qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگسیاستقومی و عالمی خبریں

برصغیر میں پہلا قرآن چھاپنے والے شہید مولوی محمد باقر تھے ۔

 مولوی محمد باقر دہلوی پہلے  ایسےاردو صحافی ہی نہیں تھے  جنہوں  نے ملک کے لئے جام شہادت نوش کیا  بلکہ   بر صغیر میں پہلی بار قرآن مجید چھاپنے کا سہرا بھی ان ہی کے سر ہے۔ مگر افسوس ہیکہ خود مسلمان مولوی باقر کے تاریخی کارناموں سےواقف نہیں ہیں۔ مسلمانوں کو تو یہ تقفیق بھی نصیب نہیں ہوتی کی سولہ ستمبر کو مولوی محمد باقر کی شہادت کی یاد بھی منا لیں۔16 ستمبر 1857 کو میجر ہڈسن نے بغیر مقدمہ چلاۓ دہلی میں شہید کر دیا تھا۔

مولوی محمد باقر برصغیر کی تاریخ میں ایسے  شخص ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے علمی، دینی اور سیاسی مستقبل پر گہرے اثرات چھوڑے۔ برصغیر میں قرآنِ مجید کی پہلی بار اشاعت کا سہرا بھی اسی بہادر مسلمان عالم، مولوی محمد باقر دہلوی کے سر ہے۔ وہ نہ صرف برصغیر کے پہلے مسلم صحافی تھے بلکہ ایک نڈر مجاہد بھی تھے جنہوں نے علم اور سچ کی شمع روشن کرنے کے لیے اپنی جان تک قربان کر دی۔

انیسویں صدی کے آغاز میں جب برطانوی سامراج نے برصغیر میں اپنے قدم مضبوط کر لیے، تو انہوں نے مسلمانوں کو علمی اور دینی لحاظ سے کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ عیسائی مشنری ادارے بائبل کی بڑے پیمانے پر اشاعت کر رہے تھے، جبکہ مسلمانوں کے لیے قرآنِ مجید تک رسائی مشکل تھی، کیونکہ وہ صرف ہاتھ سے نقل کیے گئے نسخوں میں دستیاب تھا۔ اس وقت کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ قرآن کو پریس پر شائع کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مولوی محمد باقر دہلوی نے اس تصور کو حقیقت میں بدلنے کا فیصلہ کیا۔ مولوی محمد باقر دہلوی نے 1835 میں دہلی میں ایک پریس قائم کیا، جو برصغیر میں مسلمانوں کا پہلا پریس تھا۔ ان کا مقصد صرف اخبارات اور کتابیں چھاپنا نہیں تھا بلکہ قرآنِ کریم کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا بھی تھا۔ بالآخر 1837 میں، ان کے پریس سے پہلا چھپا ہوا قرآنِ مجید منظر عام پر آیا۔ یہ ایک ایسا انقلابی اقدام تھا جس نے برصغیر میں دینی علوم کی ترویج کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی۔

لیکن جیسے ہی قرآنِ کریم کی اشاعت کا عمل شروع ہوا، برطانوی حکام نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ وہ مسلمانوں میں دینی شعور بیدار ہونے سے خائف تھے اور ہر وہ کوشش روکنا چاہتے تھے جو مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کا باعث بنتی۔ مولوی محمد باقر دہلوی پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنا پریس بند کر دیں، مگر وہ اپنے موقف پر ڈ ٹے رہے۔

یہی پریس آگے چل کر ایک اور تاریخ ساز کام کا ذریعہ بنا، جب مولوی محمد باقر دہلوی نے 1836 میں برصغیر کے پہلے مسلم اخبار، “دہلی اردو اخبار” کی بنیاد رکھی۔ یہ اخبار مسلمانوں کی آواز بن گیا اور برطانوی سامراج کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے لگا۔ مولوی محمد باقر دہلوی نے اپنی تحریروں کے ذریعے عوام میں بیداری پیدا کی، ظلم کے خلاف آواز بلند کی اور انگریزوں کی ناانصافیوں کو بے نقاب کیا۔

1857 میں جب جنگِ آزادی کا آغاز ہوا، تو مولوی محمد باقر دہلوی نے کھل کر انقلابیوں کا ساتھ دیا۔ ان کے اخبار نے برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کو مزید ہوا دی۔ مگر یہ بہادری ان کے لیے خطرناک ثابت ہوئی۔ جنگِ آزادی کی ناکامی کے بعد انگریزوں نے انہیں گرفتار کر لیا اور 16 ستمبر 1857 کو میجر ہڈسن نے بغیر مقدمہ چلاۓ دہلی میں گولی مار کر شہید کر دیا۔ وہ برصغیر کے پہلے صحافی تھے جو آزادی اور سچائی کی راہ میں اپنی جان قربان کر گئے۔

مولوی محمد باقر دہلوی کی خدمات تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جانے کے قابل ہیں۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے برصغیر میں قرآنِ مجید کی اشاعت کو ممکن بنایا، مسلمانوں کے لیے پہلا پریس قائم کیا، پہلا مسلم اخبار نکالا، اور حق کی خاطر اپنی جان تک دے دی۔ آج جب چھپا ہواقرآن ہر شخص  کو آسانی سے دستیاب ہے اوراردو اخبارات آزادانہ طور پر شائع ہو رہے ہیں تو ہمیں اس عظیم صحافی اور مجاہد آزادی شہید کا شکر گزار ہونا چاہئے۔۔

Related posts

شیعہ دشمن قوتیں مرجعیت کی طاقت کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔۔ مولانا شہوار نقوی

qaumikhabrein

عراقی عوام کا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ

qaumikhabrein

تیونس۔ صدر نے وزیر اعظم کو برخاست کردیا۔

qaumikhabrein

Leave a Comment