qaumikhabrein
Image default
ٹرینڈنگقومی و عالمی خبریں

نادیہ ندیم: جدوجہد کی ایک عظیم داستان

دنیا کی تاریخ میں ایسے بہت سے چہرے ہیں جو نہ صرف اپنی کامیابیوں سے متاثر کرتے ہیں بلکہ اپنی جدوجہد اور لچک سے دوسروں کو امید کی کرن دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک نام ہے نادیہ ندیم کا۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی یہ خاتون، جو اب ڈنمارک کی شہری ہیں، ایک پروفیشنل فٹ بالر، سرجن، اور 11 زبانوں کی ماہر ہیں۔ ان کی زندگی ایک ایسی کہانی ہے جو غربت، تشدد، اور مہاجرت کی تکلیفوں سے گزرتے ہوئے عالمی شہرت اور کامیابی تک پہنچتی ہے۔ فوربز میگزین نے 2018 میں انہیں “انٹرنیشنل اسپورٹس میں سب سے طاقتور خواتین” کی فہرست میں 20ویں نمبر پر شامل کیا۔

ابتدائی زندگی اور خاندانی جدوجہد

نادیہ ندیم کا جنم 2 جنوری 1988 کو افغانستان کے شہر ہرات میں ایک معزز اور خوشحال خاندان میں ہوا۔ ان کے والد افغان نیشنل آرمی کے جنرل تھے، جو ملک کی سلامتی کے لیے وقف تھے۔ نادیہ کی بچپن خوشیوں سے بھری تھی، لیکن یہ سکون زیادہ دیر نہ چلا۔ جب نادیہ صرف 11 سال کی تھیں تو 2000 میں طالبان نے ان کے والد کو قتل کر دیا۔ یہ سانحہ نہ صرف خاندان کی زندگی بلکہ ان کی بقا کا سوال بن گیا۔ طالبان کی دہشت گردی سے خوفزدہ ہو کر نادیہ، ان کی ماں، اور چار بہنیں افغانستان سے فرار ہوئیں۔

ان کی ہمت اور ہمت افزائی کی ایک مثال یہ ہے کہ خاندان نے ایک خطرناک سفر اختیار کیا۔ وہ ایک ٹرک کے ذریعے پاکستان اور پھر یورپ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ سفر ہزاروں کلومیٹر کا تھا، جس میں خطرے، بھوک، اور موت کا سایہ منڈراتا رہا۔ بالآخر، 2001 میں وہ ڈنمارک پہنچ گئیں، جہاں انہیں ایک ریفیوجی کیمپ میں پناہ ملی۔ یہاں زندگی نئی مشکلات سے بھری تھی۔ نادیہ نے بتایا ہے کہ کیمپ میں رہتے ہوئے انہیں زبان کی رکاوٹ، ثقافتی فرق، اور غربت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان کی ماں نے خاندان کو سنبھالا اور بچوں کو تعلیم کی اہمیت سکھائی۔  ان کی خالہ، مشہور افغان گلوکارہ عریانہ سعید، بھی خاندان کی فخر ہیں۔

ڈنمارک میں تعلیم اور فٹ بال کی شروعات

ڈنمارک پہنچنے کے بعد نادیہ نے جلد ہی مقامی زبان اور ثقافت سیکھی۔ انہوں نے آلبورگ شہر میں اعلیٰ اسکول کی تعلیم مکمل کی۔ اس دوران، 12 سال کی عمر میں ریفیوجی کیمپ میں ہی انہوں نے فٹ بال کی کھوج کی۔ پہلے تو انہیں لڑکی ہونے کی وجہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ افغانستان میں لڑکیوں کا کھیلنا عام نہ تھا۔ لیکن نادیہ نے ہار نہ مانی۔ انہوں نے مقامی کلب “بی 52 آلبورگ” میں شمولیت اختیار کی، جہاں ان کی صلاحیتوں نے سب کو حیران کر دیا۔

فٹ بال نادیہ کے لیے محض کھیل نہ تھی، بلکہ یہ ان کی نئی زندگی کا ذریعہ بن گئی۔ انہوں نے بتایا ہے کہ “فٹ بال نے مجھے وہ زبان دی جو سب سے آسان تھی – یہ عالمی زبان ہے۔” 2009 میں انہیں ڈنمارک کی نیشنل ٹیم میں جگہ ملی، اور تب سے وہ اس ٹیم کی سب سے بڑی اسکوررز میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے کریئر کے اعداد و شمار حیرت انگیز ہیں: 100 سے زائد میچز کھیلے اور تقریباً 200 سے زیادہ گول کیے۔ انہوں نے 2016 اور 2017 میں ڈنمارک کی بہترین فٹ بالر کا ایوارڈ حاصل کیا۔ کلب سطح پر، انہوں نے فرانس کی پیرس سینٹ جیرمین (پی ایس جی)، امریکہ کی پورٹ لینڈ تھورنز، اور انگلینڈ کی مینچسٹر سٹی جیسی ٹیموں سے کھیلا۔ 2017 میں انہوں نے امریکی نیشنل ویمنز ساکر لیگ کا ٹائٹل جیتا، جبکہ 2020-21 میں فرانسیسی لیگ کا۔ حال ہی میں، 2025 میں، وہ اطالوی ٹیم اے سی ملیان سے ہمربی (سویڈن) کی طرف لون پر منتقل ہوئیں۔

