qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دی جائےگی۔

کتنے بے غیرت اور بے حس ہیں یہ صیہونی۔ ایک طرف  جاری جنگ میں ہزاروں اسرائیلی ہلاک ہو رہے ہیں  ملک کا بنیادی ڈھانچہ ایرانی حملوں میں تباہ ہورہا ہے اور دوسری طرف صیہونی وزرا  جشن مناتے ہوئے شراب کے جام لنڈھا رہے ییں۔ یہ خوشی اس لئے منائی جارہی ہیکہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سزا والا قانون پاس کردیا ہے۔موت کا جشن  دنیا میں صرف صیہونی ہی منا سکتے ہیں۔

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ایک قانون منظور کیا جس کے تحت فوجی عدالتوں میں جان لیوا حملوں کے مرتکب قرار دیے گئے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو ڈیفالٹ سزا قرار دیا گیا ہے۔ یہ قانون وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کے وعدے کی تکمیل ہے۔

یہ قانون صرف ان فلسطینیوں پر لاگو ہوگا جو قتل کے مرتکب پائے جائیں اور جن کے حملوں کا مقصد “اسرائیل کے وجود کو ختم کرنا” ہو۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سزا فلسطینیوں کو دی جائے گی، جبکہ ایسے ہی جرائم کے مرتکب یہودی اسرائیلیوں کو نہیں۔

اس قانون سازی پر اسرائیل کو بین الاقوامی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جو پہلے سے ہی مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور غزہ میں جنگ کے حوالے سے جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔

اس قانون میں یہ شق بھی شامل ہے کہ سزا سنائے جانے کے 90 دن کے اندر پھانسی دی جائے، البتہ تاخیر کی کچھ گنجائش ہے لیکن معافی کا کوئی حق نہیں۔

اسرائیل نے 1954 میں قتل کے جرم میں سزائے موت ختم کر دی تھی۔ سویلین عدالت کے ذریعے اسرائیل میں پھانسی دی جانے والی واحد شخصیت ایڈولف آئیخمان کی تھی، جو نازی ہولوکاسٹ کا ایک اہم ذمہ دار تھا، اور اسے 1962 میں پھانسی دی گئی تھی۔ مغربی کنارے کی فوجی عدالتیں پہلے سے فلسطینی مجرمین کو سزائے موت سنا سکتی ہیں، لیکن ابھی تک ایسا نہیں کیا گیا۔

اس قانون کو انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر نے فروغ دیا، جنہوں نے ووٹنگ سے قبل کے دنوں میں پھندے کی شکل کے بیج لگائے ہوئے تھے۔

بن گویر نے پارلیمنٹ میں کہا: یہ مظلوموں کے لیے انصاف کا دن ہے، دشمنوں کے لیے خوف کا دن ہے۔ جو دہشت گردی کا راستہ چنتا ہے وہ موت چنتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اس قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کو ڈرانے کی ایک ناکام کوشش قرار دیا۔

عباس کے دفتر نے ایک بیان میں کہا: “اس طرح کے قوانین اور اقدامات نہ تو فلسطینی عوام کے عزم کو توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی استقامت کو کمزور کر سکتے ہیں۔ اور نہ ہی یہ انہیں آزادی، خودمختاری اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اپنی جائز جدوجہد سے روک سکتے ہیں۔”

Related posts

احتجاجی شاعر گوہر رضا اور معروف صحافی قمر آغا امروہا میں

qaumikhabrein

امروہا میں ‘عالمی جائزہ’ کے ‘صادقین نمبر’ کا اجرا۔

qaumikhabrein

پاکستان۔ شیعہ خواتین کی طلاق اور میراث کے مقدموں کا فیصلہ اب فقہ جعفری کے مطابق ہوگا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment