qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

مانو کی  دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس  میں   تلنگانہ کو نظر انداز  کیا گیا۔

جب کبھی حیدرآباد کے علمی اور ادبی افق پر نظر ڈالی جاتی ہے، تو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) کا نام ایک روشن مینار کی طرح ابھرتا ہے۔ لیکن اس بار معاملے کا دوسرا رخ کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ آج حیدرآباد کے سنجیدہ حلقوں میں یہ سوال شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ آخر حیدرآباد  میں قائم اس یونیورسٹی کی بین الاقوامی کانفرنس میں حیدرآباد اور تلنگانہ کے  مقامی لوگوں کی نمائندگی اتنی کم کیوں ہے؟ یونیورسٹی کے شعبہ ترسیل عامہ و صحافت کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس، جس کا موضوع “ڈجیٹل دور میں بصری بیانیے: سینما، آواز، اسٹریمنگ اور اردو جمالیات” ہے، بلاشبہ ایک عمدہ علمی کاوش ہے۔ مگر اس کے بروچر میں درج مہمانوں کی فہرست دیکھ کر ایسا لگتا ہے جیسے چراغ تلے اندھیرے کا عملی مظاہرہ کیا جا رہا ہو۔   یہ کانفرنس 9 اور10 دسمبر کو ہونے والی ہے۔

ذرا اعداد و شمار کے اس آئینے میں حقیقت کا جائزہ لیجیے۔ یونیورسٹی کی طرف سے جاری کردہ اس کانفرنس بروچر میں کل 69 ممتاز مدعو شخصیات کے نام شامل ہیں۔ ان میں سے 35 شخصیات کا تعلق نئی دہلی سے ہے اور 25 کا تعلق ممبئی سے بتایا گیا ہے۔ یعنی اکیلے ان دو شہروں کو تقریباً 87 فیصد نمائندگی دے دی گئی ہے۔ اب اس کے مقابلے میں میزبان شہر حیدرآباد کے حصے میں کیا آیا؟ محض دو نام! یہاں یہ سوال ہرگز نہیں اٹھایا جا رہا کہ دہلی اور ممبئی کے نامور صحافیوں، فلم سازوں یا میڈیا ماہرین کو کیوں بلایا گیا؛ وہ یقیناً اس کے اہل ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حیدرآباد اور تلنگانہ میں باصلاحیت صحافیوں، فلم سازوں، اسکرین رائٹرز اور میڈیا پروفیشنلز کی کوئی کمی ہے؟ کیا اس تاریخی شہر نے اردو صحافت، دکنی تہذیب اور فلمی دنیا کو بڑے نام نہیں دیے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ یونیورسٹی اپنی ہی ریاست کے تخلیقی حلقوں کو اس پلیٹ فارم سے جوڑنے میں اتنی غافل نظر آتی ہے؟  

پروفیسر احتشام احمد خان ۔ ڈین شعبہ صحافت

جب اس ناانصافی پر تحقیق کی گئی اور  نمائندہ جنوبی سہارا کی جانب سے کانفرنس کے ڈائریکٹر اور ڈین شعبہ صحافت پروفیسر احتشام احمد خان سے فون پر رابطہ کر کے پوچھا گیا کہ حیدرآباد کی نمائندگی اس قدر کم کیوں رکھی گئی ہے، تو موصوف کا رویہ اور جواب  غیر ذمہ دارانہ رہا۔ وہ صاف سیدھے سوال کا جواب دینے کے بجائے الٹا یہ پوچھ بیٹھے کہ “آپ نام بتائیں کہ ہم حیدرآباد سے کن شخصیات کو مدعو کر سکتے ہیں؟” جب انہیں یاد دلایا گیا کہ مہمانوں کی فہرست تیار کرنا یونیورسٹی انتظامیہ کا کام ہے، تو وہ دفاعی پوزیشن میں آ گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 150 مہمانوں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے اور حیدرآباد کے اردو اخبارات کو میڈیا پارٹنر بنایا گیا ہے، حالانکہ مقامی اخبارات کی انتظامیہ نے اس طرح کے کسی بھی دعوے کی صریحاً تردید کی ہے۔ بات جب یونیورسٹی کے پروگراموں میں ماضی کی متنازعہ سیاسی شخصیات کی دعوت پر پہنچی، تو موصوف اپنا ضبط کھو بیٹھے اور بدتمیزی کرتے ہوئے فون رکھنے کو کہہ دیا۔ ایک مرکزی یونیورسٹی کے ذمہ دار پروفیسر کا یہ رویہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔  

