qaumikhabrein
Image default
uncategorizedٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

ایران کی فوجی حکمتِ عملی میں انقلابی تبدیلی۔۔

مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال میں ایران نے اپنی فوجی حکمتِ عملی میں ایک تاریخی اور دور رس تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف خطے کے توازنِ طاقت کو متاثر کرے گی بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

ایران کی خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ ملک کی مسلح افواج نے اپنا عسکری نظریہ دفاعی سے جارحانہ کر لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ لڑائی کے طور طریقوں کو بھی اس نئی سوچ کے مطابق تبدیل کر دیا گیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا ترجمان

یہ اعلان اس لیے غیر معمولی ہے کیونکہ اب تک ایران اپنی فوجی پالیسی کو عموماً دفاعی رنگ میں پیش کرتا رہا ہے۔ اس نئے موقف کا اظہار امریکی اور اسرائیلی دباؤ کے باوجود ایران کی بڑھتی ہوئی اعتماد کی علامت ہے۔

جنرل عبداللہ نے دشمن ممالک کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ ایران کی ہتھیار سازی کی صنعت تباہ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان سائنسدان جدید ترین آلات اور ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف ہیں جو دشمن کے تمام حساب کتاب کو درہم برہم کر دیں گے۔عبداللہ  کے مطابق

دشمن پہلے ہی میدانِ جنگ میں ایران کی طاقت کے کچھ پہلو دیکھ چکا ہے

آنے والے وقت میں نئی حیرتیں پیدا کی جائیں گی۔

جدید اور مؤثر ہتھیار دشمن کی منصوبہ بندی کو ناکام بنائیں گے

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اسرائیل نے حالیہ مہینوں میں ایران کی حمایت یافتہ قوتوں پر متعدد حملے کیے ہیں، جبکہ امریکہ نے ایران کے جوہری اور فوجی پروگراموں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

ایران کا یہ موقف واضح کرتا ہے کہ وہ اب محض ردِّعمل کی پالیسی پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ پہل قدمی کی حکمتِ عملی اختیار کرنے کو تیار ہے۔

اس پالیسی تبدیلی کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک، جو پہلے ہی ایران کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے فکرمند ہیں، اس اعلان کو انتہائی سنجیدگی سے لیں گے۔ اسی طرح اسرائیل کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ آئندہ کسی بھی تصادم کی صورت میں ایران صرف دفاع تک محدود نہیں رہے گا۔

دنیا کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ ایرن کی یہ نئی جارحانہ حکمتِ عملی عملی طور پر کیا شکل اختیار کرتی ہے اور اس کے جواب میں امریکہ اور اسرائیل کیا لائحہ عمل اپناتے ہیں۔لیکن یہ بات طے ہیکہ ایران کے دشمن جب اسکی دفاعی جنگی حکمت عملی سے دنگ رہ گئے تو جب انہیں اسکی جارحانہ جنگی حکمت عملی کا سامنا ہوگا تب انکی حالت کیا ہوگی۔

Related posts

ایران ایٹمی آلات کی تیاری کے میدان میں خودکفیل ہوگیا۔امریکہ اور اسرائیل کی نیند حرام

qaumikhabrein

اتر پردیش اسمبلی انتخابات۔کیا کرے مسلمان۔

qaumikhabrein

قران میں تبدیلی نا ممکن۔ مولانا اطہر کاظمی۔

qaumikhabrein

Leave a Comment