
اسرائیلی پارلیمنٹ، جسے نیسٹ کہا جاتا ہے، ان دنوں ایک ایسے بل پر غور کر رہی ہے جسے دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ماہرین، قانونی ادارے، اور خود اسرائیلی فوج نے بھی غیر معمولی طور پر خطرناک قرار دیا ہے۔ یہ بل فلسطینی قیدیوں کے خلاف سزائے موت نافذ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے، اور اس کی حتمی منظوری اگلے چند دنوں میں متوقع ہے۔
یہ بل انتہائی دائیں بازو کی جماعت “اوتزما یہودیت” یعنی “یہودی طاقت” کی رکن پارلیمنٹ لیمور سن ہر-میلیچ نے پیش کیا۔ وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے بھی اس کی بھرپور حمایت کی۔ بل نومبر 2025 میں پارلیمنٹ کی پہلی ریڈنگ میں پاس ہوا، جہاں یہ 39 کے مقابلے میں 16 ووٹوں سے منظور ہوا۔ 25 مارچ 2026 کو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے دو ہزار سے زائد اعتراضات کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسے دوسری اور تیسری ریڈنگ کے لیے آگے بڑھا دیا — جو بل کی منظوری کے آخری دو مراحل ہیں۔

اس بل کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ جو فلسطینی قیدی “دہشت گردانہ کارروائی” کے دوران کسی اسرائیلی کے قتل کا مرتکب ٹھہرایا جائے، اسے پھانسی دی جائے۔ سزا کے اعلان کے 90 دن کے اندر حکم پر عمل درآمد لازم ہوگا اور اسے معاف کرنے یا کم کرنے کا کوئی قانونی راستہ نہیں ہوگا۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں فوجی عدالتوں کو اختیار ہوگا کہ وہ محض سادہ اکثریت سے، یعنی تین ججوں میں سے دو کے ووٹ سے، سزائے موت سنا سکیں، چاہے استغاثہ نے یہ سزا مانگی بھی نہ ہو۔ عدالتی اتفاق رائے کی شرط ختم کر دی گئی ہے اور اپیل کے تمام راستے بھی بند کر دیے گئے ہیں۔
جو بات اس بل کو سب سے زیادہ قابل اعتراض بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ قانون صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوتا ہے، اسرائیلی شہریوں پر نہیں۔ اگر ایک اسرائیلی یہودی اسی نوعیت کا جرم کرے تو وہ زیادہ سے زیادہ عمر قید کا سامنا کرتا ہے، جبکہ فلسطینی کو پھانسی دی جائے گی۔ ابتدائی مسودے میں “دہشت گردی کے شکار” کو “اسرائیلی شہری” تک محدود کیا گیا تھا لیکن بعد میں یہ شق اس لیے ہٹائی گئی تاکہ امتیازی سلوک کے الزام سے بچا جا سکے — تاہم اس تبدیلی سے بل کا عملی اطلاق تبدیل نہیں ہوا۔

خود اسرائیلی فوج نے اس بل پر تشویش ظاہر کی ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور اس کے نتیجے میں اسرائیلی فوجی کمانڈروں کو بیرونی ممالک کی عدالتوں اور بین الاقوامی ٹریبیونلز میں گرفتاری کے وارنٹس کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے “رنگ و نسل کی بنیاد پر سزائے موت” قرار دیا اور کہا کہ یہ اسرائیل کے نسل پرستانہ نظام کو مزید مضبوط کرنے کا ایک ہتھیار ہے۔ اقوام متحدہ کے 12 آزاد ماہرین نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یہ قانون واپس لے، اور پھانسی کے طریقے کے طور پر تختہ دار کو “اذیت اور ظالمانہ سلوک” قرار دیا۔ اسرائیلی انسانی حقوق تنظیم بی-تسالیم کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر یولی نوواک نے کہا کہ اسرائیل پہلے سے ہی فلسطینیوں کو حراستی مراکز میں اور میدان جنگ میں مار رہا ہے — یہ قانون اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے۔
اس بل کے بارے میں اعداد و شمار بھی قابل توجہ ہیں۔ اکتوبر 2023 کے بعد سے تقریباً 100 فلسطینی قیدی اسرائیلی حراست میں جان گنوا چکے ہیں، جن میں سے بعض کو مبینہ طور پر تشدد یا جنسی زیادتی کے نتیجے میں ہلاک کیا گیا۔ اس وقت 10 ہزار سے زائد فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں جہاں تشدد، بھوک اور طبی سہولیات کے فقدان کی رپورٹیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس پس منظر میں یہ قانون فلسطینی حقوق کی تنظیموں کے نزدیک محض قانون سازی نہیں بلکہ ایک ہتھیار ہے۔اسرائیلی حزب اختلاف کے بعض ارکان نے بھی اس بل کی مخالفت کی ہے۔ بائیں بازو کی جماعت “ڈیموکریٹس” کے رکن پارلیمنٹ ربی گلاد کریو نے کہا کہ یہ بل کسی بھی جمہوری ملک میں موجود نہیں اور اس میں سنگین اخلاقی خامیاں اور گہری سلامتی کی غیر ذمہ داری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بن گویر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے اور اتحادی جماعتیں انتخابات سے پہلے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اس بل کو آگے بڑھا رہی ہیں۔