فٹ بال کے علاوہ، نادیہ کی ذہانت ان کی زبانوں کی مہارت میں جھلکتی ہے۔ وہ 11 زبانیں فراٹے کے ساتھ بول سکتی ہیں: ڈینش، انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، جرمن، فارسی، دری، اردو، ہندی، عربی، اور لاطینی۔ یہ صلاحیت انہیں عالمی سطح پر بات چیت کرنے اور ثقافتوں کو جوڑنے میں مدد دیتی ہے۔

طبی کیریئر اور سماجی کام

نادیہ کی زندگی صرف فٹ بال تک محدود نہ رہی۔ انہوں نے ہمیشہ تعلیم کو ترجیح دی۔ انہوں نے آروہس یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی، جو فٹ بال سیزن کے دوران ریموٹ طور پر پڑھیں۔ 2022 میں انہوں نے ڈاکٹر آف میڈیسن کی ڈگری حاصل کر لی اور اب ریکنسٹرکٹو سرجری (بازسازی سرجری) میں مہارت رکھتی ہیں۔ ان کا خواب ہے کہ فٹ بال چھوڑنے کے بعد مکمل طور پر سرجن بنیں۔ 2020 میں، وہ پہلے ہی سرجری میں مدد کر رہی تھیں۔

نادیہ کی سماجی خدمات بھی قابلِ ستائش ہیں۔ وہ یونیسکو کی “لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم کے لیے چیمپئن” ہیں، جو 2019 میں انہیں ملا۔ وہ مہاجرین، خاص طور پر افغان لڑکیوں کے حقوق، صنفی مساوات، اور تعلیم کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کی تنظیم “نادیہ ندیم فاونڈیشن” نے ہزاروں مہاجر بچوں کو تعلیم اور کھیل کی سہولیات فراہم کی ہیں۔ نائیکی کے ساتھ ان کا 2017 کا معاہدہ بھی تاریخی ہے – وہ پہلی ڈینش ویمن فٹ بالر تھیں جنہیں نائیکی نے سائن کیا۔ ان کی خود نوشت “مائن ہسٹوری” (Min Historie) بھی بہت مقبول ہوئی، جو ان کی جدوجہد کی کہانی بیان کرتی ہے۔

عالمی شہرت اور چیلنجز

فوربز کی فہرست میں ان کی جگہ نہ صرف ان کی کامیابیوں کی وجہ سے ملی بلکہ ان کی متاثر کن شخصیت کی وجہ سے بھی۔ 2018 میں، انہیں “انٹرنیشنل اسپورٹس میں سب سے طاقتور خواتین” میں 20ویں رینک دی گئی۔ نادیہ کی کہانی نے دنیا بھر میں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا، خاص طور پر مہاجرین اور خواتین کو۔ انہوں نے یورپی چیمپئن شپ میں برونز میڈل جیتا اور ڈنمارک کو یورو 2022 میں فائنل تک پہنچایا۔

تاہم، ان کی زندگی بغیر چیلنجز کے نہ گزری۔ 2022 میں، ورلڈ کپ کے دوران ان کی ماں کا ایک حادثے میں انتقال ہو گیا، جو ان کے لیے بڑا صدمہ تھا۔ اس کے باوجود، نادیہ نے ہمت نہ ہاری۔ ان کی نیٹ ورتھ 2025 تک 1 سے 5 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے، جو فٹ بال، اینڈورسمنٹس، اور طبی کیریئر سے آئی۔

مثالی زندگی

نادیہ ندیم کی زندگی ایک زندہ مثال ہے کہ جدوجہد اور عزم سے کوئی بھی منزل حاصل کی جا سکتی ہے۔ افغانستان کی ایک چھوٹی لڑکی سے ڈنمارک کی عالمی اسٹار بننے تک کا  انکا سفر ہمیں سکھاتا ہے کہ حالات کتنے بھی مشکل ہوں، خوابوں کو چھوڑنا نہیں چاہیے۔ نادیہ نہ صرف فٹ بال کی دنیا کی ایک ہیروئن ہیں بلکہ خواتین کی طاقت اور انسانی حقوق کی ایک آواز بھی۔ ان کی کہانی ہر اس شخص کے لیے روشنی ہے جو تاریکی میں روشنی کی تلاش میں ہے۔

Related posts

امروہا کے مرثیہ نگار آئمہ اطہار کے سوا کسی کی سرپرستی کے محتاج نہیں رہے۔ ناشر نقوی

qaumikhabrein

بھوپال کی علمی , ادبی اور سماجی خدمات ناقابل فراموش۔حسن ضیا

qaumikhabrein

اداکار عادل حسین بہترین اداکار کے طور پر نامزد

qaumikhabrein

Leave a Comment