اس پورے معاملے پر جب حیدرآباد کے کہنہ مشق صحافیوں اور دانشوروں سے بات کی گئی، تو ان کے دل کا درد زبان پر آ گیا۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق میڈیا کنسلٹنٹ اور سینئر صحافی میر ایوب علی خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی کا قیام حیدرآباد میں اس لیے عمل میں آیا تھا کہ یہ خطہ اردو کا مرکز مانے جاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی میں مقامی لوگوں اور طلبہ کے لیے کم از کم 20 فیصد ریزرویشن یا ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ آج جنوبی ہند کے طلبہ کی تعداد یہاں کافی کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ حیدرآباد آج فلم انڈسٹری کا ایک بڑا ہب ہے جہاں فلم اور او ٹی ٹی پر زبردست کام ہو رہا ہے، ایسے میں مقامی ٹیلنٹ کو نظرانداز کرنا کسی بھی طرح مناسب نہیں ہے۔  

وہیں، معروف بین الاقوامی شہرت یافتہ IIS آفیسر، صحافی  ڈاکٹر شجاعت علی  نے بھی اس بات پر زور دیا کہ حیدرآباد میں اردو یونیورسٹی کا ہونا اس خطے کا اعزاز ہے، لیکن یہاں کے مقامی وسائل، تخلیقی ذہنوں، صحافیوں اور فنکاروں کو مرکزی دھارے سے الگ تھلگ رکھنا اور بیرونی شہروں بالخصوص دہلی اور ممبئی پر ہی سارا انحصار کرنا تعلیمی و تہذیبی ناانصافی ہے۔ ڈاکٹر شجاعت علی کے مطابق، اس نوعیت کے بڑے تعلیمی و ثقافتی پلیٹ فارمز پر میزبان شہر کے فکری سرمائے اور مقامی ٹیلنٹ کو خاطر خواہ نمائندگی دینا انتہائی لازمی ہے تاکہ ادارے اور عوام کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں۔

سید فاضل حسین پرویز۔ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ

مشہور سینئر صحافی اور ہفت روزہ ‘گواہ’ کے ایڈیٹر ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے بھی اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام نے اس یونیورسٹی کے قیام کے لیے طویل جدوجہد کی تھی اور آج یہ ادارہ اردو کا تاج محل کہلاتا ہے۔ انہوں نے بڑے کھرے انداز میں کہا کہ باہر کے مہمانوں کو بلانے سے منتظمین کے ذاتی تعلقات تو بن سکتے ہیں لیکن یونیورسٹی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ حیدرآبادی صحافت نے ہمیشہ اس چراغ کو روشن رکھنے کے لیے ہر ناانصافی کو برداشت کیا ہے، لیکن “چراغ تلے اندھیرا” اب ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی اس خطے کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہے، لیکن اس کے اربابِ مجاز کو یہ سمجھنا ہوگا کہ باہر کے مہمانوں کی تکریم اپنی جگہ، مگر اپنے گھر کے باصلاحیت افراد کو اجنبی بنانا اس ادارے کی روایات کے منافی ہے۔ ہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن اور ذمہ داران سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، فہرستوں پر نظرثانی کریں اور حیدرآباد و تلنگانہ کے صحافیوں، فلم سازوں اور دانشوروں کو ان کا بنتا ہوا مقام اور مساوی نمائندگی عطا کریں۔  

سوال آج بھی تشنہ لب ہے اور گونج رہا ہے:

جب یونیورسٹی حیدرآباد میں ہے، تو اس کی اس بین الاقوامی کانفرنس میں آخر حیدرآباد کہاں ہے؟

( مرزا غنی بیگ  حیدر آبادی کی تحریر)

Related posts

اسرائل کا پکا نمک خوار ہےطیب اردوغان

qaumikhabrein

لکھنے پڑھنے لائق نہیں رہا سلمان رشدی

qaumikhabrein

نہٹور۔50 طبی والنٹیروں کو اعزاز سے نوازا جائے گا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment