولنے کے لئے السیسی پر یمن نے دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے۔ انصار اللہ نے اعلان کردیا ہیکہ  جب تک مصر رفح بارڈر کو نہیں کھولےگا اس وقت تک مصر کے کسی جہاز کو باب المندب سے نہیں گزرنے دیا جائےگا۔ یمن کے جیالے اسرائل اور امریکہ کے اب تک  متعدد جہاز غرقاب کر چکے ہیں۔

Related posts

اسرائیل ذلالت کی نچلی سطح پر اتر آیا ہے

qaumikhabrein

ماسکو نے “یہودی ایجنسی” کو اپنی سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا

qaumikhabrein

ہر حال میں خدمت خلق اورانسانیت کی بھلائی کا مشن جاری رکھنا ہوگا۔۔مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

qaumikhabrein

Leave a Comment