qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

امریکہ ایک بار پھر ایران کو دھوکا دیگا

ایرا ن کا یہ سمجھنا بالکل صحیح ہیکہ امریکہ پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ عین مذاکرات کے درمیان ایران پر دو مرتبہ  حملہ کرچکا ہے اب وہ تیسری بار پھر دھوکے سے ایران پر بڑا حملہ کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ٹرمپ نے ایران کو اڑتالیس گھنٹے میں آبنائے ہرمز  کو کھولنے کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ  ایران کی  بجلی تنصیبات کو برباد کردیا جائےگا۔ ایران نے جواب میں کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ مشرق وسطیٰ کو اندھیرے میں غرق کردیگا۔ٹرمپ نے مہلت پوری ہونے سے پہلے اعلان کردیا کہ وہ ایران پر اپنے حملے کو پانچ روز کے لئے  موخر کررہے ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت ہورہی ہے۔ حالانکہ ایران نے بات چیت  سے فورن انکار کردیا تھا۔

اس بیچ خبر ہیکہ امریکہ نے اپنی مشہور زمانہ 82ویں ایئربورن ڈویژن کے تین ہزار فوجی خطے  کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔ اسکےساتھ ہی ہزاروں میرینز بھی بحری جہازوں پر سوار مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ اس بات کا اشارہ ہیکہ پانچ روز کی بات کہکر در اصل ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں ۔درحقیقت یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے جسے سمجھنا آج کے حالات میں انتہائی ضروری ہے۔

82ویں ایئربورن ڈویژن امریکی فوج کا سب سے تیز ردعمل دینے والا یونٹ ہے جو دنیا میں کہیں بھی اٹھارہ گھنٹے کے اندر تعینات ہو سکتا ہے۔ اس یونٹ کی روانگی کوئی معمولی بات نہیں۔ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں جن میں ایران کے خارگ جزیرے پر قبضہ، آبنائے ہرمز کو زبردستی کھولنا اور ایران کے یورینیم ذخائر کو محفوظ بنانا شامل ہیں۔ خارگ جزیرہ اس لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے کہ یہ ایران کی نوے فیصد خام تیل کی برآمدات کا مرکز ہے — اس پر قبضہ ایران کی معیشت کو ایک ہی جھٹکے میں مفلوج کر سکتا ہے۔

یہ سوال فطری ہے کہ جب مذاکرات جاری ہیں تو فوج کیوں بھیجی جا رہی ہے؟ اس کا جواب امریکی سفارتکاری کے اس پرانے اصول میں ملتا ہے: نرمی سے بات کرو لیکن لاٹھی بڑی رکھو۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا کہ جب مذاکرات جاری ہیں، فوجی آپریشن بھی بلاروک ٹوک جاری ہے۔ یہ دباؤ کی سیاست کی کلاسک مثال ہے جس میں ایران کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو نتائج فوری اور سنگین ہوں گے۔

ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ امریکہ نے ایران کو پاکستان کے ذریعے ایک پندرہ نکاتی منصوبہ بھیجا ہے جس میں بحران کے حل کی شرائط درج ہیں۔ ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی کہ یہ نکات موصول ہوئے اور ان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا ثالث کے طور پر کردار اس لیے اہمیت رکھتا ہے کہ اسلام آباد کے تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور یہ دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول پیام رساں ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر حملے کو پانچ دن کے لیے موخر کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ مذاکرات اچھے اور نتیجہ خیز رہے۔ لیکن ماہرین اس مہلت کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ٹرمپ کی مہلتیں اکثر لچکدار رہی ہیں — اگر پانچ دن میں معاملہ حل نہ ہوا تو مہلت مزید بڑھ سکتی ہے، یا پھر اچانک صورتحال بالکل بدل سکتی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے بیانات کا مقصد تیل کی قیمتیں کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عمل کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔

ماہرین نے اس حوالے سے خبردار کیا ہے کہ ماضی میں کم از کم دو بار ایسا ہوا جب امریکہ اور ایران مذاکرات میں مصروف تھے اور اچانک فوجی کارروائی ہو گئی۔ اسرائیل کا کردار اس مزید پیچیدگی پیدا کرتا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں دی ہیں اور وہ کسی بھی وقت جاری مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال کو ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ ہے: غیر یقینی۔ امریکہ کی فوجی تعیناتی دباؤ کی سیاست ہے، مذاکرات وقت خریدنے کی کوشش ہے اور پانچ دن کی مہلت ایک سیاسی چال بھی ہو سکتی ہے ۔ لیکن ایک بات طے ہے: جب میدانِ جنگ میں ہزاروں فوجی موجود ہوں، جب بحری جہاز خطے میں گھوم رہے ہوں اور جب فریقین کے درمیان عدم اعتماد کی دیوار کھڑی ہو — تو کوئی بھی چھوٹی غلطی بڑی بھیانک صورتحال کو جنم دے سکتی ہے۔

دنیا اس وقت ایک خطرناک موڑ پر کھڑی ہے۔ سفارت کاری کو موقع ملنا چاہیے — لیکن بارود کی بو میں سفارت کاری کی خوشبو بہت جلد دم توڑ دیتی ہے — اور یہی وہ سبق ہے جو تاریخ بار بار دہراتی ہے۔

Related posts

ذکزکی کی رہائی کے لئے نائجیریا میں مظاہروں کا سلسلہ۔

qaumikhabrein

‘صحت مند نہٹور’ مہم کے تحت میونسپلٹی کے دو وارڈ س میں ہیلتھ کیمپ

qaumikhabrein

مولا علی کی ولادت کی خوشی میں شاندار محفل منقبت

qaumikhabrein

Leave a Comment