
اس وقت اسرائیل غزہ میں ذلالت اور کمینگی کی سب سے نچلی سطح پر آگیا ہے۔ غزہ میں اب اسکا مقصد اپنے باشندوں کو آزاد کرانا نہیں ہے بلکہ کسی بھی طرح فلسطینیوں کوصفحہ ہستی سے مٹا ڈالنا ہے۔ چاہے وہ غزائی اشیا اور دواؤں کو اہل غزہ تک نا پہونچنے دینے کی مذموم حرکت ہو یا پانی اور غزائی اشیا کے حصول کے لئے قطار میں کھڑے بچوں خواتین اور مردوں پر بمباری کرنے انہیں ہلاک کرنا ہو۔

غزہ میں اس وقت سیکڑوں خواتین اور بچے بھوک کی وجہ سے ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے پانی اور غذائی امداد کے مقامات پر بمباری نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے، جسے کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں ظالمانہ اور جنگی جرائم کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔
اسرائیل کی حالیہ کارروائیاں، جن میں پانی کی تقسیم کے مراکز اور غذائی امداد کے منتظر افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بن رہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل کی فضائی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں امدادی مراکز پر جمع ہونے والے شہریوں کی ایک بڑی تعداد شہید ہو چکی ہے۔ 13 جولائی 2025ء کو ایک امدادی مرکز کے قریب فائرنگ سے کم از کم 24 فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 17 جولائی 2025ء کو غذائی امداد کے منتظر 30 افراد سمیت 93 فلسطینی شہید ہوئے۔ہوئے، جبکہ 17 جولائی 2025ء کو غذائی امداد کے منتظر 30 افراد سمیت 93 فلسطینی شہید ہوئے۔
20 جولائی کو صبح کو غذائی قلت کے باعث تین بچوں سمیت 133 افراد شہید ہوئے، جن میں سے 38 افراد انسانی امداد کے منتظر تھے۔ یہ حملے نہ صرف شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ بنیادی انسانی ضروریات جیسے پانی اور خوراک تک رسائی کو بھی ناممکن بنا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق، غزہ میں 798 افراد امدادی مراکز سے متعلق مقامات پر فائرنگ میں شہید ہوچکے ہیں۔

انسانی بحران کی شدت
اسرائیل کی ناکہ بندی اور مسلسل بمباری نے غزہ میں پانی، بجلی، اور خوراک کی شدید قلت پیدا کر دی ہے۔ یونیسیف کے ترجمان جیمز ایلڈر کے مطابق، غزہ میں صرف 40 فیصد پانی کے پلانٹس کام کر رہے ہیں، اور غذائی قلت کے باعث چھ ماہ سے پانچ سال کی عمر کے بچوں میں شدید کمزوری کے کیسز میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے
غزہ کی 88 فیصد عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، اور 77 فیصد علاقہ اسرائیلی قبضے میں ہے۔ 149 سکول، جامعات، اور 828 مساجد مکمل طور پر تباہ ہوئیں، جبکہ 19 قبرستانوں کو بھی مسمار کر دیا گیا۔ یہ تباہی نہ صرف بنیادی ڈھانچے کو متاثر کر رہی ہے بلکہ شہریوں کی زندگی کو بھی اجیرن بنا رہی ہے۔ حماس نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو کہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

عالمی ردعمل
عالمی برادری نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے غزہ میں شہریوں کی زبردستی نقل مکانی کو “انتہائی خطرناک” قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانیہ، فرانس، کینیڈا، اور یورپی یونین نے اسرائیل پر امدادی راہداریاں کھولنے کے لیے دباؤ بڑھایا ہے، اور برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے ناکہ بندی کو “ظالمانہ” قرار دیا ہے۔

امریکی حمایت نے اسرائیل کو ایک بجار بنا کر رکھ دیا ہے جو صرف اور صرف تباہی مچانے پر آمادہ ہے۔ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی متعدد قراردادوں کوامریکہ نے ویٹو کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ماہرین اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو عالمی عدالت انصاف میں زیر سماعت ہے۔

اسرائیل کی پالیسی کی تنقید
اسرائیل کی پالیسی، جس کے تحت امدادی مراکز اور شہری اجتماعات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، کو عالمی سطح پر غیر انسانی اور جنگی جرائم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اقدامات فلسطینیوں کو بنیادی ضروریات سے محروم کر کے ان کی زندگی کو مزید مشکل بنانے کی دانستہ کوشش ہیں۔ غزہ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ “جائیں تو کہاں جائیں؟” کیونکہ کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی۔
غزہ میں اسرائیل کی بمباری اور امدادی مراکز پر حملوں نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پانی اور خوراک کے منتظر شہریوں کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک ایسی پالیسی کا عکاس ہے جو فلسطینیوں کی زندگیوں کو دانستہ طور پر برباد کررہی ہے۔
