
آج اسرائل فلسطینیوں سے سخت ترین نفرت کرتا ہے اور فلسطین کا بچا کھچا حصہ بھی غصب کرنے کے چکر میں ہے لیکن اسی اسرائل کے بڑے بڑے لیڈر جو اسرائیلی ریاست میں اعلی عہدوں پر فائز ہوئے ایک دور میں فلسطینی ریاست کا شہری بننے کی خواہش رکھتے تھے۔ اسرائل کے سابق صدر شیمون پیریز کی وہ درخواست سامنے آئی ہے جو اس نے فلسطن کی شہریت حاصل کرنے کے لئے دی تھی۔

اس تصویر میں سابق اسرائیلی صدر شیمون پیریز کی طرف سے پیش کردہ سرکاری دستاویز دکھائی گئی ہے، جس میں انہوں نے 1937 میں فلسطینی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔ دستاویز پر ان کے سرکاری دستخط اور فلسطین کی حکومت کے تئیں وفاداری اور عہد کی قسم موجود ہے۔
ادستاویز میں ان کی درخواست بھی شامل ہے کہ ان کا نام “سزیمل” سے تبدیل کر کے “شیمون” کیا جائے۔ اصل دستاویز آج بھی اسرائیلی ریاستی آرکائیوز میں محفوظ ہے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ برطانوی مینڈیٹ فلسطین (1937–1947) کے دوران تقریباً 67,000 یہودیوں نے فلسطینی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔
ان درخواست دہندگان میں سے زیادہ تر مشرقی یورپ کے یہودی تھے، جن میں سے بہت سے بعد میں صیہونی قبضے کے ریاست میں اہم عہدوں پر فائز ہوئے۔
