
مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں ایران ایک ایسی طاقت کے طور پر ابھرا ہے جس نے اپنی جنگی حکمت عملی اور عسکری صلاحیتوں کے ذریعے عالمی طاقتوں کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ ایران-اسرائیل تنازع، جو 13 جون 2025ء کو اسرائیل کے ایران کی جوہری اور عسکری تنصیبات پر حملوں سے شروع ہوا، نے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور اس کے جوابی حملوں کی طاقت کو واضح کیا۔ ایران نے نہ صرف اپنے دشمنوں کے حملوں کا مقابلہ کیا بلکہ اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل اور امریکہ کی جنگی بالادستی کو چیلنج کیا۔

ایران کی جنگی حکمت عملی اور جوابی حملے
ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی میں میزائلوں اور ڈرونز کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جو اس کی عسکری طاقت کا ایک اہم حصہ بن چکے ہیں۔ 13 جون 2025ء کو اسرائیل کے حملوں کے بعد، ایران نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی اور سینکڑوں بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کے ذریعے اسرائیل کے شہروں، جیسے تل ابیب اور حیفہ، کو نشانہ بنایا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ان حملوں میں اسرائیل کے اہم تنصیبات، بشمول حیفہ بندرگاہ، مائیکروسافٹ کا دفتر، اور موساد کا ہیڈکوارٹر، تباہ ہو گئے۔ یہ حملے اس قدر شدید تھے کہ اسرائیلی شہری بنکروں میں راتیں گزارنے پر مجبور ہو گئے، اور بہت سے لوگوں نے ملک چھوڑ کر دوسرے ممالک کا رخ کیا۔

ایران کی یہ حکمت عملی نہ صرف دفاعی بلکہ جارحانہ بھی تھی۔ اس نے اپنے جدید ہائپرسونک میزائلوں، جیسے فتح-1 اور خیبر شکن، کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو ناکام بنایا۔ ایرانی حملوں نے اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور اس کی معاشی و عسکری طاقت کے بھرم کو توڑ دیا۔ ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان کے حملوں نے اسرائیل کے شہروں کو “غزہ کی طرح کھنڈر” میں تبدیل کر دیا، جو غزہ میں اسرائیلی مظالم کا ایک طرح سے انتقام تھا۔

امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات، خاص طور پر نطنز، اصفہان، اور فردو، کو تباہ کرنے کے لیے حملے کیے، لیکن ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ انہوں نے حملوں سے قبل ہی اپنے افزودہ یورینیم کو خفیہ مقامات پر منتقل کر دیا تھا۔ اگرچہ اسرائیلی حملوں میں ایران کو جانی نقصان اٹھانا پڑا، بشمول متعدد سائنسدانوں اور فوجی کمانڈروں کی ہلاکت، لیکن ایران نے اپنی جوہری صلاحیت کو محفوظ رکھا۔ امریکی بنکر بسٹر بم، جو زیرزمین تنصیبات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے، فردو کی تنصیب کو نقصان نہ پہنچا سکے، جو ایران کے جوہری پروگرام کا مرکز ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے تمام جنگی مقاصد حاصل کر لیے، لیکن یہ دعویٰ حقیقت سے دور تھا۔ ایران کے جوابی حملوں نے اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام، آئرن ڈوم، کو غیر موثر ثابت کیا اور اس کی عسکری و معاشی بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ نیتن یاہو کی جنگ بندی کی کوششیں اور عالمی ثالثوں سے مدد مانگنا ان کی ناکامی کی واضح علامت تھی۔

غزہ کا انتقام اور عوامی ردعمل
ایران کے حملوں نے نہ صرف اسرائیل کو نقصان پہنچایا بلکہ غزہ کے عوام کے لیے ایک علامتی فتح بھی ثابت ہوا۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف ایرانی حملوں کو ایک انتقامی کارروائی کے طور پر دیکھا گیا۔ غزہ کے لوگوں نے خوشی سے جھوم کر اور اسرائیلی رکاوٹوں کو توڑ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ایرانی حملوں نے خطے میں ایک نئی امید کو جنم دیا کہ اسرائیل کی بالادستی کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

ایران میں بھی عوامی جذبہ بلند تھا۔ اگرچہ اسرائیلی حملوں سے عام شہریوں سمیت بہت سے لوگ ہلاک ہوئے، لیکن ایرانی قوم نے اپنی حکومت کی حمایت جاری رکھی۔ پاسداران انقلاب کے مشیر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم جباری نے کہا کہ “ایرانی جوہری تنصیبات ایک حملے سے تباہ نہیں ہو سکتیں”، جو ایران کی مضبوطی کا واضح پیغام تھا۔

آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی اثرات
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا، جو عالمی تیل کی تجارت کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ اس فیصلے سے عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی نے عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ ایران کی اس حکمت عملی نے نہ صرف اس کی عسکری طاقت بلکہ اس کی جغرافیائی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
نتیجہ
فتح مقصد کی ہوتی ہے۔ حالیہ جنگ میں نہ اسرائل کے مقاصد پورے ہوئے اور نہ اسکے آقا امریکہ کے۔ بلکہ ایران کو اپنی عسکری اور تکنیکی ترقی کے جوہر دکھانے کا موقع نصیب ہو گیا۔ اس نے یہ بھی ثابت کردیا کہ جو وہ کہتا ہے اسے کرکے دکھاتا ہے۔حالیہ جنگ میں اسرائیل کی جس طرح کمر ٹوٹی ہے اور امریکہ کا سوپر پاور ہونے کا گھمنڈ چکنا چور ہوا ہے۔ وہ ان دونوں ملکوں کے لئے بہت زور کا جھٹکا ہے۔ اب یہ تو طے ہے کہ مستقبل میں نہ امریکہ اور نہ اسرائل ایران کو آنکھیں دکھانے اور اسکو اپنے آگے جھکنے کو مجبور نہیں کرسکیں گے۔ ایران کا نیو کلیائی پروگرام اب مزید شد و مد کے ساتھ آگے بڑھے گا۔ وہ جوہری معاملے پر اب اپنی شرطوں پر بات کریگا۔
